آئمہ کرام کے اقوال کی روشنی میں اپنی رائے کو سنت کے مقابلے میں چھوڑ دینے کی تاکید، اور اندھی تقلید کی مذمت —حصہ 3 : محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ

حصہ 3

محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ 204 ھ)

امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول وہ احادیث جو حدیث کی اتباع، اندھی تقلید سے اجتناب اور آراء کی مخالفت کے بارے میں ہیں، سب سے زیادہ معتبر اور نفیس ہیں۔ ابن حزم الأندلسی (متوفیٰ 456ھ) نے فرمایا۔

إِنَّ الفُقَهَاءَ الَّذِينَ قُلِّدُوا مُبْطِلُونَ لِلتَّقْلِيدِ وَإِنَّهُمْ نَهَوْا أَصْحَابَهُمْ عَنْ تَقْلِيدِهِمْ وَكَانَ أشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ الشَّافِعِيُّ فَإِنَّهُ رَحِمَهُ اللهُ بَلَغَ مِنَ التَّأْكِيدِ فِي اتِّبَاعِ صَحَاحِ الآثَارِ وَالأَخْذِ بِمَا أَوْجَبَتْهُ الحُجَّةُ حَيْثُ لَمْ يَبْلُغْ غَيْرُهُ وَتَبَرَّأَ مِنْ أَنْ يُقَلَّدَ جُمْلَةً وَأَعْلَنَ بِذَلِكَ نَفَعَهُ اللهُ بِهِ وَأَعْظَمَ أَجْرَهُ فَلَقَدْ كَانَ سَبَبًا إِلَى خَيْرٍ كَثِيرٍ

فقہاء جن کی تقلید کی جاتی ہے، وہ خود تقلید کو رد کرتے تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کو اپنی تقلید سے منع کرتے تھے۔ ان سب میں سب سے زیادہ سخت اور پختہ موقف رکھنے والے امام شافعی رحمہ اللہ تھے، کیونکہ وہ سب سے زیادہ تاکید کرتے تھے کہ صحیح احادیث کی اتباع کی جائے اور جو شرعی دلائل لازم کرتے ہیں اسے قبول کیا جائے۔ انہوں نے خود کو مکمل طور پر اندھی تقلید سے آزاد کرلیا اور اس کا اعلان بھی کیا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان سے فائدہ دے اور ان کو عظیم اجر عطا فرمائے، یقیناً وہ بہت سی خیر کثیر کا سبب بنے۔

،( ابن حزم، اُصول الأحکام جلد 6، صفحہ 118)

پہلا قول

امام الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

مَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَتَذْهَبُ عَلَيْهِ سُنَّةٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعْزُبُ عَنْهُ فَمَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ أَوْ أَصَّلْتُ مِنْ أَصْلٍ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلافُ مَا قُلْتُ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلِي

ایسا کوئی شخص نہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا کچھ معلوم نہ ہو یا جسے کچھ سنت سمجھ میں نہ آئے۔لہٰذا جو کچھ میں نے کہا یا جس اصول کو میں نے وضع کیا، اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصوص کے خلاف ہو، تو صحیح قول وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور یہی میرا موقف ہے۔

 یہ روایت الحاکم نے نقل کی ہے، جس کی سند مکمل طور پر اشرف الشافعی تک متصل ہے، جیسا کہ تاریخ دمشق میں ابن عساکر (جلد 3، حصہ 1، صفحہ 15) میں ذکر ہے۔اسی طرح یہ روایت ابن القیم کی کتاب اعلام الموقّعین (جلد 2، صفحات 363–364) اور الإیقاظ (صفحہ 100) میں بھی موجود ہے۔

دوسرا قول

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

أَجْمَعَ المُسْلِمُونَ على أَنَّ مَنْ اسْتَبَانَ لَهُ سُنَّةٌ عن رسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَدَعَهَا لِقَوْلِ أَحَدٍ

مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت واضح طور پر پہنچ جائے، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اسے کسی کی رائے یا قول کی وجہ سے چھوڑ دے۔

ابن القیم رحمہ اللہ کی کتاب إعلام الموقعین (جلد 2، صفحہ 361) میں، اور الفلانی کی کتاب الإیقاظ (صفحہ 68) میں یہ مذکور ہے۔

تیسرا قول

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

إِذَا وَجَدْتُم فِي كِتَابِي خِلَافَ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولُوا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعُوا مَا قُلْتُ

اگر تم میری کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف کوئی بات پاؤ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کرو اور میری بات کو چھوڑ دو۔

