حدیث نمبر 3
٣: دین کے دلائل کو سب سے بہتر اور مکمل سمجھنے والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تھے
قَالَ الْعِرْبَاضُ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ:أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
عرباض رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کس بات کی نصیحت فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اولی الامر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ بلاشبہ تم میں سے جو زیادہ عرصہ زندہ رہا تو وہ عنقریب بہت اختلاف دیکھے گا، پس تمہیں چاہیے کہ میری سنت اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اس سے تمسک اختیار کرو اور اسے جبڑوں کے ساتھ مضبوطی سے تھامے رہو، اور تم (دین میں) نئے نئے کاموں سے بچو، کیونکہ (دین میں) ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ (جہنم کی) آگ ہے ۔
[سنن ابي داود : 4607]
ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ، حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ
میں تمہیں روشن شریعت پر چھوڑ رہا ہوں، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، میرے بعد وہی شخص کج روی اختیار کرے گا، جو ہلاک ہونے والا ہے، تم میں سے جو کوئی زندہ رہے گا، وہ جلد بہت سے اختلاف دیکھے گا، لہذا تمہیں میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا جو طریقہ معلوم ہو، اسی کو اختیار کرنا، اسے داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا اور حکمران کی اطاعت کرنا، چاہے وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ مومن نکیل لگے ہوئے اونٹ کی طرح ہے، جدھر اسے لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے۔
(سنن ابن ماجه : 43)
تشریح
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایسے واضح اور روشن دین پر چھوڑ کر گئے ہیں جس میں کسی قسم کی تاریکی یا ابہام نہیں۔ اس راستے سے وہی شخص انحراف کرتا ہے جو ہلاکت کا شکار ہو۔
اور یہ انحراف دراصل ان بدعات کے ذریعے پیدا ہوتا ہے جو دین میں ایجاد کی جاتی ہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعت سے نہایت سختی کے ساتھ خبردار فرمایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ
اور بدترین کام (دین میں) نئے کام (ایجاد کرنا ) ہیں، اور (دین میں) ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
(سنن نسائی حدیث: 1579)
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کو بھی۔ اور وہ ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہیں۔
اور بے شک، صحابہ رضی اللہ عنہم کی پیروی کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب میں واجب قرار دیا۔
فَإِنۡ ءَامَنُوا۟ بِمِثۡلِ مَاۤ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهۡتَدَوا۟ۖ وَّإِن تَوَلَّوۡا۟ فَإِنَّمَا هُمۡ فِی شِقَاقࣲۖ فَسَیَكۡفِیكَهُمُ ٱللَّهُۚ وَهُوَ ٱلسَّمِیعُ ٱلۡعَلِیمُ
اگر وه تم جیسا (یعنی صحابہ جیسا) ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منہ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے واﻻ ہے۔
(سورۃ البقرہ 137)
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَـٰجِرِینَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِینَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَـٰنࣲ رَّضِیَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوا۟ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّـٰتࣲ تَجۡرِی تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۤ أَبَدࣰاۚ ذَ ٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِیمُ
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔
(سورۃ التوبہ 100)
یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ ہے، جن کی پیروی کرنے سے منافقین نے انکار کیا، جس پر اللہ نے انہیں سختی سے ملامت کی، فرمایا ۔
وَإِذَا قِیلَ لَهُمۡ ءَامِنُوا۟ كَمَاۤ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوۤا۟ أَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَاۤءُۗ أَلَاۤ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلسُّفَهَاۤءُ وَلَـٰكِن لَّا یَعۡلَمُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اور لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ایمان ﻻئیں جیسا بیوقوف ﻻئے ہیں، خبردار ہوجاؤ! یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں۔
(سورۃ البقرہ 13)
مزید برآں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے تہتر فرقوں میں بٹ جانے کا ذکر فرمایا اور یہ بتایا کہ ان سب میں سے صرف ایک کے سوا باقی سب آگ میں جائیں گے، تو آپ سے پوچھا گیا: وہ کون سا فرقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے۔
(سنن ترمذی: 2641)
اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی کتاب میں یہ بھی واضح فرماتا ہے کہ جو شخص صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقے اور منہج کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرے گا، اللہ اسے آگ کے عذاب میں ڈالے گا۔
وَمَن یُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَیَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیلِ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا
جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔
(سورۃ النساء 115)
لہذا، دین وہی ہے جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے سمجھا، کیونکہ وہ وحی کے وقت موجود تھے۔ اور امت پر لازم ہے کہ وہ انہی کے طریقے کی پیروی کرے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اصول السنہ کے آغاز میں فرمایا۔
أُصُولُ السُّنَّةِ عِندَنَا التَّمَسُّكُ بِمَا كَانَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَالاقْتِدَاءُ بِهِمْ
ہمارے نزدیک اصولِ سنت یہ ہیں کہ اس چیز سے تمسک اختیار کیا جائے جس پر اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ،اور ان کے طریقے پر چلنا ۔
اور یہی وہ معاملہ ہے جس میں تمام فرقے گمراہ ہو گئے۔