قیامت والے دن اللہ تعالی لوگوں سے کون سی زبان میں کلام کریں گے اور کیا اہلِ جنت کی زبان عربی اور اہلِ جہنم کی زبان فارسی ہو گی ؟

قیامت والے دن اللہ تعالی لوگوں سے کون سی زبان میں کلام کریں گے اورکیا اہلِ جنت کی زبان عربی اور اہلِ جہنم کی زبان فارسی ہو گی ؟

شیخ  الاسلام  ابنِ  تیمیہ  رحمہ  اللہ  سے    ایک  سائل  نے  سوال  کیا  کہ  قیامت کے دن لوگوں  سےکس زبان میں خطاب کیا  جائے  گا؟

 کیا اللہ تعالیٰ ان  سے عربی زبان میں خطاب فرمائے گا؟ اور کیا یہ بات صحیح ہے کہ اہلِ جہنم کی زبان فارسی ہو گی اور اہلِ جنت کی زبان عربی؟‘‘

آپ  رحمہ  اللہ  نے  فرمایا  :   (’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ )  :

اما  بعد

ہمیں یقینی طور پر معلوم نہیں کہ اس دن لوگ کس زبان میں بات کریں گے، اور نہ یہ معلوم ہے کہ   لوگ  اللہ  سبحانہ  تعالیٰ   کا خطاب کس زبان میں سنیں گے؛      کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ہمیں کچھ نہیں بتایا، نہ ہی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ نہ یہ بات ثابت ہے کہ فارسی جہنمیوں کی زبان ہے  ، اور نہ یہ  معلوم   کہ عربی اہلِ جنت کی دائمی زبان ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی اس مسئلے میں کوئی اختلاف منقول نہیں؛ بلکہ وہ سب اس بارے میں کلام کرنے سے رکتے تھے، کیونکہ اس طرح کے امور میں بات کرنا فضول گفتگو میں شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں   بیان  فرمائی۔

البتہ بعد کے لوگوں میں اس بارے میں اختلاف پیدا ہوا۔

چنانچہ بعض نے کہا: لوگ عربی زبان میں گفتگو کریں گے۔

کچھ نے کہا: سوائے اہلِ جہنم کے، کیونکہ وہ فارسی میں جواب دیں گے اور یہی ان کی زبان ہو گی۔

بعض نے کہا: وہ سریانی زبان میں گفتگو کریں گے؛ کیونکہ یہ آدم علیہ السلام کی زبان تھی اور تمام زبانیں اسی سے نکلی ہیں۔

اور بعض نے کہا: سوائے اہلِ جنت کے، کیونکہ وہ عربی زبان میں بات کریں گے۔

لیکن ان سب اقوال والوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی، بلکہ یہ صرف بے بنیاد دعوے ہیں جن کی کوئی دلیل نہیں۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

مجموعہ  فتاوی  لابنِ  تیمیہ  ۔  ۲/۱۷۵

مترجم  محمد  قاسم