حدیث نمبر 1
نیت، خالص عبادت اور اعمال
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔
(یہ الفاظ ابو داؤد نے روایت کیے ہیں، حدیث نمبر 2201، اور البخاری، حدیث نمبر 1 اور 6689، مسلم، حدیث نمبر 1907۔)
تشریح
ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھے، ورنہ اس کا عمل قبول نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مشروع عبادت دکھاوے اور لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے کی جائے تو وہ قبول نہیں ہوتی، بلکہ اسے شرکِ اصغر قرار دیا گیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ:الرِّيَاءُ
مجھے تمہارے اوپر سب سے زیادہ ” شرک اصغر ” کا خوف ہے : یعنی ریاکاری یا دکھاوا
(مسند احمد، جلد 5، صفحات 428‑429)
ریاکاری ہمارے کسی بھی ایسے عمل میں داخل ہو سکتی ہے جو صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے، جیسے نماز، صدقہ، دین کی تبلیغ وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ ہر اُس عمل کو رد کر دیتا ہے جس میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے، یعنی اگر انسان اپنی عبادت میں اللہ کے علاؤہ مخلوق سے شہرت، تعریف یا پہچان چاہتا ہو (تو اسکا عمل قبول نہیں کیا جاتا)۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں شریک بنائے جانے والوں میں سب سے زیادہ شراکت سے مستغنی ہوں۔ جس شخص نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیتا ہوں۔
[صحيح مسلم: 2985]
دین خالصتاً اللہ ہی کے لیے ہے، اور ہمارے تمام اعمال بھی صرف اسی کے لیے ہونے چاہییں ، اسی کی رضا کے لیے اور اس کے اجر کی امید رکھتے ہوئے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا
إِنَّ ٱلدِّینَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَـٰمُ
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔
(سورۃ آل عمران 19)
اور فرمایا
،فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصࣰا لَّهُ ٱلدِّینَ
أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّینُ ٱلۡخَالِصُۚ
پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے۔
(سورۃ الزمر 2,3)
نیت کا تعلق اعمال کے ساتھ دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔
پہلا: مختلف عبادات میں فرق کرنا، جیسے یہ طے کرنا کہ وہ ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے یا عصر کی، فرض روزہ رکھ رہا ہے یا نفلی، یا وہ گرمی سے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کر رہا ہے یا جنابت کا غسل کر رہا ہے، وغیرہ۔
دوسرا: عمل کے پیچھے نیت کو واضح کرنا، کیا یہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس میں کسی اور کو بھی شریک کیا گیا ہے؟ مثلاً لوگوں کو دکھانے یا متاثر کرنے کے لیے۔ اگر عمل لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا گیا ہو تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔
لہٰذا کسی شخص کے اعمال اُس وقت تک قبول نہیں ہوتے جب تک وہ خالصتاً اللہ کے لیے نہ ہوں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نہ ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟، قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟، قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟، قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ
قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا، وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ ( اللہ تعالیٰ اس سے ) پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ شخص کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے: یہ (شخص) جری ہے۔ اور یہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا، پڑھایا اور قرآن کی قراءت کی، اسے پیش کیا جائے گا۔ (اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان کر لے گا، وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ آدمی کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی، (اللہ) فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے (یہ) عالم ہے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے: یہ قاری ہے، وہ کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ آدمی کہے گا: میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تجھے پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا ، تو نے (یہ سب) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے، وہ سخی ہے، ایسا ہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
(صحيح مسلم 1905)
جب معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنی تو وہ رو پڑے۔
یہ تینوں آدمی بظاہر شریعت اور سنت کے مطابق عمل کرتے رہے، لیکن پھر بھی انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا، کیونکہ ان نیک اعمال میں ان کی نیت اللہ کے لیے خالص نہیں تھی بلکہ لوگوں کی تعریف حاصل کرنے اور اپنا نام بنانے کے لیے تھی۔ اللہ المستعان
ابن القیم رحمہ اللہ (متوفیٰ 752ھ) نے اپنی کتاب مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین میں فرمایا۔
کوئی شخص حقیقت میں
إِیَّاكَ نَعۡبُدُ
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔
کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا مگر دو عظیم اصولوں کے ذریعے
پہلا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا۔
دوسرا: عبادت کو خالصتاً اسی کے لیے کرنا جو عبادت کے لائق ہے (یعنی اللہ تعالیٰ)۔
