حصہ8
وہ احادیث جو اس بات پر دلیل ہیں کہ بدعات کبیرہ گناہوں سے بھی زیادہ سنگین اور خطرناک ہیں
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
إِنَّ ٱللَّهَ لَا یَغۡفِرُ أَن یُشۡرَكَ بِهِۦ وَیَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَ ٰلِكَ لِمَن یَشَاۤءُ
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ۔
(سورۃ النساء:48)
اس باب کا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ بدعات کبیرہ گناہوں سے بھی زیادہ بُری اور خطرناک ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بدعات اسلام کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور یہ دینِ اسلام میں نئے ایجاد کردہ امور ہیں۔ بدعت دراصل اسلام پر یہ الزام ہے کہ اسلام ناقص ہے، اسی لیے اس میں بدعت اور اضافہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
رہا گناہوں کا معاملہ، تو وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی اور شیطان کی اطاعت کی بنا پر ہوتے ہیں۔ یہ بدعتوں کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہیں، کیونکہ گناہ گار توبہ کر سکتا ہے، اس کی طرف جلدی رجوع کر سکتا ہے اور نصیحت قبول کر لیتا ہے۔
رہا بدعتی، تو وہ اپنے اعمال کو حق اور درست سمجھتا ہے، اسی لیے وہ اپنی بدعات سے توبہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ وہ اپنے ان کاموں کو دین میں محنت اور تقربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھتا ہے، چنانچہ اپنی بدعتوں پر ڈٹا رہتا ہے اور اللہ ہی سے پناہ ہے۔ وہ دراصل یہ گمان کرتا ہے کہ دین کامل نہیں اور اسے بدعتوں اور اضافوں کی حاجت ہے۔
اسی بنا پر بدعتیں گناہوں سے کہیں زیادہ شدید اور زیادہ خطرناک ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے گناہ گاروں کے بارے میں فرمایا
إِنَّ ٱللَّهَ لَا یَغۡفِرُ أَن یُشۡرَكَ بِهِۦ وَیَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَ ٰلِكَ لِمَن یَشَاۤءُ
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ۔
(سورۃ النساء:48)
گناہ گار اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں، اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو انہیں معاف کر دے۔
رہے اہلِ بدعت، تو ان کا شر بہت زیادہ اور ان کا خطرہ بہت شدید ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کی بدعت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دین میں کوئی کمی یا نقص موجود ہے، اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ بدعت لازم آ گئی۔
اور بدعتی اپنے اعمال کو حق اور درست سمجھتا ہے، اسی لیے وہ اس پر قائم رہتا ہے، اسے جاری رکھتا ہے اور اپنی بدعت کے دفاع میں دلیلیں دیتا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے حفظ و سلامتی اور عافیت طلب کرتے ہیں۔
بدعت کرنے والا ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
سوال: یا شیخ، کیا غیر مکفِّرہ بدعت کرنے والا بھی اللہ کی مشیت کے تحت ہے یا نہیں؟؟
جواب: نہیں۔ بدعت کو عام گناہوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔ بدعت کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے، جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لیں۔ ہم اللہ سے عافیت مانگتے ہیں۔
البتہ اگر بدعت شرک (کفر) سے کم درجے کی ہو تو ایسے شخص کے لیے امید باقی رہتی ہے، کیونکہ اس کی بدعت گناہ شمار ہوتی ہے۔ لیکن عام طور پر وہ اس آیت کے تحت نہیں آتا۔
إِنَّ ٱللَّهَ لَا یَغۡفِرُ أَن یُشۡرَكَ بِهِۦ وَیَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَ ٰلِكَ لِمَن یَشَاۤءُ
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ۔
(سورۃ النساء:48)
تاہم، اگر کوئی شخص بدعت کرنے والا ہے، لیکن اس کی بدعت شرک کی حد تک نہیں پہنچتی، تو یہ بدعت گناہ کے حکم میں آتی ہے، اس معنی میں کہ بدعت کرنے والا ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
کتاب کا متن
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبࣰا لِّیُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ
تو اس سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے، تاکہ لوگوں کو گمراه کرے۔
(سورۃ الانعام:144)
اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا
لِیَحۡمِلُوۤا۟ أَوۡزَارَهُمۡ كَامِلَةࣰ یَوۡمَ ٱلۡقِیَـٰمَةِ وَمِنۡ أَوۡزَارِ ٱلَّذِینَ یُضِلُّونَهُم بِغَیۡرِ عِلۡمٍۗ أَلَا سَاۤءَ مَا یَزِرُونَ
اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
(سورۃ النحل:25)
شرح : امام ابن باز رحمہ اللہ
یعنی لوگوں پر اُن تمام لوگوں کا بوجھ ہوگا جنہوں نے بدعات میں اُن کی پیروی کی۔
کتاب کا متن
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
