شیخ ابو حفصہ کاشف حفظہ اللہ اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں سلفیت کی اصل پہچان ، علماء کی صحبت اور ان کی پیروی کے متعلق فرماتے ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔
علماء کی پیروی محض نعرہ یا دعویٰ نہیں بلکہ سلفیت کی اصل پہچان ہے، جو اسے دوسرے مناہج سے الگ اور ممتاز کرتی ہے۔ علماء، انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ ان سے محبت کرنا اور دینی معاملات میں ان کی طرف رجوع کرنا یہ محض پسند نا پسند کا معاملہ نہیں بلکہ دین کا تقاضا ہے۔ یہی بات میں نے اپنے دل میں بسا لی جب میں نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب “صلوٰۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم” پڑھ کر سلفیت کو اختیار کیا۔ اس اصول پر عمل کی جو یادیں میرے دل میں محفوظ ہیں، وہ ابتدا سے لے کر آج تک کچھ اس طرح ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جامعہ اسلامیہ داخلے سے پہلے میرے بڑے بھائی @ابن_اخضر @مسجد_البیان میں شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطے کا اہتمام کرتے اور ان کی نصیحتیں ہمارے لیے ترجمہ کرتے تھے۔
مدینہ میں طالب علمی کے زمانے میں، میں نیو جرسی (امریکہ کی ایک ریاست) کے بھائیوں کے سوالات اور مسائل شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کے سامنے پیش کرتا۔ ایک موقع پر پاکستان میں علم حاصل کرنے کے بارے میں سوال ہوا تو مکہ مکرمہ میں شیخ مقبل رحمہ اللہ سے ملاقات کے دوران شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ سے پاکستان کے علماء کے متعلق سوال کرنے کا موقع ملا۔ میں نے شیخ محمد البنّا رحمہ اللہ سے بھی اپنے علاقے کے مسائل کے بارے میں پوچھا۔ یہ سب کچھ باقاعدہ دروس کے علاوہ تھا جو میں شیخ علی ناصر الفقیہی سے لیتا اور مدینہ آنے والے علماء مثلاً شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ وغیرہ سے استفادہ کرتا۔
یونیورسٹی کے ہمارے بھائی (جو آج مغرب میں ہمارے اساتذہ ہیں) میں سے کچھ شیخ عبدالمحسن کے پاس بیٹھتے، کچھ شیخ عبید کے پاس، کچھ شیخ علی ناصر کے پاس، اور کچھ صامطہ (سعودی عرب کا علاقہ) جا کر شیخ زید اور شیخ احمد سے استفادہ کرتے۔ وہ نہایت ہی خوبصورت ماحول تھا۔
جامعہ چھوڑنے کے بعد جب میں پہلی بار سعودی عرب آیا، تو میری ملاقات شیخ محمد البنّا رحمہ اللہ سے ہوئی، جو حرم مکّی میں موجود تھے، اور ہم نے اپنی کمیونٹی کے مسائل اور سوالات ان کے سامنے پیش کیے۔ اس کے بعد ہم شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ کے گھر گئے اور ان کے درس سے مستفید ہوئے ۔ مدینہ میں مجھے شیخ عبید الجابری رحمہ اللہ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملا، جنہوں نے بعض افراد کے بارے میں ہمیں رہنمائی اور نصیحت دی۔
اس کے بعد میرا شیخ عبید سے مسلسل رابطہ رہا۔ وہ نصیحت بھی کرتے، سرزنش بھی فرماتے اور مسجد البیان کی ہماری کمیونٹی کو نفع بخش نصیحتیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ ان کا اجر بڑھائے۔
پھر جب میں عمرہ کے لیے اپنے بھائیوں @سلفی_پبز، @جی_ٹاؤن_مسجد اور دیگر کمیونٹی کے ساتھ مدینہ سیمینار کے لیے گیا، تو ہم نے شیخ ربیع، شیخ عبداللہ الضفیری، شیخ عبداللہ بخاری اور دیگر علماء سے فیض حاصل کیا۔ اس کے بعد سے ہر عمرہ کے دوران میری کوشش رہی کہ کسی نہ کسی عالم سے ملاقات ضرور ہو، چاہے وہ شیخ ربیع ہوں، شیخ عبید ہوں، شیخ عبدالمحسن العباد ہوں یا دیگر علماء۔
