کیا دین کا علم حاصل کرنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں؟ آپ کا موبائل آپ کا وقت چرا رہا ہے، لہٰذا سوشل میڈیا کا استعمال محدود کریں۔

سوشل میڈیا کس طرح دل کی توجہ ہٹا کر ہمیں دین، علم اور اہلِ خانہ سے دور کر دیتا ہے۔

اکثر ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب کسی بھائی یا بہن، یا بیٹے یا بیٹی کو نصیحت کی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے۔

آپ قرآنِ مجید کی تلاوت کے لیے، علم حاصل کرنے کے لیے، کوئی نفع بخش چیز پڑھنے کے لیے، یا ایسے اعمال اختیار کرنے کے لیے جو آپ کو آپ کے دین یا دنیا میں فائدہ دیں، چاہے دن میں صرف ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو، وقت کیوں نہیں نکالتے؟ تو وہ یہی جواب دیتا یا دیتی ہے۔

“میرے پاس وقت نہیں ہے۔”

لیکن ہماری عملی زندگی کی حقیقت اس دعوے کی کھلی تردید کرتی ہے، کیونکہ ہم خوشی سے اپنے دن کے طویل اوقات موبائل فون پر اسکرول کرنے اور ادھر اُدھر سوائپ کرنے میں گزار دیتے دیتے ہیں، اور خود کو ایسے مشاغل میں الجھائے رکھتے ہیں جن میں نہ ہمارے دین کا کوئی فائدہ ہے، نہ ہماری گھریلو زندگی کا، اور نہ ہی ہمارے معاشرے اور کمیونٹی کا ، یوں ہم یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔

لہٰذا ہمیں اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ وقت کی قلت کا نہیں ہے، بلکہ اصل خرابی ہمارے اپنے اندر پائی جاتی ہے،ہمارے دین کے التزام میں، ہماری سوچ میں اور ہمارے طرزِ عمل میں۔ یہی وہ اصل مقام ہے جہاں خرابی واقع ہوئی ہے۔ پس اس حقیقت کو پہچانیں اور اس کی اصلاح کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوشش کریں۔ مسلمان (اور بہت سے سلفی بھی)، میرے نزدیک، سوشل میڈیا کے شدید طور پر عادی ہو چکے ہیں، اور ہم اللہ ہی سے مدد اور توفیق کے طالب ہیں۔

اور ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ یہ معاملہ معمولی ہے۔ آپ کی یہ زندگی، اس کی سانسیں، اس کے لمحات اور اس کے گزرتے ہوئے سیکنڈز ،اس دنیا میں آپ  کا اصل خزانہ ہیں۔ اور یہ خزانہ اللہ عزوجل نے محدود مقدار میں مقرر فرمایا ہے۔ اس نے اسے آپ کو بطور آزمائش عطا کیا ہے، اور اس میں سے جو حصہ گزر چکا ہے وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ لہٰذا جو باقی رہ گیا ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ، اور اس قیمتی خزانے کو ایسی چیزوں میں ضائع نہ کریں جن میں بہت کم فائدہ ہو یا بالکل ہی فائدہ نہ ہو، چہ جائیکہ آپ اپنا وقت ایسی چیزوں میں برباد کریں جو آپ کے دین، آپ  کے اہلِ خانہ اور آپ  کے دنیاوی معاملات کے لیے نقصان دہ ہوں۔

،اور حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا

يا ابن آدم، إنما أنت أيام، فإذا ذهب يوم ذهب بعضك

اے ابنِ آدم! تو دنوں کے مجموعے کے سوا کچھ نہیں ہے؛ جب بھی ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرے وجود

کا ایک حصہ بھی اس کے ساتھ رخصت ہو جاتا ہے۔

(الزهد، امام احمد، رقم: 1586)

میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے موبائل فونز میں موجود ایپس کو یا تو بالکل حذف کر دیں، یا ان کے استعمال کو سختی کے ساتھ محدود کر لیں، خصوصاً سوشل میڈیا ایپس: ٹک ٹاک (اسے تو مکمل طور پر ختم کرنا چاہیے)، ایکس/ٹوئٹر (اسے صرف دس منٹ روزانہ تک محدود رکھا جائے، تاکہ دروس کے اوقات یا تازہ مضامین کے روابط معلوم کیے جا سکیں)، فیس بک (اس کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں، لہٰذا بہتر ہے کہ اسے ڈیلیٹ کر دیا جائے)، اور انسٹاگرام (یہ بھی غیر ضروری ہے، اس لیے اسے بھی ڈیلیٹ کرنا ہی بہتر ہے)۔

آپ کو ان ایپس سے جو معمولی فائدہ حاصل ہوتا ہے، وہ ان کے نقصانات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ بنیادی طور پر گمراہی کے پلیٹ فارمز ہیں جو اسلام (اور سلفیت) کے دشمنوں نے بنائے ہیں، تاکہ گناہ، نافرمانی، شک و شبہات، الجھن اور معاشروں میں اختلاف پھیلایا جا سکے۔ ان ایپس کے بنانے والے ٹائم لائنز اور ریکمنڈیشنز مخصوص کرتے ہیں تاکہ آپ اپنے قیمتی وقت اور توانائی ضائع کرنے میں مزید گہرائی میں جائیں۔ انہیں آپ کی بھلائی یا حفاظت کی کوئی پرواہ نہیں، اور نہ ہی آپ کے اہلِ خانہ یا معاشرے کی۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ  کو اپنے پلیٹ فارمز کے عادی بنا کر آپ  کو غلام بنائیں۔