صحیح میں ایک روایت وارد ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کے بارے میں فرمایا
فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ
تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لاَ يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
آخری زمانے میں کچھ نوجوان ظاہر ہوں گے، کم عقل اور ناپختہ فہم کے حامل ہوں گے۔ وہ ایسی باتیں کریں گے گویا لوگوں کی بہترین گفتگو ہو،لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو چیر کر نکل جاتا ہے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا۔ پس جہاں کہیں تم ان سے ملو، انہیں قتل کرو،کیونکہ قیامت کے دن ان کے قاتلوں کے لیے اجر ہے۔
(صحيح البخاری: 5057)
لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا ( عذاب الٰہی سے ) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا ۔
پوری حدیث کا متن مندرجہ ذیل ہے
علی رضی اللہ عنہ نے ( یمن سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا ، اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی ، عیینہ بن بدر فزاری ، زید طائی بنی نبہان والے اور علقمہ بن علاثہ عامری بنو کلاب والے ، اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظرانداز کر دیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں ( کیونکہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں ) پھر ایک شخص سامنے آیا ، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں ، کلے پھولے ہوئے تھے ، پیشانی بھی اٹھی ہوئی ، ڈاڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا ۔ اس نے کہا اے محمد ! اللہ سے ڈرو ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانت دار بنا کر بھیجا ہے ۔ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی ، میرا خیال ہے کہ یہ خالد بن ولید تھے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا ، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی نسل سے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) اس شخص کے بعد اسی کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے ، جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے ، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے ، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا ( عذاب الٰہی سے ) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا ۔
(صحيح البخاری: 3344)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سخت الفاظ ان کی بدعت کی سنگینی کی وجہ سے ہیں، اور اس لیے بھی کہ وہ لوگوں کو شبہ میں ڈال دیتے ہیں، کیونکہ وہ قرآن کی تلاوت اور نماز میں بہت زیادہ محنت اور مشغولیت دکھاتے ہیں، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ
اسے چھوڑ دو، یقیناً اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے کہ ان کی نماز اور روزے کے سامنے تم اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر جانور میں سے باہر نکل جاتا ہے۔
(صحيح البخاری: 6933)
چنانچہ وہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں قتل کرنے لگے۔ وہ ہر اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جسے وہ گناہ گار سمجھتے تھے۔ بالآخر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، اور عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ کو بھی قتل کیا، اور مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو قتل کیا، یہ سب کچھ ان کی بدعت اور گمراہی کی وجہ سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے علی رضی اللہ عنہ کی مدد فرمائی تھی ،تو انہوں نے ان سے جنگ کی اور انہیں قتل کیا۔ ان خوارج کا شر بہت بڑا تھا۔ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ گناہ گار حکمرانوں اور دوسرے گناہ گار مسلمانوں کو قتل کرنے پر انہیں اجر ملتا ہے۔ یہ ان کی جہالت اور گمراہی کی بنا پر ہے۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
پس جہاں کہیں تم ان سے ملو، انہیں قتل کرو،کیونکہ قیامت کے دن ان کے قاتلوں کے لیے اجر ہے۔
لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا ( عذاب الٰہی سے ) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا ۔
کتاب کا متن
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ گار یا ظالم حکمرانوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے جب تک وہ نماز قائم کرتے ہوں۔
مکمل حدیث کا متن مندرجہ ذیل ہے
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلد ہی ایسے حکمران ہوں گے کہ تم انہیں (کچھ کاموں میں) صحیح اور (کچھ میں) غلط پاؤ گے۔ جس نے (ان کی رہنمائی میں) نیک کام کیے وہ بری ٹھہرا اور جس نے (ان کے غلط کاموں سے) انکار کر دیا وہ بچ گیا لیکن جو ہر کام پر راضی ہوا اور (ان کی) پیروی کی (وہ بری ہوا نہ بچ سکا۔) صحابہ نے عرض کی: کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں (جنگ نہ کرو)۔