ایک اور روایت میں انہوں نے فرمایا۔

فَاتَّبِعُوهَا وَلَا تَلْتَفِتُوا إِلَى قَوْلِ أَحَدٍ

پس سنت کی پیروی کرو، اور کسی اور کی بات کی طرف مت دیکھو۔

الھروی فی ذمّ الكلام (3/47/1)؛ الخطيب فی الاحتجاج بالشافعی (8/2)؛ ابن عساكر (1/9/15)؛ النووي فی المجموع (1/63)؛ ابن القيم (2/361)؛ الفُلانی (ص. 100) ، والتقرير الثانی من أبی نُعيم في الحليہ (9/107)؛ وابن حبان في صحيحه (الإحسان 3/284) مع إسناده الصحيح إلى الشافعی ۔

چوتھا قول

امام الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

إِذَا صَحَ الحَدِيثُ فَهُوَ مَذْهَبِي

جب کوئی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو وہی میرا مذہب ہے۔

النووی نے المجموع (1/63) میں اور الشعرانی (1/57) میں اس کا ذکر کیا، اور اس نے اسے الحاکم اور البیہقی کی طرف منسوب کیا۔ دیکھیں الفُلانی (ص. 107)۔

أَي صَحَ عِندَهُ أَوْ عِندَ غَيْرِهِ مِنَ الْأَئِمَّةِ

یعنی جو خود اس کے نزدیک یا اس کے علاوہ علماء کے نزدیک صحیح اور مستند ہو۔

الشعرانی (1/57)

النووي رحمه الله نے خلاصہ بیان کیا۔

ہمارے علماء نے اس بات پر عمل کیا، جیسے تثویب (اذانِ فجر میں مؤذن کا ” الصلاة خير من النوم” کہنا ) کے مسئلے میں، بیماری کی وجہ سے احرام سے نجات کے امور میں، اور دیگر معروف معاملات میں جو شافعی مسلک کی کتابوں میں بیان ہوئے ہیں۔ شافعی علماء میں سے جنہوں نے حدیث کی بنیاد پر فتویٰ دیا، ان میں ابو یعقوب البویطی اور ابو القاسم الدارکی شامل ہیں۔ بعد کے ہمارے علماء حدیث میں، جنہوں نے فقہی مسائل میں حدیث کو بنیاد بنایا، امام ابو بکر البیہقی اور دیگر شامل ہیں۔ہمارے مسلک کے ابتدائی علماء کا ایک گروہ، جب کسی معاملے میں حدیث موجود تھی اور شافعی مسلک اس کے خلاف تھا، تو انہوں نے حدیث پر عمل کیا اور اس کے مطابق حکم صادر کیا، اس قول کے ساتھ

مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ مَا وَافَقَ الحَدِيثَ

 شافعی کا مذہب وہی ہے جو حدیث کے مطابق ہو۔

شافعی عالم ابو عمرو ابن الصلاح (متوفیٰ 643ھ) فرماتے ہیں۔

جو شخص شافعی فقہ سے وابستہ ہو اور اسے کوئی ایسی حدیث ملے جو اس کے فقہی مسلک کے خلاف ہو، تو وہ پہلے دیکھے کہ کیا وہ مطلق اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہے، یا کم از کم اس باب میں اجتہاد کرنے کی قابلیت رکھتا ہے؟ اگر وہ اس قابل ہے تو پھر اس پر لازم ہے کہ حدیث پر ہی عمل کرے، خواہ وہ مسلک کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر وہ اجتہاد کی شرائط نہیں رکھتا، مگر حدیث کے خلاف جانا اس پر گراں ہو، اور تحقیق کرنے کے بعد بھی حدیث کے خلاف کوئی مضبوط جواب نہ پاسکے، تو پھر اس پر لازم ہے کہ حدیث پر ہی عمل کرے۔ اگر اس حدیث پر امام شافعی کے علاوہ کسی مستقل امام ( یعنی وہ بڑا فقیہ و مجتہد جو کسی دوسرے امام کا مقلد نہ ہو، بلکہ خود اصول و فروع میں اجتہاد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو؛ جیسے امام مالک، امام احمد، امام ابوحنیفہ، امام اوزاعی، امام لیث بن سعد وغیرہ) نے عمل کیا ہو۔ اس صورت میں اپنے امام کے قول سے ہٹ جانا اُس کے لیے عذرِ شرعی ہے۔

ابن الصلاح کا یہ قول درست، اور مستند ہے، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا۔

