اسلام کی فضیلت — امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ (حصہ 11) باب اللہ تعالیٰ کا فرمان فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا

باب 11

باب اللہ تعالیٰ کا فرمان فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا

:شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا ،  اللہ تعالیٰ کا ارشاد

 فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّینِ حَنِیفࣰاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِی فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَیۡهَاۚ لَا تَبۡدِیلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَ ٰ⁠لِكَ ٱلدِّینُ ٱلۡقَیِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا یَعۡلَمُونَ 

پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

(سورۃ الروم:30)

:اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

 وَوَصَّىٰ بِهَاۤ إِبۡرَ ٰ⁠هِـۧمُ بَنِیهِ وَیَعۡقُوبُ یَـٰبَنِیَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّینَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ

اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔

(سورۃ البقرہ:132)

:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد

 ثُمَّ أَوۡحَیۡنَاۤ إِلَیۡكَ أَنِ ٱتَّبِعۡ مِلَّةَ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ حَنِیفࣰاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِینَ 

پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے۔

(سورۃ النحل:123)

:ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

  إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِيِّي أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ۔ سورة آل عمران آية 68 

ہر نبی کے انبیاء میں سے کچھ دوست ہیں اور ان میں سے میرے دوست ابراہیم ہیں، جو میرے باپ اور میرے رب کے خلیل ہیں، اس کے بعد آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔

إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين

سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان ﻻئے،  مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے۔

(سنن ترمذی: 2995)

:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ

اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔

(صحیح مسلم:2564)

امام ابن باز رحمہ اللہ کا بیان

یہ حدیث، جو صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے، بیان کرتی ہے: بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔

لہٰذا اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل اعتبار دلوں اور اعمال کا ہے۔ رہی جسمانی شکل و صورت، جائیداد اور مال و دولت، تو ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں اگر انہیں اللہ کی اطاعت میں استعمال نہ کیا جائے۔

پس اللہ تعالیٰ کی نظرِ عنایت دل پر ہوتی ہے: کیا وہ اللہ کی محبت پر ثابت قدم ہے؟

کیا وہ اللہ کے لیے اخلاص رکھتا ہے؟

کیا اس میں اللہ کا خوف اور اس کی رحمت کی امید موجود ہے؟

اور اسی طرح اعمال پر بھی نظر ہوتی ہے کہ: کیا وہ خالصتاً اللہ کے لیے انجام دیے جا رہے ہیں؟

کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہیں؟

یہی وہ اعمال ہیں جو انسان کو نفع دیتے ہیں، یعنی دل کی اصلاح اور اعمال کی اصلاح۔

سوال: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان “اللہ نہیں دیکھتا…” کا کیا معنی ہے؟

جواب:”اللہ نہیں دیکھتا” سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو جانتا نہیں یا ان سے بے خبر ہے، کیونکہ اللہ ہر چیز کو دیکھنے والا اور جاننے والا ہے۔

بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ نظرِ قبولیت، نظرِ رضا اور نظرِ عنایت مراد نہیں جو عزت، اہمیت اور اجر کا سبب بنتی ہے۔

:یہ اسی طرح ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے

ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ 

تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ کلام فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

(106:صحیح مسلم)

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں دیکھنے کی صفت نہیں رکھتا، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ ان پر رحمت، رضا اور اکرام کی نظر نہیں فرمائے گا کیونکہ انہوں نے ایسے گناہ کیے ہوں گے جو اس سخت وعید کے مستحق بناتے ہیں۔

کتاب کا متن

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: امام بخاری اور امام مسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، لَيُرْفَعَنَّ إِلَيَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ، حَتَّى إِذَا أَهْوَيْتُ لِأُنَاوِلَهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَصْحَابِي، يَقُولُ: لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

حوض کوثر پر تم لوگوں کا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں (حوض کا پانی) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں۔

(صحيح البخاری: 7049)

امام ابن باز رحمہ اللہ کا بیان

:ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں

 وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أَصْحَابِي، أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ

اور میرے اصحاب میں سے بعض کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو میں پکار اٹھوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں، میرے اصحاب! لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں نے پھر کفر اختیار کر لیا تھا۔

(صحیح بخاری:3349)

پس یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر انہیں حوضِ کوثر سے روکا جائے گا، کیونکہ انہوں نے دین کو چھوڑ دیا تھا۔وہ لوگ جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مرتد ہو گئے تھے، انہیں بھی حوض سے پانی پینے سے روک دیا جائے گا۔ البتہ جو لوگ ایمان پر فوت ہوئے، وہ یقیناً حوضِ کوثر تک پہنچیں گے اور اس سے سیراب ہوں گے۔

