‏جو چیز بھی تم اللہ عزوجل کے لیے چھوڑ دو، اللہ اس کے بدلے تمہیں اس سے بہتر عطا کرے گا۔(حديث)

‏جو چیز بھی تم اللہ عزوجل کے لیے چھوڑ دو، اللہ اس کے بدلے تمہیں اس سے بہتر عطا کرے گا۔(حديث)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إنك لن تدع شيئاً لله عز وجل إلا بدلك الله به ما هو خير لك منه

“تم کوئی چیز اللہ عزوجل کے لیے نہیں چھوڑتے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہیں اس سے بہتر عطا کرتا ہے۔”

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا

وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

“اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔” [2]

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“یہ بات بالکل درست ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے کوئی چیز چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ یہ بدلہ مختلف صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ سب سے بڑا اور بہترین بدلہ یہ ہے کہ اللہ اپنے بندے کو اپنی محبت اور قرب عطا کرتا ہے، دل کو سکون، راحت، قوت، تازگی اور خوشی بخشتا ہے، اور اپنے رب، بلند و برتر، سے راضی رہنے کی نعمت عطا فرماتا ہے۔” [3]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلَّهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ دَعَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ حُلَلِ الإِيمَانِ شَاءَ يَلْبَسُهَا

“جو شخص زینت والا لباس محض اللہ کی رضا اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرنے کی خاطر چھوڑ دے، جبکہ وہ اسے پہننے کی استطاعت رکھتا ہے، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ اہل ایمان کے لباس میں سے جسے چاہے منتخب کرے اور پہنے۔”[4]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ كَظَمَ غَيْظًا، وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ: دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاءَ

“جس نے غصہ پی لیا جبکہ وہ پوری قدرت رکھتا تھا کہ اسے نافذ کرے (یعنی زبان یا ہاتھ وغیرہ سے اس کے خلاف اپنی دل کی بھڑاس نکال دے) تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اللہ اسے اختیار دے گا کہ بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے۔” [5]

یہ ضروری نہیں کہ جو چیز اللہ کے لیے چھوڑ دی گئی ہے، اس کا بدلہ بھی اسی جنس سے ہو۔ بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے بہتر عطا کرتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان کی وجہ سے کوئی چیز چھوڑتے ہیں۔ بعض اوقات بدلہ اسی جنس میں بھی ہوتا ہے جسے چھوڑا گیا ہو، لیکن اصل معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اور وہی بہترین کارساز ہے.

مصدر :  https://abukhadeejah.com/you-do-not-leave-anything-for-allahs-sake-except-that-he-will-replace-it/


1: امام احمد، المسند: 21996۔

(علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا اور فرمایا: اس کی سند مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔)

2: الطلاق: 2-3

3: ابن القیم، الفوائد: ص 107

4: الترمذی: 2481، صحیح
(امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:١- یہ حدیث حسن ہے۔٢- “حلل الایمان” سے مراد وہ جنتی لباس ہیں جو اہل ایمان کو عطا کیے جائیں گے)

5: ابو داود: 4777، ابن ماجہ: 4186  صحیح