ایک اور صورت ہے جو شاید ابن صلاح کے ذہن میں نہ آئی ہو، اور وہ یہ ہے: ‘اگر کسی شخص کو ایسا عالم نہ ملے جس نے حدیث کے مطابق عمل کیا ہو، تو وہ کیا کرے؟’

تقی الدین سبکی نے اپنے رسالے جس کا عنوان ہے: معنی قول شافعی: اگر کوئی حدیث صحیح پائی جائے تو یہی میرا مسلک ہے (4/102) میں اس کا جواب دیا اور فرمایا: ‘میری رائے میں بہتر یہ ہے کہ حدیث کی پیروی کی جائے۔ انسان یہ تصور کرے کہ وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہے اور یہ حدیث براہِ راست ان سے سن رہا ہے۔ کیا اس کے لیے جائز ہوگا کہ وہ اس پر عمل کرنے میں تاخیر کرے؟ اللہ کی قسم، ہرگز نہیں… اور ہر شخص پر اس کی سمجھ کے مطابق بوجھ ہے۔

اس موضوع کی مکمل تحقیق، مطالعہ اور تصدیق اعلام الموقّعین (2/302,370) اور إيقاظ الھمم از صالح ابن محمد العمری المعروف بالفُلانی (وفات 1217ھ) میں مل سکتی ہے۔بعد والی کتاب اس موضوع میں ایک منفرد اور اہم اثر ہےہر اُس شخص کے لیے لازمی مطالعہ ہے جو حق کی محبت رکھتا ہو۔ اسے چاہیے کہ اس کا مطالعہ کرے، سمجھے اور غور کرے۔اس کا مکمل عنوان ہے: إيقاظُ الهِمَمِ لأولي الأبصار، للاقتداءِ بسيِّدِ المهاجرينَ والأنصار، وتحذيرُهم عن الابتداعِ الشائعِ في القرى والأمصار، من تقليدِ المذاهبِ مع الهمَّةِ والعصبيَّةِ بين فقهاءِ العصور.اس کا مفہوم ہے:ان لوگوں کی خواہشات کو بیدار کرنا جو بصیرت کے حامل ہیں، تاکہ وہ مہاجرین اور انصار کے رہنما کی اتباع کریں، اور انہیں دیہات اور شہروں میں پائی جانے والی عام بدعات سے خبردار کریں، جو کہ مذاہب کی اندھی تقلید اور فقہاء میں جانبداری و تعصب سے پیدا ہوتی ہیں۔

پانچواں قول

 امام شافعی رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمه الله سے فرمایا

أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ وَالرِّجَالِ مِنّى فَإِذَا كَانَ الحَدِيثُ صَحِيحًا فَأَعْلِمُونِي بِهِ – أَيُّ شَيْءٍ يَكُونُ : كُوفِيًا أَوْ بَصْرِيًّا أَوْ شَامِيًّا – حَتَّى أَذْهَبَ إِلَيْهِ إِذَا كَانَ صَحِيحًا

تم حدیث اور راویوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہو۔ لہٰذا جب کوئی حدیث صحیح ہو، تو مجھے اس سے آگاہ کرو، چاہے وہ کوفہ کی ہو، بصرہ کی ہو یا شام کی، تاکہ میں اس کے مطابق عمل کر سکوں، بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو۔

ابن ابی حاتم نے آداب الشافعی (ص 94-95) میں، ابو نعیم نے الحلیہ (9/106) میں، الخاطب نے الاحتجاج بالشافعی (8/1) میں، اور ان سے ابن عساکر (15/9/1) نے نقل کی، ابن عبد البر نے الإقناع (ص 75) میں، ابن الجوزی نے مناقب الإمام احمد (ص 499) میں؛ الھروی نے (2/47/2) تین سلسلوں کے ساتھ عبداللہ ابن امام احمد سے، جو ان کے والد سے روایت کرتے ہیں، نقل کیا کہ شافعی نے ان سے فرمایا… (اور روایت بیان کی گئی)۔ اسی وجہ سے ابن القیم نے اس کو مضبوطی سے الاعلام (2/325) میں اسی کے حوالے سے منسوب کیا، اور الفلانی نے إيقاظ الھمم (ص 152) میں نقل کیا۔