کتاب کا متن

شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ، مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ، أَلَا هَلُمَّ؟ فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا، سُحْقًا

میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو (بھی) دیکھا ہوتا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے جواب دیا:’’تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک (دنیا میں ) نہیں آئے۔‘‘ اس پر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو ،جو ابھی (دنیامیں ) نہیں آئے ، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا:’’بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے (اور ) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟‘‘ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا:’’وہ وضو کی بناپر روشن چہروں ، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشرو ہوں گا، خبردار ! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹا ئے جائیں گے ، جیسے (کہیں اور کا) بھٹکا ہوا اونٹ (جوگلے کا حصہ نہیں ہوتا) پرے ہٹا دیا جاتا ہے ، میں ان کی آواز دوں گا، دیکھو! ادھر آ جاؤ۔ تو کہا جائے گا ، انہوں نے آپ کے بعد (اپنے قول و عمل کو ) بدل لیا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ۔‘‘۔

(صحيح مسلم: 249)

شرح

اللہ اکبر ، اللہ کی شان کتنی عظیم ہے! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمائیں گے: “دور ہو جاؤ! دور ہو جاؤ!” یعنی: “تم مجھ سے دور رہو، تم وہ لوگ ہو جنہوں نے میرے بعد اپنے دین میں تبدیلی اور تحریف کی”۔اور اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کسی میں (گناہ سے بچنے کی) طاقت ہے اور نہ (نیکی کرنے کی) قوت۔

یہی ان کی امت کی نمایاں علامت ہوگی کہ وضو کے اثر سے ان کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں نور سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ امت ہے جس نے آپ کی دعوت کو قبول کیا، آپ کی اطاعت کی، اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ثابت قدم رہی۔

سوال:  شیخ! عفا الله عنك ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اباضیہ اور زیدیہ فرقوں کے پیروکار، چاروں فقہی مذاہب کے پیروکاروں سے بہتر ہیں۔

جواب: محض کسی چیز کی طرف نسبت ہونا معیار نہیں ہے، بلکہ اصل اعتبار عقیدہ کا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا۔ چاروں فقہی مذاہب کی طرف نسبت رکھنے والوں میں بھی بعض لوگ گمراہ ہیں اور بعض ہدایت یافتہ ہیں۔ تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھامے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج پر گامزن رہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اسی کے لیے کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کرے، اس کے دین پر ثابت قدم رہے، اور بدعات کو چھوڑ دے۔ یہی لوگ اہل السنۃ والجماعۃ ہیں۔

اباضیہ خوارج کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں۔ ان کی نسبت ان کے بانی عبداللہ بن اباض التمیمی کی طرف کی جاتی ہے۔ اگرچہ وہ خوارج کے انتہائی غالی گروہوں، مثلاً ازارقہ، میں شمار نہیں ہوتے، تاہم متعدد مسائلِ عقیدہ میں وہ خوارج کے موافق ہیں۔

ان کے گمراہ کن عقائد میں سے یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کی صفات کی نفی کرنا، قرآنِ مجید کو مخلوق قرار دینا، اور ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) کو جائز سمجھنا۔ نیز وہ اس بات کا بھی انکار کرتے ہیں کہ اہلِ ایمان آخرت میں اپنے رب کو دیکھیں گے، اور میزان و پلِ صراط کے برحق ہونے کے بھی منکر ہیں۔

ان کا عقیدہ ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہو جاتا ہے، اور اگر وہ توبہ کیے بغیر اسی گناہ پر اصرار کرتے ہوئے مر جائے تو اس کے لیے جنت میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ نیز ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں کو معاف نہیں فرماتا، الا یہ کہ بندہ موت سے پہلے ان سے توبہ کر لے۔

اس کے برعکس، اہل السنۃ والجماعۃ ایسے شخص کو کافر نہیں بلکہ فاسق (گناہ گار اور نافرمان مسلمان) قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ توبہ کیے بغیر فوت ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہے،اگر اللہ چاہے تو اپنے فضل سے اسے معاف فرما دے، اور اگر چاہے تو اپنے عدل کے تقاضے کے مطابق اسے سزا دے، یہاں تک کہ وہ اپنے گناہوں سے پاک کر دیا جائے، پھر اسے جنت میں داخل فرما دے۔

