حدیث نمبر :4
٤: جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے منہ موڑ لے، وہ آپ کے سچے پیروکاروں میں سے نہیں ہے۔
:انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا، فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:” أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي“۔
تین اشخاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
(صحيح البخاری،حدیث: 5063)
:ایک اور روایت میں ہے
أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ، فقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فقَالَ: ” مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا: كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي، وَأَنَامُ، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي“۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے آپ کی تنہائی کے معمولات کے بارے میں سوال کیا، پھر ان میں سے کسی نے کہا: میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا، اور کسی نے کہا: میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ (آپ کو پتہ چلا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی، اس کی ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اس اس طرح سے کہا ہے۔ لیکن میں تو نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے اعراض کیا ، وہ مجھ سے نہیں۔
(صحیح المسلم:1401)
:وضاحت
:الحافظ ابن حجر رحمہ اللہ (متوفیٰ 852ھ) فرماتے ہیں
یہاں ‘ سنت’ سے مراد وہ راستہ اور طریقہ ہے، نہ کہ صرف فرض کے مقابلے میں مستحب یا نفل عمل۔ اور کسی چیز سے اعراض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اسے چھوڑ کر کسی دوسرے طریقے کی طرف مائل ہو جائے۔ لہٰذا حدیث کا مطلب یہ ہے
‘جو شخص میرے طریقے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔’
(فتح الباری 9\105)
سنت کے کسی بھی حصے کو رد کرنا جائز نہیں، چاہے وہ فرض ہو، دین کا کوئی رکن ہو، یا فروع میں سے ہو، یا محض مستحب عمل ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ حکم ہر زمانے کے لیے ہے، ہم جس دور میں بھی ہوں، سنت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دراصل وحی ہے، اور وہ ہر اس چیز پر فوقیت رکھتی ہے جسے لوگ اہمیت دیتے ہیں، جیسے قبائلی رسم و رواج، قومیت، نسل، جماعتی وابستگیاں اور گروہی شناختیں۔چنانچہ اگر لوگوں کا کوئی طریقہ سنت کے خلاف ہو تو اسے ترک کر دیا جاتا ہے اور رد کر دیا جاتا ہے۔لہٰذا اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سنت کی پیروی کریں اور کسی بھی شخص کی بات یا مثال کی وجہ سے اس سے روگردانی نہ کریں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِی یُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَیَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ
کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے۔
(سورۃ آل عمران:31)
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال سے بڑھ کر کوئی مثال پیروی کے زیادہ لائق نہیں ہے۔
:ارشادِ باری تعالیٰ ہے
لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِی رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةࣱ لِّمَن كَانَ یَرۡجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلۡیَوۡمَ ٱلۡـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔
(سورۃ الاحزاب:21)
لہٰذا زندگی کے ہر معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا ضروری ہے، خواہ وہ نکاح کا معاملہ ہو، طلاق کا، نومولود بچے کی آمد کا، خوشی کے مواقع ہوں، مرد کے لباس کا مسئلہ ہو یا عورت کے حجاب کا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَاۤ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُوا۟ۚ
اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ۔
(سورۃ الحشر:7)
امام مالک رحمہ اللہ (متوفیٰ 179ھ) نے فرمایا
السُّنَّةُ سَفِينَةُ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ
سنت، نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے، جو اس میں سوار ہوا وہ نجات پا گیا، اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا۔
تاریخ بغداد از خطیب بغدادی (جلد 7، صفحہ 336)، ذم الكلام از الحراوي (حدیث نمبر 885، جلد 4، صفحہ 124)، مجموع الفتاویٰ از ابن تیمیہ (جلد 4، صفحہ 57) اور دیگر کتب میں بھی روایت ہوئی ہے۔
سنت کے بعض امور واجب ہوتے ہیں اور بعض مستحب ہوتے ہیں، لیکن ان سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی سمجھ کر قبول کرنا ضروری ہے۔ اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہو، وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ صحیح اور ثابت شدہ احادیث پر عمل کیا جائے اور غیر ثابت و ضعیف روایات کو ترک کر دیا جائے۔
جو شخص سنت کے واجب پہلوؤں کو اپنی کمزوری یا عمل میں استقامت نہ ہونے کی وجہ سے ترک کرتا ہے لیکن سنت کو قبول کرتا ہے، اس کی عزت کرتا ہے اور بدعت کو رد کرتا ہے، تو ایسے شخص کو اہل سنت و جماعت میں شمار کیا جاتا ہے، چاہے وہ ایمان میں کمزور یا گناہگار ہی کیوں نہ ہو ۔
جو شخص سنت کے واجب پہلوؤں کو اپنی کمزوری یا عمل میں استقامت نہ ہونے کی وجہ سے ترک کرتا ہے جبکہ سنت کو قبول کرتا ہے، اس کی عزت کرتا ہے اور بدعت کو رد کرتا ہے، تو ایسے شخص کو اہل سنت و جماعت میں شمار کیا جاتا ہے، چاہے وہ ایمان میں کمزور یا گناہگار ہی کیوں نہ ہو۔
اور اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ سنت کو صحیح مفہوم اور مقصد کے مطابق سمجھے اور عمل کرے جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا، تو اسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے راستے کی پیروی کرنی چاہیے۔
:جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا
جو شخص کسی مثال کی پیروی کرنا چاہتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی پیروی کرے، کیونکہ وہ اس امت کے سب سے پرہیزگار دل والے، علم میں سب سے مضبوط، اور کم بوجھ ڈالنے والے تھے۔ وہ سب سے آگے رہنے والے تھے، اور اخلاق میں سب سے بہترین۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کیا تاکہ وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوں اور دین کو قائم رکھیں۔ لہٰذا ان کے فضائل کو پہچانو، ان کے قدموں پر چلو، اور ان کی روایات اختیار کرو، کیونکہ وہ سیدھے راستے (الہدی المستقیم) پر تھے ۔
(یہ حدیث ابن عبدالبر نے اپنی کتاب جامع البيان (ج: 2، ص: 97) میں روایت کی ہے۔)