سلف صالحین کے منہج پر چالیس احادیث — ابو خدیجہ،عبد الواحد عالم ـ حدیث نمبر 11

١١: گمراہ فرقوں اور ان کے داعیان سے دور رہو اور موت تک سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو

:حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں

 كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي

فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟

قَالَ: نَعَمْ

فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟

قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ

قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟

قَالَ: قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ

فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟

قَالَ: نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا

فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا

قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟

قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْفَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟

قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِك ۔

 لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں اس خوف سے کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا،

میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر (اسلام) عطا کی، تو کیا اس خیر کے بعد پھر سے شر ہو گا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔

میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گی؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اس (خیر) میں کچھ دھندلاہٹ ہو گی۔

میں نے عرض کی: اس کی دھندلاہٹ کیا ہو گی؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کے بجائے دوسرا طرزِ عمل اختیار کریں گے اور میرے نمونہ عمل کے بجائے دوسرے طریقوں پر چلیں گے، تم ان میں اچھائی بھی دیکھو گے اور برائی بھی دیکھو گے۔

میں نے عرض کی: کیا اس خیر کے بعد، پھر کوئی شر ہو گا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلانے والے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔

میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہمارے سامنے ان کی (بری) صفات بیان کیجیے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ لوگ بظاہر ہماری طرح کے ہوں گے اور ہماری ہی طرح گفتگو کریں گے۔

میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر وہ زمانہ میری زندگی میں آ جائے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور مسلمانوں کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔

میں نے عرض کی: اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت ہو نہ امام؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان تمام فرقوں (بٹے ہوئے گروہوں) سے الگ رہنا، چاہے تمہیں درخت کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ تمہیں موت آئے تو تم اسی حال میں ہو۔

(صحيح مسلم:1847)

:وضاحت

 اس حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں اس لیے دریافت کیا کہ وہ خود بھی اس سے محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچا سکیں۔ اسی طرح شاعر ابو فراس حمدانی نے اپنے بعض اشعار میں کہا ہے

عَرَفتُ الشَّرَّ لا للشر لَكِن لِتَوَقِّيهِ وَمَن لَم يَعْرِفِ الشَّرَّ مِنَ الخَيْرِ يَقَعَ فِيهِ

میں نے شر کو شر کی خاطر نہیں سیکھا، بلکہ اس لیے سیکھا کہ اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکوں۔ اور جو شخص خیر اور شر میں تمیز نہیں کرتا، وہ شر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرک اور توحید، کفر اور ایمان، نیز سنت اور بدعت کے درمیان فرق کو جانیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلفِ صالحین کے عقیدہ و حدیث سے متعلق کتب، اور بعد کے ادوار کے اہلِ علم کی تصانیف، خوارج، شیعہ، معتزلہ، مرجئہ، اشاعرہ، قدریہ اور دیگر گمراہ فرقوں کے تذکرے اور ان کی گمراہیوں کے بیان سے بھری ہوئی ہیں۔

جب انسان گمراہی کے راستوں کو پہچان لیتا ہے تو ان شاء اللہ وہ ان میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہتا ہے، بلکہ ان راستوں سے دور رہتا ہے۔

جب اسلام آیا اور اس نے جاہلیت، یعنی اسلام سے پہلے کے دورِ جاہلیت، کا خاتمہ کر دیا تو مسلمان خیر و بھلائی پر قائم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان اور نیک اعمال کی بدولت انہیں اسی خیر پر قائم رکھا، ان کے دلوں کو باہم جوڑ دیا اور انہیں عزت عطا فرمائی:

هُوَ ٱلَّذِیۤ أَیَّدَكَ بِنَصۡرِهِۦ وَبِٱلۡمُؤۡمِنِینَ ۔

وَأَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوبِهِمۡۚ لَوۡ أَنفَقۡتَ مَا فِی ٱلۡأَرۡضِ جَمِیعࣰا مَّاۤ أَلَّفۡتَ بَیۡنَ قُلُوبِهِمۡ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَیۡنَهُمۡۚ إِنَّهُۥ عَزِیزٌ حَكِیمࣱ 

اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے۔

ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے وه غالب حکمتوں واﻻ ہے۔

(سورۃ انفال: 62,63)

 پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کے بارے میں خبر دی جو آنے والا تھا، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کی ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ بدعات اور گمراہیوں کا ظاہر ہونا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر احادیث میں بھی وضاحت فرمائی ہے، مثلاً امت کے تہتر فرقوں میں تقسیم ہونے کے بارے میں۔

ان تمام احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حق پر مضبوطی سے قائم رہنے، کتاب اللہ، سنتِ رسول اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا حکم دیا ہے۔

 اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ جہنم کے دروازوں پر کچھ لوگ کھڑے ہوں گے جو ہماری ہی امت سے ہوں گے، ہماری ہی طرح دکھائی دیں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے، لیکن وہ لوگوں کو بدعت اور گمراہی کی طرف بلائیں گے، سنت اور سیدھے راستے کی مخالفت کی دعوت دیں گے۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اس فتنے سے کس طرح محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسلمانوں کی جماعت اور ان کے حکمران کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا حکم دیا۔

تاہم، اگر مسلمانوں کی کوئی ایسی جماعت موجود نہ ہو جس کا کوئی حاکم ہو، تو آدمی کو مختلف فرقوں، جماعتوں، گروہوں اور پارٹیوں سے الگ رہنا چاہیے اور حق کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے، خواہ اسی حالت میں اس کی موت ہی کیوں نہ آ جائے۔

پس وہ ’’درخت کی جڑ‘‘ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم، کی سنت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ عرباض میں فرمایا:۔

 میری سنت اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اس سے تمسک اختیار کرو اور اسے جبڑوں کے ساتھ مضبوطی سے تھامے رہو، اور تم (دین میں) نئے نئے کاموں سے بچو۔

اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:۔

اپنے پہلے معاملے کی طرف لوٹ آنا۔

امام طبرانی رحمہ اللہ نے اسے المعجم الکبیر (3307) اور المعجم الاوسط (8679) میں روایت کیا ہے، اور امام ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد (12337) میں ذکر کیا ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ (3165) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اور یہی فرقۂ ناجیہ (نجات پانے والے گروہ) کا راستہ ہے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔

جس طریقے پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔

اور اس راستے سے منہ نہیں موڑنا چاہیے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔

جس نے میری سنت سے منہ موڑا، وہ مجھ سے نہیں۔

(صحیح مسلم:1401)