جبکہ اباضیہ کا عقیدہ ہے کہ گناہ گار ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس عقیدے میں وہ دیگر خوارج اور معتزلہ کے موافق ہیں، جو گناہ گار مسلمانوں کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کے قائل ہیں۔

اسی بنا پر وہ اہلِ توحید میں سے گناہ گاروں کے حق میں شفاعت کا بھی انکار کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک جب گناہ گار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے تو انہیں جہنم سے نکالنے کے لیے کسی شفاعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مزید برآں، وہ بعض جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، مثلاً عثمان بن عفان، معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کی تنقیص کرتے ہیں۔

(دیکھیے: موسوعة الأديان والمذاهب المعاصرة، 1/63)

زیدیہ شیعہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں، جن کی نسبت زید بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب (متوفی 122ھ) کی طرف کی جاتی ہے۔

ان کا عقیدہ ہے کہ ابوبکر، عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کی خلافت صحیح اور برحق تھی، البتہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیگر تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ افضل سمجھتے ہیں۔ اسی طرح وہ ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔

امام سمعانی رحمہ اللہ نے فرمایا: اکثر اہلِ علم کا موقف یہی ہے کہ زیدیہ اہلِ بدعت ہیں۔

(الأنساب، 6/365)

جہاں تک رافضہ اثنا عشریہ (امامیہ) کا تعلق ہے، ان کے نزدیک علی بن الحسین زین العابدین کے بعد امامت ان کے صاحبزادے محمد الباقر (ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین) کو منتقل ہوئی۔جبکہ زیدیہ کا عقیدہ ہے کہ امامت کے سب سے زیادہ حق دار زید بن علی بن الحسین تھے، اور اسی نسبت سے وہ زیدیہ کہلائے۔ محمد الباقر، زید بن علی کے بڑے بھائی تھے۔ عمومی طور پر شیعہ فرقوں میں زیدیہ، اہل السنۃ والجماعۃ کے سب سے زیادہ قریب شمار ہوتے ہیں۔ تاہم تمام زیدیہ یکساں نہیں ہیں۔ ان میں بعض ایسے غالی بھی پائے جاتے ہیں جو ابوبکر، عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کی تنقیص کرتے ہیں۔ یہ جارودیہ ہیں، اور حقیقت میں یہی رافضہ ہیں۔ مزید یہ کہ زید بن علی کے بعد زیدیہ، عقیدہ میں معتزلی اور فقہ میں حنفی ہو گئے۔

کتاب کا متن

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: امام بخاری رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ، وَاللَّهِ قُلْتُ: وَمَا شَأْنُهُمْ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ، وَاللَّهِ قُلْتُ: مَا شَأْنُهُمْ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، فَلَا أُرَاهُ يَخْلُصُ مِنْهُمْ إِلَّا مِثْلُ هَمَلِ النَّعَمِ

 میں سویا ہوا تھا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئی۔ جب میں نے انہیں پہچان لیا تو ایک آدمی میرے اور ان کے درمیان سے نکلا اور ان سے کہا: ادھر آؤ۔ میں نے کہا: انہیں کدھر جانا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! جہنم کی طرف لے جانا ہے۔ میں نے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ یعنی کیا وجہ؟ اس نے کہا: یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آیا۔ جب میں نے انہیں بھی پہچان لیا تو ایک شخص میرے اور ان کے درمیان سے نکلا اور ان سے کہا: ادھر آؤ۔ میں نے پوچھا: انہیں کدھر جانا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! جہنم کی طرف۔ میں نے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ یعنی کیا وجہ؟ اس نے کہا: یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا مگر اکا دکا لوگ جو چرواہے کے بغیر بے کار اونٹوں کی طرح ہوں گے۔

(صحيح البخاری: 6587)

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، بے لباس، بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔

كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ

جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں۔ [سورة الأنبياء: 104] ۔

یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنہیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انہیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے:

وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ * إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے۔ [سورة المائدة: 117-118] ۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جواب دیا جائے گا: جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔

 اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: ”تو کہا جائے گا

إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔

( صحیح مسلم:2860)

 مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30 الْآيَةَ “

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اللہ پر ایمان اور اچھائی کی محبت) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے ایک جانور (ماں) کامل الاعضاء جانور (بچے) کو جنم دیتی ہے، کیا تمہیں ان میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور نظر آتا ہے؟“پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو:

”یہی اللہ کی (عطا کردہ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق فرمائی، اللہ کی تخلیق میں ردوبدل نہیں ہوتا۔“

