مکہ پر حملے قرامطہ سے حوثیوں تک، تاریخ کا ایک تسلسل

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکہ پر حملے قرامطہ سے حوثیوں تک، تاریخ کا ایک تسلسل حوثیوں کا مکہ مکرمہ پر حملہ کرنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیونکہ ان کے ہاں کعبہ کی کوئی حرمت اور تقدس نہیں۔ ان سے پہلے ان کے فکری و روحانی اسلاف قرامطہ باطنیہ نے ، ابو طاہر الجنابی کی قیادت میں موسمِ حج کے دوران مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے ہزاروں حجاج کو شہید کیا، حجرِ اسود کو اکھاڑ کر اپنے مرکز (ہجر/ احساء) منتقل کر دیا، اور مسجد الحرام میں شدید بے حرمتی کی۔ حافظ ابن كثير رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سن 317 هجرى ميں عراق کا حاجیوں کا قافلہ نکلا جس کے امیر منصور الديلمی تھے، وہ سلامتی کے ساتھ مکہ پہنچے، اور ہر جانب سے قافلے وہاں جمع ہو گئے۔ ابھی لوگ بے خبر ہی تھے کہ 8 ذوالحجہ (یوم الترویہ) کو قرمطی (ابو طاہر الجنابی) اپنے گروہ کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑا؛ اس نے ان کے مال و اسباب کو لوٹ لیا اور ان کے قتل کو جائز کر دیا۔ چنانچہ مکہ کی کشادہ راہوں، گھاٹیوں، بلکہ مسجد الحرام اور جوفِ کعبہ تک میں لوگوں کو قتل کیا گیا۔ ان کا سرغنہ ابو طاہر سلیمان بن ابی سعید الجنابی ( اللہ اس پر لعنت کرے ) کعبہ کے دروازے پر بیٹھ گیا، جبکہ اس کے گرد حرمِ الٰہی، ماہِ حرام اور یوم الترویہ جیسے افضل ترین دن میں لوگ گاجر مولی کی طرح کاٹے جا رہے تھے۔ لوگ (جان بچانے کے لیے) بھاگتے اور کعبہ کے پردوں سے لپٹ جاتے، مگر یہ چیز بھی ان کے کچھ کام نہ آتی بلکہ وہ اسی حالت میں قتل کر دیے جاتے؛ لوگ طواف کر رہے ہوتے اور طواف ہی کی حالت میں انہیں شہید کر دیا جاتا۔ اس دن محدثین میں سے بھی ایک شخص طواف کر رہے تھے، جیسے ہی انہوں نے اپنا طواف مکمل کیا تلواروں نے انہیں آ لیا، اور جب وہ گر کر دم توڑنے لگے پھر اس قرمطی (ملعون)نے حکم دیا کہ مقتولین کو زمزم کے کنویں میں دفن کر دیا جائے، اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو ان کی شہادت کی جگہوں، بلکہ مسجد الحرام میں ہی دفنا دیا گیا ۔ اور کیا ہی مبارک تھی وہ شہادت اور کیا ہی خوش بخت تھی وہ خواب گاہ! انہیں نہ غسل دیا گیا، نہ کفن پہنایا گیا اور نہ ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی؛ کیونکہ وہ حقیقت میں شہداء تھے، بلکہ افضل ترین شہداء میں سے تھے۔ اس نے قبة زمزم کو ڈھا دیا، کعبہ کا دروازہ اکھاڑنے اور اس کا غلاف اتار کر اپنے ساتھیوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بانٹنے کا حکم دیا۔ پھر اس نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کے پرنالے (میزابِ ) پر چڑھے تاکہ اسے اکھاڑ پھینکے، لیکن وہ سر کے بل نیچے گرا اور واصلِ جہنم ہو گیا – اللہ اس پر لعنت کرے -، چنانچہ اس ملعون نے پرنالے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ پھر اس نے حجرِ اسود اکھاڑنے کا حکم دیا۔ ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اپنے ہاتھ میں موجود وزنی لوہے کے ہتھوڑے سے حجرِ اسود پر ضرب لگائی اور کہنے لگا: “کہاں ہیں ابابیل پرندے؟ کہاں ہیں سجیل کے پتھر؟ پھر انہوں نے حجرِ اسود کو اکھاڑ لیا اور جب وہ اپنے علاقے کی طرف لوٹے تو اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ حجرِ اسود ان کے پاس بائیس (22) سال تک رہا، یہاں تک کہ انہوں نے اسے 339ھ میں واپس لوٹایا؛ فإنا لله وإنا إليه راجعون۔ البداية والنهاية حافظ ابن كثير (15/ 35)

اردو ترجمہ : محمد قاسم