(صحیح مسلم:1854)
شرح: امام ابن باز رحمہ اللہ
پس اگرچہ حکمران ظالم، فاسق اور جابر ہوں، لیکن جب تک وہ اسلام پر قائم ہوں، ان سے قتال کرنا جائز نہیں۔ بلکہ انہیں نصیحت کی جائے گی۔ البتہ اگر وہ کھلا اور واضح کفر اختیار کر لیں، تو جو لوگ قدرت اور استطاعت رکھتے ہوں، ان پر واجب ہے کہ انہیں معزول کریں۔ اگر انہیں ہٹانے کی پوری طاقت اور صلاحیت موجود ہو تو یہ کیا جائے گا، اور اگر ایسی طاقت نہ ہو تو یہ واجب نہیں۔
عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا
دَعَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْنَاهُ فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا، وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا، عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی ۔ کہ جن باتوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری ، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں ۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی ۔
کتاب کا متن
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صدقہ کیا، تو لوگوں نے بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ
جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا، تو اس کے لیے اس کا (اپنا بھی) اجر ہے اور ان کے جیسا اجر بھی جنہوں نے اس کے بعد اس (طریقے) پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو اور جس نے اسلام میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی، اس کا بوجھ اسی پر ہے اور ان کا بوجھ بھی جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی ہو۔
(صحیح مسلم :1017)
شرح: امام ابن باز رحمہ اللہ
اس حدیث کا مقصد سنت کو زندہ کرنے اور اسے ظاہر کرنے کا اجر بیان کرنا ہے،اس کا تعلق بدعات سے نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کا پس منظر ایک ایسے واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو انتہائی محتاج تھے، ننگے پاؤں تھے اور پورے کپڑوں سے بھی محروم تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی اور اس پر ابھارا۔ اس پر جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ – حَتَّى قَالَ – وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ – قَالَ – ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ
آدمی کو چاہیئے کہ اپنے دینار میں سے، اپنے درہم میں سے، اپنے کپڑے میں سے، اپنے گیہوں کے صاع میں سے، اپنے کھجور کے صاع میں سے صدقہ کرے ، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی“ پھر انصار میں سے ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا،جسے اس کا ہاتھ بمشکل اٹھا پا رہا تھا، بلکہ نہ اٹھا پا رہا تھا۔ پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے صدقہ دینے لگے، یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑوں کے دو بڑے ڈھیر دیکھے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا کہ وہ خوشی سے چمک رہا تھا، گویا سونا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا، اس کے لیے دہرا اجر ہو گا ، ایک اس کے جاری کرنے کا، دوسرا جو اس پر عمل کریں گے ان کا اجر، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا، تو اسے اس کے جاری کرنے کا گناہ ملے گا اور جو اس اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی کی جائے۔
صحیح مسلم: 1017،سنن نسائی: 2554)
سوال: أحسن الله إليك، یا شیخ ! جو شخص اہل بدعت کی تعریف کرے اور ان کی بڑائی بیان کرے، کیا وہ بھی ان کے ساتھ شمار ہوگا؟
جواب: ہاں، بالکل! بلا شبہ۔ جو شخص ان کی تعریف کرے اور ان کی بڑائی بیان کرے، وہ دراصل ان کی طرف دعوت دینے والا ہے۔ ہم اللہ سے سلامتی اور خیر طلب کرتے ہیں۔
کتاب کا متن
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا : اسی طرح کی ایک روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى
جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی۔
وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ
اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی۔
(2674: صحيح مسلم)
(اختتام)
اللہ ہمیں بھی ہدایت کی طرف دعوت دینے والوں میں شامل کرے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو سب جہانوں کا رب ہے۔
صحیح مسلم حدیث نمبر 2674 کا مکمل متن
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا
جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ (کا بوجھ) ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