اسی کے ذریعے بندہ حقیقت میں “ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں” کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اور ان دو اصولوں کے اعتبار سے لوگ چار اقسام میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
پہلی قسم: وہ لوگ جو معبودِ برحق (اللہ تعالیٰ) کے لیے اخلاص رکھتے ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں۔
ان کے تمام اعمال اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں، ان کی گفتگو اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے، وہ جو کچھ دیتے ہیں اللہ کے لیے دیتے ہیں اور جسے روک لیتے ہیں وہ بھی اللہ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں اور اسی کے لیے بغض رکھتے ہیں۔
لوگوں کے ساتھ ان کے معاملات، ظاہری ہوں یا باطنی ، سب صرف اللہ تعالیٰ کے چہرے کے لیے انجام پاتے ہیں۔ وہ اس پر نہ لوگوں سے کسی جزا کے طلبگار ہوتے ہیں، نہ کسی اجر کے، اور نہ کسی شکریے کے۔ نہ وہ لوگوں میں کوئی مرتبہ چاہتے ہیں، نہ ان کی تعریف کے خواہاں ہوتے ہیں، اور نہ ہی ان کے دلوں میں اپنی کوئی حیثیت قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری قسم: وہ شخص جس میں نہ اخلاص ہوتا ہے اور نہ ہی وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے اعمال نہ شریعت کے مطابق ہوتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے لیے خالص ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسے اعمال کرتا ہے جنہیں وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے سنوارتا ہے، حالانکہ وہ اعمال نہ اللہ نے مشروع کیے ہیں اور نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں۔ یہ گروہ ان لوگوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے جو اپنے آپ کو علم، فقر اور عبادت کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ وہ صراط مستقیم کے خلاف ہوتے ہیں۔
پس یہی وہ لوگ ہیں جو بدعات، گمراہی اور ریا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ انہیں ان کاموں پر سراہا جائے جو درحقیقت ان میں موجود ہی نہیں ہوتے، نہ سنت کی پیروی، نہ اخلاص اور نہ صحیح علم۔لہٰذا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے غضب کے مستحق ہیں اور یہی گمراہی والے لوگ ہیں۔
تیسری قسم: وہ شخص جو اپنے اعمال میں اخلاص رکھتا ہے، لیکن سنت کی پیروی نہیں کرتا۔ یہ لوگ جاہل عبادت گزاروں کی طرح ہیں اور وہ جو اپنے آپ کو دنیا سے کنارہ کشی (زہد) اور فقر سے منسوب کرتے ہیں۔ نیز وہ بھی شامل ہیں جو اللہ کی عبادت اس طریقے سے کرتے ہیں جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہے اور سمجھتے ہیں کہ یہ عبادت انہیں اللہ کے قریب کر رہی ہے۔ اس طرح کے اعمال کے مثالیں یہ ہیں: کوئی شخص سوچتا ہے کہ سیٹی بجانا یا تالی بجانا اللہ کے قریب ہونے کی علامت ہے، یا تنہائی اور گوشہ نشینی اختیار کرنا جس میں وہ جمعہ کی نماز یا جماعت کی نماز چھوڑ دیتا ہے، اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔ یا دن رات روزہ رکھنا بغیر کچھ کھائے، یا عید کے دن روزہ رکھنا، اسی طرح کے دیگر اعمال۔
چوتھی قسم: وہ شخص جس کے اعمال قرآن و سنت کے مطابق ہیں لیکن یہ اعمال اللہ کے لیے نہیں کیے جاتے، بلکہ دکھاوے کے لیے انجام دیے جاتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص جہاد اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اس کی بہادری اور جرات کی تعریف کریں۔ یا کوئی شخص قرآن پڑھتا ہے تاکہ لوگ کہیں کہ یہ قاری ہے۔ظاہری طور پر یہ اعمال نیک اور مشروع نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ نیک اعمال نہیں ہیں اور اللہ کے ہاں قبول نہیں کیے جاتے۔
وَمَاۤ أُمِرُوۤا۟ إِلَّا لِیَعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخۡلِصِینَ لَهُ ٱلدِّینَ
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔
(سورۃ البینہ 5)
لہٰذا ہر شخص کو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے، جیسا کہ شریعت نے مقرر کیا ہے، اور اس عبادت میں اخلاص صرف اللہ کے لیے ہو، اور یہی اللہ کے اس ارشاد کی تکمیل ہے
إِیَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِیَّاكَ نَسۡتَعِینُ
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
(سورۃ الفاتحہ 4)
ابو عبید رحمہ اللہ نے اس حدیث “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” کے بارے میں فرمایا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی روایت اس حدیث سے زیادہ جامع، فائدہ مند اور فوائد کے اعتبار سے وسیع نہیں ہے۔
(کتاب”منتھی الآمال” از جلال الدین السیوطی، ص 42)
عبدالرحمن ابن مہدی نے اس حدیث کے بارے میں کہا
جو کوئی کتاب لکھنا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ اس حدیث سے آغاز کرے۔
(کتاب “منتھی الآمال” از جلال الدین السیوطی، ص 43۔)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی دعوت میں مخلص ہو، صرف اللہ تعالیٰ سے اجر کا امیدوار ہو۔ وہ حق بات کہنے میں کسی جھجک کا شکار نہ ہو، بلکہ سچائی، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرے، تاکہ وہ اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت کی طرف لوٹ آئیں۔
اس کا مقصد نہ خوشامد ہو، نہ نام و نمود، نہ مال و دولت، نہ لوگوں کی داد و تحسین، اور نہ ہی پیروکاروں کی کثرت۔ یہی وہ امور ہیں جنہوں نے ہر دور میں بہت سوں کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی اور عافیت کے طلبگار ہیں۔