کیامردے قبر میں بات چیت کرتے ہیں ؟
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ سے سوال ہوا : کیا مردہ اپنے قبر میں بولتا ہے؟
آپ نے فرمایا : سائل کے سوال کے بارے میں کہ ’’کیا مردہ اپنی قبر میں بات کرتا ہے؟‘‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں، مردہ بات کرتا ہے، اور بعض اوقات وہ اس شخص کی بات بھی سن لیتا ہے جو اس سے کلام کرتا ہے۔جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
میت لوگوں کے چلے جانے کے بعد ان کے جوتوں کی آہٹ سنتے ہیں۔
اور صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ مردے سے قبر میں سوال کیا جاتا ہے
اس سے کہا جاتا ہے
تیرے رب کون ہے؟
تیرا دین کیا ہے؟
اور تیرا نبی کون ہے؟
تو اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھتا ہے، وہ جواب دیتے ہیں
اللہ میرا رب ہے، اسلام میرا دین ہے، اور محمد ﷺ میرے نبی ہیں۔
اور اس سے پوچھا جاتا ہے
اس شخص (محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتے ہو جو تم میں بھیجے گئے تھے؟
تو مومن کہتا ہے:وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، ہم نے ان پر ایمان لایا اور ان کی پیروی کی۔یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر ہے:
“اللہ ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔” (ابراہیم: 27)
نبی ﷺ سے صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ یہ آیت عذابِ قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اور منافق بھی قبر میں بات کرتا ہے، لیکن وہ کہتا ہے
ہائے افسوس! مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میں نے لوگوں سے کچھ سنا تھا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔
پھر اسے لوہے کی بڑی ہتھوڑا نما چیز سے مارا جاتا ہے، وہ ایسی چیخ مارے گا جسے سب مخلوق سنتی ہے مگر انسان نہیں سنتا۔
صحیح البخاری : 1369
:اور نبی ﷺ نے فرمایا
اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دیں، تو میں دعا کرتا کہ اللہ تمہیں عذابِ قبر کی وہ آوازیں سنا دے جو میں سنتا ہوں۔
اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن جب کفار کی لاشوں کو کنویں میں ڈال دیا تو انہیں پکار کر فرمایا
تم میری بات سننے میں اُن زندوں سے کم نہیں ہو۔
ان تمام باتوں پر بہت سی صحیح اور مشہور روایات موجود ہیں۔
واللہ اعلم۔
مجموعہ فتاوی للشیخ الاسلام ابنِ تیمیہ : ۲\ ۱٦۸
مترجم محمد قاسم