حدیث نمبر 2
٢: دین میں حجت و دلیل کا سرچشمہ صرف وحی ہے، اس پر کوئی دوسری چیز مقدم نہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا
يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي قَدْ تَرَکْتُ فِيْکُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، فَلَنْ تَضِلُّوْا أَبَدًا: کِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اے لوگو! یقینا میں تمہارے درمیان ایسی شے چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، یعنی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔
(الحاکم نے المستدرک (جلد 1، صفحہ 93) میں روایت کیا ہے، اور اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 40) میں صحیح قرار دیا ہے۔)
تشریح ۔
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دین کے تمام معاملات میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرے، اور جب بھی آپس میں کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے تو بھی انہی کی طرف لوٹے۔
علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں
اپنے دین کی بنیاد اس پر رکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ماخوذ ہو، اور اس سے مراد صحیح و ثابت شدہ احادیث ہیں۔
جہاں تک ان کے علاوہ کسی اور قول کا تعلق ہے تو اسے پرکھا جائے، اگر وہ کتاب و سنت کے موافق ہو تو اسے قبول کیا جائے، اور اگر وہ کتاب و سنت کے مخالف ہو تو اسے رد کر دیا جائے، چاہے وہ کسی بھی شخص کا قول ہو۔
اور یہی وہ طریقہ ہے جس کی طرف آئمہ دین اور اہلِ علم نے رہنمائی فرمائی ہے۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ (متوفی 204ھ) فرماتے ہیں
جب میری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو اختیار کرو اور میرے قول کو چھوڑ دو۔
پس کسی عالم، خواہ وہ فقہ و علم میں کتنے ہی بلند مرتبے پر فائز ہو، کے قول کو اختیار کرنا جائز نہیں، جب تک وہ کسی صحیح اور ثابت شدہ دلیل پر مبنی نہ ہو۔
اور اگر اس کا قول شرعی دلائل کے خلاف ہو تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ کسی بھی شخص کا قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا تُقَدِّمُوا۟ بَیۡنَ یَدَیِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِیعٌ عَلِیمࣱ
اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔
(سورۃ الحجرات 1)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی
فَلَا وَرَبِّكَ لَا یُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ یُحَكِّمُوكَ فِیمَا شَجَرَ بَیۡنَهُمۡ
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں۔
(سورۃ النساء 65)
پھر فرمایا
جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو رد کر دے، وہ ہلاکت کے کنارے پر ہے۔
(ابن بطہ نے الابانۃ الکبریٰ (جلد 1، صفحہ 260) میں اسے نقل کیا ہے۔)
ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا
تم نے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے۔
انہوں نے عرض کیا: کیسے، اے عروہ؟
انہوں نے فرمایا: تم لوگوں کو ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہو، حالانکہ ان دنوں میں عمرہ واجب نہیں ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم اس بارے میں اپنی والدہ سے نہیں پوچھتے؟
عروة رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن ابو بکر اور عمر نے ایسا نہیں کیا؟
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: یہی بات تمہیں تباہ کر رہی ہے، اللہ کی قسم! میں نہیں دیکھتا کہ اللہ تمہیں سزا دئیے بغیر رکے گا۔
ایک روایت میں ہے: میں نہیں دیکھتا کہ تم رکو گے جب تک اللہ تمہیں سزا نہ دے۔
میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت سنا رہا ہوں اور تم میرے پاس ابو بکر اور عمر کے حوالے کے کر آتے ہو؟
ایک اور روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا
ہم تمہارے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آتے ہیں، اور تم میرے پاس ابو بکر اور عمر کے ساتھ آتے ہو؟
( یہ صحیح روایت ہے۔اسے احمد نے اسے المسند (1/337) میں روایت کیا۔الخاطب نے اسے الفقیه والمتفقه (1/145) میں بیان کیا، اور انہی کے الفاظ کے سیاق و سباق میں نقل کیا گیا ہے۔ابن حزم نے اسے حجت الوداع (ص. 268–269) میں مختلف سلسلوں کے ذریعے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچایا۔ابن عبدالبر نے اسے جامع بیان العلم و فضله (2/239–240) میں روایت کیا۔ مزید حوالہ کے لیے دیکھیں: شیخ ابن ہادی الوادعی رحمہ اللہ کی الشرعية الصلاة في النعال (ص. 34)۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا
لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِینَ إِذۡ بَعَثَ فِیهِمۡ رَسُولࣰا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ یَتۡلُوا۟ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتِهِۦ وَیُزَكِّیهِمۡ وَیُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبۡلُ لَفِی ضَلَـٰلࣲ مُّبِینٍ
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
(سورۃ آل عمران 164)
امام شافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ 204 ھ) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا
اللہ تعالیٰ نے ‘کتاب’ کا ذکر فرمایا، اور وہ قرآن ہے اور ‘حکمت’ کا بھی ذکر کیا، اور میں نے ان علماء سے سنا جن کے قول پر میں بھروسہ کرتا ہوں، کہ انہوں نے فرمایا: حکمت سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
(رسالہ امام شافعی (صفحات 76-77))
أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ
سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی ۔
( ابو داؤد، حدیث نمبر 4604، امام البانی نے اسے صحیح قرار دیا۔)
یعنی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ دین کے تمام امور میں رجوع صرف انہی دو وحیوں کی طرف کرے یعنی قرآنِ کریم اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