کیا آئمہ اربعہ کی تقلید واجب ہے؟ – فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ محمد علی الصابونی نے اپنے گمراہ کن انٹرویو میں اللہ تعالی کی صفات کے تعلق سے تفویض کا عقیدہ ذکرکرکے اسے سلف صالحین کی جانب منسوب کرنے کا جو مغالطہ دیا تھا اس پر شیخ صالح الفوزان  حفظہ اللہ  نے اپنا دلائل پر مبنی رد نشر فرمایا تھا۔ جس پر شیخ ابن با ز رحمہ اللہ  اس حق کا دفاع کرنے پر ان کی تعریف اور دعاء فرماتے ہوئے ، مزید ان کے اٹھائے گئے مؤاخذات و ردود کی تائید و تاکید  کرتے ہیں اور پھر کچھ ایسی غلطیوں پر بھی تنبیہ فرماتے ہیں جن کا رد شیخ صالح الفوزان  حفظہ اللہ  سے اپنے مقالے میں رہ گیا تھا۔ پہلا نکتہ ذکر کرتے ہیں کہ:

آئمہ اربعہ کی تقلید:

ان کا یہ کہنا کہ آئمہ اربعہ کی تقلید اوجب الواجبات (تمام واجبات سے بڑھ کر واجب ) ہے۔

بلاشبہ یہ اطلاق کرنا غلطی ہے، کیونکہ آئمہ اربعہ ہوں یا ان کے علاوہ کسی کی تقلید واجب نہیں خواہ  وہ علم کے کتنے ہی بلند درجے پر ہوں۔ کیونکہ بے شک حق تو کتاب و سنت کی اتباع میں ہے ناکہ لوگوں میں سے کسی کی تقلید میں۔ زیادہ سے زیادہ بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ ضرورت کے وقت تقلید کی گنجائش ہوتی ہے اس شخص کی جس کا علم و فضل اور استقامت و عقیدہ معروف ہو۔  جیسا کہ اس کی تفصیل علامہ ابن القیم  رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب  إعلام الموقعين میں ذکر فرمائی ہے۔

            یہی وجہ ہے کہ آئمہ رحمہم اللہ اس بات سے راضی نہ ہوا کرتے تھے کہ ان کے کلام میں سے کچھ لیا جائے سوائے اس کے جو کتاب و سنت کے موافق ہو۔

            امام مالک  رحمہ اللہ  فرمایا کرتے تھے:

ہر ایک کی بات کو لیا بھی جاسکتا ہے اور رد بھی کیا جاسکتا ہے سوائے اس صاحب قبر کے۔  اور یہ کہتے ہوئے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی طرف اشارہ فرمارہے تھے۔

 اور اسی معنی کی بات آپ کے دیگر بھائی آئمہ کرام نے بھی کہی ہے۔

            چنانچہ جو کوئی کتاب و سنت سے اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس پر متعین ہوجاتا ہے کہ وہ لوگوں میں سے کسی کی تقلید نہ کرے۔ اور اختلاف کے وقت حق کو پانے کی خاطر اس کے  قریب ترین قول کو لے۔ اور جو کوئی اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کے لیے مشروع ہے کہ وہ اہل علم سے سوال کرے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

تو اہل  ذکر (علماء) سے سوال کرو اگر تم نہ جانتے ہو۔[1]

دوسرا نکتہ: الصابونی کہتے ہیں:

جب ابن تیمیہ  رحمہ اللہ  جیسی شخصیت اتنے بلند علمی درجے کے باوجود اجتہاد کے مرتبے تک نہیں پہنچتی، بلکہ ان کا مذہب بھی حنبلی تھا جس کی بہت سے جگہوں پر وہ پابندی کرتے تھے۔

جواب:

 اس بات پر کچھ نظر ہے بلکہ یہ بالکل ظاہر غلطی ہے کیونکہ بلاشبہ شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  تو مجتہدین میں سب سے بڑھ کر علم رکھنے والے تھےاور آپ میں اجتہاد کی تمام شرائط پوری تھیں۔ اور رہی بات آپ کا حنبلی مذہب کی طرف منسوب ہونا تو وہ اس بنیاد پر اس (مجتہد ہونے) سے خارج نہيں ہوتے۔ کیونکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ ان کی موافقت ہے امام احمد  رحمہ اللہ  کے مذہب کے اصول و قواعد میں۔ اس سے یہ مقصود نہيں ہے کہ وہ ان کی تقلید کر تے تھے جو بھی وہ کہیں بغیر حجت (دلیل) کے۔ بلکہ وہ تمام اقوال میں سے جس قدر ان پر ظاہر ہوتا اسے اختیار کرتے جو دلیل کے قریب ترین ہوتا۔

مصدر: تنبيهات على ما كتبه الشيخ الصابوني في صفات الله عز وجل۔


[1] النحل: 43