بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی نازل ہوں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور آپ کی آل اور تمام صحابہ پر۔
أما بعد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا
اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟
کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا
وہ دس باتیں یہ ہیں آپ چار رکعت نماز پڑھیں
ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھیں
جب پہلی رکعت کی قرآت کر لیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ
سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر کہیں
اللہ ہر نقص سے پاک ہے،اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں،اور اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں،اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں
پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں
پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں
پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں
پھر (دوسرا) سجدہ کریں تو دس بار کہیں
اور پھر جب (دوسرے) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں
تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں
اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں۔
[یہ حدیث ابو داؤد کی سنن میں نمبر 1297، 1298 اور 1299 کے طور پر نقل ہوئی، اور شیخ الالبانی رحمہ اللہ نے ان کو بالترتیب صحیح، حسن اور صحیح قرار دیا۔ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی نمبر 1386 کے طور پر ہے۔
ایک گروہ علماء، جن میں ابو بکر الاجوری، ابو الحسن المقریسی، البیہقی، ابن المبارک، النووی، تاج السبکی، ابن حجر، السیوتی، السندی، الزبیدی، محمد بن عبدالرحمن المبارکفوری، عبید اللہ الرحمانی المبارکفوری، احمد شاکر اور الالبانی رحمہ اللہ شامل ہیں، نے اس حدیث کی تصدیق کی ہے۔]
فوائد اور اہم نکات
١. یہ حدیث لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے اور ان کے گناہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی مایوسی سے نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ اپنے رب کی مغفرت حاصل کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔
٢. یہ حدیث تمام اہلِ ایمان کو شامل ہے، اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اپنے چچا سے فرمائی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پوری امت کے لیے ہوتے ہیں، الا یہ کہ کوئی دلیل خاص ہونے پر دلالت کرے۔
٣. کسی شخص کو صرف اس حدیث پر بھروسہ کر کے یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ آزادی سے گناہوں اور زیادتیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے اور یہ نماز اسے اس کے ظلم اور گناہوں کی سزا سے بچا لے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَٱلَّذِینَ یُؤۡتُونَ مَاۤ ءَاتَوا۟ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَ ٰجِعُون
أُو۟لَـٰۤىِٕكَ یُسَـٰرِعُونَ فِی ٱلۡخَیۡرَ ٰتِ وَهُمۡ لَهَا سَـٰبِقُونَ
اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں
(سورۃ المؤمنون: 60–61)
٤. جہاں تک ان گناہوں کا تعلق ہے جو لوگوں کے حقوق سے متعلق ہیں اور ان پر زیادتی کی گئی ہے، تو یہ حدیث ان کو شامل نہیں کرتی۔ انسان اللہ کے عذاب کے خطرے میں رہتا ہے جب تک لوگوں کے حقوق واپس نہ کر دے۔ مثلاً جو چیز چوری کی ہو اسے اس کے مالک کو واپس کرنا یا اس کا معاوضہ دینا، یا جس پر ظلم کیا ہو اس سے معافی مانگنا، یا جس کی غیبت یا بہتان کیا ہو اس کی اصلاح کرنا اور اسی مجلس میں اس کی تعریف کرنا جہاں اس کی برائی کی تھی، وغیرہ۔ کم از کم ان کے لیے ہدایت، رحمت اور مغفرت کی دعا کرنا بھی ضروری ہے۔ مکمل توبہ کے لیے یہ امور لازم ہیں۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ (متوفیٰ: 110ھ) نے فرمایا
ہم نے ایسے لوگوں (یعنی صحابہ) کو پایا جو اس بات سے زیادہ ڈرتے تھے کہ ان کی نیکیاں قبول نہ ہوں، بہ نسبت اس کے کہ تم اپنے گناہوں کی سزا سے ڈرتے ہو۔
لہٰذا صلاۃ التسبیح ایک نیکی ہے، اور مومن کو اس بات سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ شاید یہ قبول نہ ہو۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اعمال اخلاص، سچائی، عاجزی، اور اللہ کی قبولیت اور اجر کی امید کے مطابق قبول ہوتے ہیں۔
٥. سورۃ الفاتحہ کے بعد کسی خاص سورت کی تعیین نہیں ہے، بلکہ انسان کے لیے جو آسان ہو وہ پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اس نماز کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں، سوائے ان اوقات کے جن میں نماز پڑھنا منع ہے، جیسے
سورج طلوع ہونے کے وقت، غروب سے پہلے کا وقت، غروب کا وقت، اور عین دوپہر کا وقت۔
٦. رکوع، سجدہ وغیرہ میں جو اضافی تسبیحات (دس مرتبہ) پڑھی جاتی ہیں، وہ ان واجب اذکار کے بعد پڑھی جائیں گی جو عام نماز میں پڑھے جاتے ہیں۔
مثلاً رکوع میں “سبحان ربي العظيم” کے بعد،
رکوع سے اٹھتے وقت “سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد” کے بعد
اور سجدہ میں “سبحان ربي الأعلى” کے بعد، وغیرہ۔
٧. اگر کسی سے نماز میں ایسی غلطی ہو جائے جس کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہو، تو سجدہ سہو میں یہ دس تسبیحات نہیں پڑھی جائیں گی۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
ابو خدیجہ عبد الواحد حفظہ اللہ