الفُلانی نے ایقاظ الھمم (ص152) فرمایا ،البیہقی نے کہا: ‘اسی وجہ سے شافعی نے احادیث سے کثرت سے استفادہ کیا۔ انہوں نے حجاز، شام، یمن اور عراق کے لوگوں کے علم کو جمع کیا اور جو بھی صحیح دیکھتے، اسےقبول کرتے، بغیر اس کے کہ اپنی سرزمین کے اہلِ مَذہب کی طرف مائل ہوں یا اسے ترجیح دیں، جب انہیں کہیں اور حق واضح نظر آتا۔ اور، ان سے پہلے جو لوگ آئے، وہ صرف اپنی سرزمین کے اہلِ مَذہب کی روایات تک محدود رہ گئے اور اس کے مخالف چیز کی درستگی معلوم کرنے کی کوشش نہ کی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ان تمام صالحین و مومنین کو اپنی وسیع رحمت و مغفرت سے نوازے۔’

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اہلِ حدیث و سنت خود کو اس سرزمین کے مذہب تک محدود نہیں کرتے جہاں وہ رہتے ہیں، اور نہ ہی اس مذہب کی اندھی تقلید دوسروں پر لازم ٹھہراتے ہیں۔ لہٰذا، پاکستان میں رہنے والا شخص لازم نہیں کہ اہلِ حنفیہ کے فقہ کی پیروی کرے، مراکش کے لوگ لازم نہیں کہ اہلِ مالکیہ کے فقہ پر عمل کریں، اور اسی طرح باقی، جب تک کہ کوئی کسی دلیل سے ثابت نہ ہو۔ اس لیے ہم اہلِ حدیث کے مذہب کی طرف دعوت دیتے ہیں، یعنی احکام میں دلائل کے مطابق عمل کرنا، چاہے یہ کسی علاقے کے مذہب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو،یہی بات اندھی تقلید کرنے والوں کو ناگوار گزرتی ہے ۔

چھٹا قول 

امام الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

كُلِّ مَسْأَلَةٍ صَحَّ فِيهَا الخَبَرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِندَ أَهْلِ النَّقْلِ بِخِلَافِ مَا قُلْتُ فَأَنَا رَاجِعُ عَنْهَا فِي حَيَاتِي وَبَعْدَ مَوْتِي

ہر وہ مسئلہ جس کے بارے میں راویوں کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح روایت موجود ہو اور جو میرے قول کے مخالف ہو، میں اس سے اپنی زندگی میں بھی رجوع کروں گا اور اپنی وفات کے بعد بھی۔

ابو نُعیم نے الحِلْیہ میں (9/107) ذکر کیا؛ الھراوی نے ذَمّ الھوىٰ میں (1/48) بیان کیا؛ ابن القیم نے إِعلام الموقّعین میں (2/363) نقل کیا؛ اور الفُلانی نے صفحہ 104 پر ذکر کیا۔

ساتواں قول

امام الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

إِذَا رَأَيْتُمُونِي أَقُولُ قَوْلًا وَقَدْ صَحَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافُهُ فَاعْلَمُوا أَنَّ عَقْلِي قَدْ ذَهَبَ

اگر تم مجھے کوئی بات کہتے ہوئے دیکھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح روایت کے خلاف ہو، تو جان لو کہ میری عقل زائل ہو چکی ہے۔

اسے ابن ابی حاتم نے آداب الشافعی (ص 93) میں روایت کیا ہے، نیز ابو القاسم السمرقندی نے الامالی میں—جس کو ابو حفص المؤدب نے المنتقیٰ منہا (1/234) میں نقل کیا ہے؛ اور ابو نعیم نے حلیہ الاولیاء (9/106) میں؛ اور ابن عساکر نے (15/10/1) میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند صحیح ہے۔

آٹھواں قول

امام الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

كُلُّ مَا قُلْتُ فَكَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَ قَوْلِي مِمَّا يَصِحُّ فَحَدِيثُ النَّبِيِّ أَوْلَى فَلَا تُقَلِّدُونِي

جو کچھ میں نے کہا ، اگر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح روایت کے خلاف کوئی بات ہو تو حدیثِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنا زیادہ اولیت ہے، لہٰذا میری اندھی تقلید نہ کرو۔

ابن ابی حاتم (ص 93)، ابو نعیم، اور ابن عساکر (15/9/2) نے اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

نواں قول

امام الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

كُلُّ حَدِيثٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ قَوْلِي وَإِنْ لَمْ تَسْمَعُوهُ مِنِّي

ہر وہ حدیث جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہوئی ہے، تو وہ ہی میرا قول ہے، چاہے تم نے اسے مجھ سے نہ سنا ہو۔

ابن ابی حاتم،(ص93,94)

مصدر: abukhadeejah.com