(صحيح مسلم : 2658)

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا

كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟، قَالَ: قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟، قَالَ: نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ، قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟، قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ

لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں اس خوف سے کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر (اسلام) عطا کی، تو کیا اس خیر کے بعد پھر سے شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن اس (خیر) میں کچھ دھندلاہٹ ہو گی۔“ میں نے عرض کی: اس کی دھندلاہٹ کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کے بجائے دوسرا طرزِ عمل اختیار کریں گے اور میرے نمونہ عمل کے بجائے دوسرے طریقوں پر چلیں گے، تم ان میں اچھائی بھی دیکھو گے اور برائی بھی دیکھو گے۔“ میں نے عرض کی: کیا اس خیر کے بعد، پھر کوئی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلانے والے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہمارے سامنے ان کی (بری) صفات بیان کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہ لوگ بظاہر ہماری طرح کے ہوں گے اور ہماری ہی طرح گفتگو کریں گے۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر وہ زمانہ میری زندگی میں آ جائے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلمانوں کی جماعت اور مسلمانوں کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔“ میں نے عرض کی: اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت ہو نہ امام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان تمام فرقوں (بٹے ہوئے گروہوں) سے الگ رہنا، چاہے تمہیں درخت کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ تمہیں موت آئے تو تم اسی حال میں ہو۔“

(صحیح بخاری:7084, صحیح مسلم: 1847)

قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ هِيَ قِيَامُ السَّاعَةِ”.

 میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ نہر بھی ہو گی اور آگ بھی جو اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر ثابت ہو گیا، اور اس کے گناہ معاف ہو گئے، اور جو اس کی (اطاعت کر کے) نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا، اور اس کا اجر ختم ہو گیا“ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قیامت قائم ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4244]

ابوالعالیہ رحمہ اللہ (متوفی 90ھ) نے فرمایا

تَعَلَّمُوا الْإِسْلَامَ فَإِذَا تَعَلَّمْتُمُوهُ فَلَا تَرْغَبُوا عَنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ فَإِنَّهُ الْإِسْلَامُ وَلَا تَتَحَرَّفُوا عَنِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا وَعَلَيْكُمْ بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ. وَإِيَّاكُمْ وَهَذِهِ الْأَهْوَاءَ

“اسلام سیکھو، اور جب اسلام سیکھ لو تو پھر اس سے منہ نہ موڑنا۔ تم پر لازم ہے کہ صراطِ مستقیم کو مضبوطی سے تھامے رکھو، کیونکہ یہی اسلام ہے۔ اس راستے سے نہ دائیں طرف مڑنا اور نہ بائیں طرف۔ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور ان خواہشات (یعنی بدعات) سے دور رہو۔”

مروزی نے السنۃ (حدیث نمبر: 27)، معتمر بن راشد نے الجامع (11/367)، اور ابونعیم نے حلیۃ الأولیاء (2/218) میں روایت کیا ہے۔

ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے اس کلام پر غور کیجیے، کتنا عمدہ اور گہرا کلام ہے! اور اس دور کو بھی سامنے رکھیے جس میں انہوں نے خواہشاتِ نفس اور بدعات (اہواء) سے خبردار کیا، یہاں تک کہ انہوں نے واضح فرمایا کہ جو شخص ان خواہشات کی پیروی کرتا ہے، وہ اسلام سے پھر جاتا ہے۔ اور یہاں اسلام سے مراد سنت ہے۔ اس کے باوجود، انہیں تابعین کے بہترین لوگوں اور ان کے علماء کے بارے میں بھی یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ سنت اور کتاب اللہ کو چھوڑ نہ بیٹھیں۔ یہ بات آپ پر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مفہوم واضح کر دیتی ہے۔

  إِذۡ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥۤ أَسۡلِمۡۖ قَالَ أَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ

جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔

(سورۃ البقرہ:131)

 وَوَصَّىٰ بِهَاۤ إِبۡرَ ٰ⁠هِـۧمُ بَنِیهِ وَیَعۡقُوبُ یَـٰبَنِیَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّینَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ 

اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔

(سورۃ البقرہ:132)

 وَمَن یَرۡغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبۡرَ ٰ⁠هِـۧمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفۡسَهُۥۚ  

دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو۔

(سورۃ البقرہ:130)