کچھ سال پہلے میں شیخ ربیع رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے نصیحت کی کہ عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دو، جب٘ے کی آستینیں زیادہ لمبی نہ رکھو، اور اپنی کتاب جس کا عنوان ”عیسیٰ علیہ السلام” ہے ہمیں عنایت فرمائی۔ پھر میں نے شیخ عبدالمحسن سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ہم مسجد اہل القرآن و الحدیث واشنگٹن ڈی سی میں کون سی کتابیں پڑھا رہے ہیں اور آئندہ کون سی پڑھانی ہے۔ ان کی نصیحت سے اللہ کے فضل سے تین سال تک فتح المجید شرح کتاب التوحید کے دروس جاری رہے۔
آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے کہ ہم مختلف علماء مثلاً شیخ خالد الضفیری (کویت)، شیخ عبداللہ بخاری (مدینہ)، شیخ مصطفیٰ مبرم، شیخ عبداللہ زہرانی، شیخ عبدالرحمن مواسی اور دیگر سے نصیحتیں اور دروس حاصل کرتے ہیں۔
ہماری مساجد میں باقاعدگی سے ٹیلی لنکس کا اہتمام ہوتا ہے۔ چند ماہ پہلے مجھے شرف حاصل ہوا کہ میں نے اپنے بھائی و رفیق شیخ محمد امین الجزائری کے تعاون سے شیخ عبدالکریم دہّاس حفظہ اللہ کی قیمتی نصیحتوں کا ترجمہ کیا، جو مسجد البیان کے ایک سیمینار میں ‘اہل حدیث کا مقام’ کے موضوع پر دی گئیں۔
ہماری کانفرنسز میں دروس ہوتے ہیں اور علماء کی شروحات اور اقوال بار بار ذکر کیے جاتے ہیں۔ سالانہ کانفرنسز @جی_ٹاؤن_مسجد اور @سلفی_پبز اس کی بہترین مثال ہیں۔ گزشتہ سال @سلفی_پبز کے سمر کانفرنس میں ان اکابر علماء کے فوائد پیش کیے گئے۔
١: امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
٢: امام ابن قیم رحمہ اللہ
٣: شیخ البانی رحمہ اللہ
٤: شیخ بدیع الدین رحمہ اللہ
٥: شیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ
٦: شیخ حماد الانصاری رحمہ اللہ
٧: شیخ عبید الجابری رحمہ اللہ
آخر میں میں کہتا ہوں: جو یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم صرف شیخ ربیع اور شیخ عبید کی طرف رجوع کرتے تھے یا اپنی کمیونٹی کے زیادہ تر مسائل انہی کی طرف لوٹاتے تھے، تو یہ ان کی سلفیت کے بارے میں عمومی اور ہماری دعوت کے بارے میں خاص طور پر سخت غلط فہمی ہے۔
یاد رکھئیے ! ”علماء کی پیروی” کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ:
١: صرف چند علماء کی پیروی کی جائے۔
٢: ان کی اندھی تقلید کی جائے۔
٣: دلیل کے بغیر علماء کی بات مانی جائے۔
٤: کسی ایک عالم یا ایک مذہب کو پکڑ کر اسی پر جم جایا جائے۔
٥: ایک عالم کی رائے کو سب پر مقدم کر لیا جائے۔
بلکہ ”علماء کی پیروی” کا اصل مطلب یہ ہے
ان سے دین سیکھو، ان کے پاس بیٹھو، ان کی کتابیں پڑھو، ان کے خطبات سنو۔ لوگوں کو ان سے متعارف کراؤ، ان کی سیرت و اقوال بیان کرو۔ ان پر طعن نہ کرو، ان کی غیبت نہ کرو، بلکہ ان سے محبت کرو، ان کے لیے دعا کرو۔ جب علم نہ ہو تو انہی کی طرف رجوع کرو اور ان سے آگے نہ بڑھو۔
یہ وہ چیز ہے جسے میں نے اپنے دل میں عزیز رکھا ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے میرے بھائیوں نے بھی اپنے دل میں عزیز رکھا ہے۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے قبول فرما لے۔
مصدر:https://x.com/AbuHafsahKK/status/1966852225679933481?t=GwMoVVeXUhTxrTqTSDEOgw&s=19