یہ پلیٹ فارمز حق اور باطل میں تمیز نہیں کرتے، اور نہ عالم اور نہ جاہل کی پہچان کرتے ہیں۔ اکثر اکاؤنٹس جعلی ناموں سے بنائے جاتے ہیں (شاید کفار یا منافقین کی طرف سے بھی) تاکہ مسلمانوں کو گناہ، فحش مواد، بدتمیزی، گمراہی، موسیقی، فلمیں، بدعت اور دیگر برائیوں کی طرف دھکیل سکیں۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پلیٹ فارمز کے نقصانات ان سے حاصل ہونے والے کسی بھی فائدے سے کہیں زیادہ ہیں۔

میں ان بھائیوں اور بہنوں کو خصوصی نصیحت کرنا چاہتا ہوں جو اسلام اور سنت سے دل کی گہرائی سے محبت رکھتے ہیں اور اپنی زندگی اور تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ یہ نصیحت میں درج ذیل اہم نکات کی صورت میں پیش کر رہا ہوں۔

١ : علم حاصل کرنے میں دل سے کوشش کریں، اور اس سے اللہ کا چہرہ، اس کی رضا اور اس کی جنت  حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

٢: اپنے اہلِ خانہ پر توجہ دیں، والدین، زوج یا زوجہ، اور بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔ ساتھ پڑھیں، ساتھ بیٹھیں، ساتھ کھائیں، اور ساتھ ساتھ چہل قدمی یا پکنک (پارکوں اور دیہات میں) کریں۔

٣ : اپنی کمیونٹی میں سلفی اہلِ سنت کے ساتھ رہیں۔ مسجد جائیں، اہلِ سنت کے ساتھ میل جول رکھیں، اور اگر ممکن ہو تو ان کے پاس سفر کریں۔ اگر آپ ان سے دور رہتے ہیں تو کوشش کریں کہ اپنی رہائش ان کے قریب لے آئیں۔

٤: اہلِ سنت سے کٹ کر نہ رہیں،ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، بات کریں اور تحفے بھیجیں۔

٥: کتابیں پڑھیں، اصلی کتابیں یا چھپے ہوئی مضامین۔ حواشی میں نوٹس بنائیں اور گھر میں ایک چھوٹی لائبریری قائم کریں۔ خود سلفی مراکز اور مساجد میں دروس میں شرکت کریں۔

٦: اگر آپ اکیلے ہیں (چاہے کنوارے ہوں یا پہلے شادی شدہ) تو اللہ سے مسلسل دعا کریں کہ آپ کو ایک نیک شریکِ حیات عطا فرمائے جو آپ کو اللہ کی راہ میں مدد دے۔ تہجد پڑھیں، اللہ سے دعا کریں، اور والدین، بہن بھائی اور کمیونٹی کے نیک لوگوں سے مدد طلب کریں۔ شادی آپ کو حقیقی ذمہ داریاں دیتی ہے اور آپ کو سوشل میڈیا سے دور رکھتی ہے، ان شاء اللہ۔

٧: علم آن لائن حاصل کرنے کے لیے صرف علماء، طلبہ علم اور سلفی مراکز کی براہِ راست ویب سائٹس یا براڈکاسٹ اکاؤنٹس استعمال کریں۔ ان کے واٹس ایپ یا ٹیلیگرام چینلز فالو کریں ، جہاں نماز کے اوقات اور دروس کے لنکس دستیاب ہوں۔ اگر ممکن ہو تو ذاتی طور پر شرکت کریں، ورنہ ان کے براڈکاسٹ سنیں۔

٨: بہت سے مشائخ اور طلبہ علم ٹیلیگرام استعمال کرتے ہیں تاکہ مضامین اور نصائح پی ڈی ایف، تحریری یا آڈیو شکل میں پوسٹ کریں۔ ٹیلیگرام زیادہ مرکوز ہے، اور یہ چینلز افراد کے زیرِ انتظام ہوتے ہیں، بغیر ان چیزوں کے جو وقت ضائع کرنے اور گمراہی پیدا کرنے والی ہیں۔

جہاں تک میری بات ہے، ہاں، میں ایکس، فیس بک وغیرہ استعمال کرتا ہوں تاکہ اپنی ویب سائٹ، دروس، کانفرنسز اور خیراتی کاموں کے بارے میں اپنے سامعین تک معلومات پہنچا سکوں۔ میں ان پلیٹ فارمز پر اپنے دن کو ضائع نہیں کرتا، اور بہت کم ہی واٹس ایپ پر بھیجے گئے لنکس پر کلک کرتا ہوں، کیونکہ میں واقعی نہیں چاہتا کہ میرا قیمتی وقت سوشل میڈیا پر ضائع ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اسکرولنگ میں حد کا اندازہ نہیں رکھتے! حقیقت یہ ہے کہ آپ کو کبھی بھی بلا ضرورت اسکرول نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی پلیٹ فارم کی تجاویز پر عمل کرنا چاہیے بلکہ فوراً خود کو ان سے الگ کر لیں۔

اللہ ہم سب اور آپ کو اس میں مدد دے جو اللہ کو محبوب ہے۔

ابو خدیجہ عبد الواحد