اور اسی طرح کے یہ عظیم اصول ہیں، جو اسلام کے تمام اصولوں کی بنیاد ہیں، لیکن بہت سے لوگ ان سے غفلت برتتے ہیں۔جب انسان ان عظیم اصولوں کو اچھی طرح سمجھ لیتا ہے تو اس باب میں مذکور احادیث اور ان جیسی دیگر نصوص کے معانی اس پر واضح ہو جاتے ہیں۔لیکن جو شخص ان احادیث اور آیات کو ان کے صحیح مفہوم کے بغیر پڑھتا ہے، اور ان سے غفلت برتتا ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کا تعلق اس سے نہیں، پھر اپنے آپ کو ہر خطرے سے محفوظ سمجھتا ہے، اور یہ گمان کرتا ہے کہ یہ نصوص صرف ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو گزر چکے اور ہلاک ہو گئے، تو حقیقت میں وہ خود ان لوگوں میں شامل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مخاطب کیا گیا ہے۔

 أَفَأَمِنُوا۟ مَكۡرَ ٱللَّهِۚ فَلَا یَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَـٰسِرُونَ

کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔

(سورۃ الاعراف:99)

عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: “هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ”، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:”هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ، 

ایک دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا اور فرمایا: ”یہ اللہ کا راستہ ہے“، پھر اس کے دائیں بائیں اور خط کھینچے اور فرمایا: ”یہ جو راستے ہیں، ہر راستے پر شیطان کھڑا ہے اور اسی طرف بلاتا ہے۔“

 پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی

 وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَ ٰ⁠طِی مُسۡتَقِیمࣰا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِیلِهِۦۚ ذَ ٰ⁠لِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ 

اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ (سورۃ الانعام:153)

سنن الدارمی، مقدمہ، حدیث: 208۔ امام حسین سلیم اسد نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ نیز دیکھیے: مسند أحمد (1/435)، صحیح ابن حبان (6، 7)، موارد الظمآن (1741)، البدعة (75)، السنۃ للمروزی (11–13)، الشريعة (ص 21)، الإبانة (126)، شرح السنة (97)۔: تخریج الحدیث

امام ابن باز رحمہ اللہ کی شرح

یہ باب اس بات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ مومن باخبر، ہوشیار اور محتاط رہے، اور لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آئے۔ بلکہ اس کی اصل توجہ سنت اور شرعی دلائل پر ہونی چاہیے۔ وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں گمراہی میں مبتلا نہ ہو جائے، اور کبھی اپنے آپ کو اس سے محفوظ نہ سمجھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

أَفَأَمِنُوا۟ مَكۡرَ ٱللَّهِۚ فَلَا یَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَـٰسِرُونَ

کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔

(سورۃ الاعراف:99)

لہٰذا مومن نیک اعمال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے، اور اس کے باوجود اس کے دل میں خوفِ الٰہی رہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہرگز محفوظ نہیں سمجھتا، بلکہ بدعات سے بھی محتاط رہتا ہے اور گناہوں سے بھی بچتا ہے۔ وہ اہلِ حق کا ساتھ اختیار کرتا ہے، ان کے ساتھ ثابت قدم رہتا ہے، اور اہلِ باطل سے دور رہتا ہے، ان کی صحبت اور رفاقت سے اجتناب کرتا ہے۔ یہی ایک سچے مومن کا شیوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 إِنَّ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمۡ خَیۡرُ ٱلۡبَرِیَّةِ ۔ جَزَاۤؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنࣲ تَجۡرِی مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۤ أَبَدࣰاۖ رَّضِیَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوا۟ عَنۡهُۚ ذَ ٰ⁠لِكَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّهُۥ

(سورۃ البینہ 7:8)

بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا

 إِنَّ ٱلَّذِینَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَیۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةࣱ وَأَجۡرࣱ كَبِیرࣱ

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے۔

(سورۃ الملک:12)

مزید فرمایا

 فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِینَ 

 تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو۔

(سورۃ آل عمران:175)

اور فرمایا

 وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ 

اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔

(سورۃ الرحمٰن:46)

لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ ہوشیار، باخبر اور محتاط رہے، اور کبھی اپنے آپ کو ہر خطرے سے محفوظ نہ سمجھے۔ اسے محض یہ کہہ کر کسی بات کو قبول نہیں کر لینا چاہیے کہ: “یہ فلاں کا قول ہے، اور یہ فلاں کی رائے ہے۔” بلکہ اسے اس وقت تک کسی قول کو اختیار نہیں کرنا چاہیے جب تک اسے اس کی دلیل کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ ہو جائے۔