اسلام کی فضیلت— امام ابن عبد الوہاب رحمہ اللہ (حصہ 7) اسلام میں مکمل طور پر داخل ہونے اور اس کے سوا ہر چیز کو چھوڑ دینے کی فرضیت — تفرقہ، اختلاف، جماعت، تہتر فرقے، اتحاد، بدعت، بت پرستی اور صحیح منہج

حصہ 7

اسلام میں مکمل طور پر داخل ہونے اور اس کے سوا ہر چیز کو چھوڑ دینے کی فرضیت

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

 یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱدۡخُلُوا۟ فِی ٱلسِّلۡمِ كَاۤفَّةࣰ

ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ ۔

(سورۃ البقرہ 208)

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا۔

 أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِینَ یَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُوا۟ بِمَاۤ أُنزِلَ إِلَیۡكَ وَمَاۤ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ

کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے۔

(سورۃ النساء 60)

،اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان

إِنَّ ٱلَّذِینَ فَرَّقُوا۟ دِینَهُمۡ وَكَانُوا۟ شِیَعࣰا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِی شَیۡءٍ

بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔(سورۃ الانعام 159)

،ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان

 یَوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوهࣱ وَتَسۡوَدُّ وُجُوهࣱ

جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه۔

( سورۃ آل عمران 106)

،کے متعلق فرمایا

اہلِ سنت اور حق پر متحد لوگوں کے چہرے روشن ہوں گے، جبکہ بدعت اور تفرقہ اختیار کرنے والوں (اہلِ بدعت و اختلاف) کے چہرے سیاہ ہوں گے۔

(بحوالہ :تفسیر ابنِ کثیر، سورۃ آلِ عمران (2/92)، دار طیبہ کی طباعت دیکھیے)

عبداللہ بن عَمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آ چکی ہے، (یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو گا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو اس برے فعل کا مرتکب ہو گا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے“۔

جامع ترمذی (حدیث نمبر 2641)، جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے۔ امت کے تہتر فرقوں میں بٹنے والی حدیث کم از کم تیرہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔

پس وہ مومن جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اس حدیث میں سچے اور جن کی تصدیق کی گئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں غور و فکر کرے، بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں:جس (طریقہ) پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔

یہ کتنی عظیم نصیحت ہے مگر اسے وہی دل قبول کریں جن کے دلوں میں ایمان زندہ ہو۔

امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے(امام البانی نے صحیح حسن قرار دیا)، اگرچہ اس روایت میں آگ (جہنم) کا ذکر نہیں آیا۔ تاہم آگ کا ذکر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے، جسے امام احمد رحمہ اللہ نے جمع کیا ہے۔اسی طرح امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے، لیکن الفاظ کے اختلاف کے ساتھ

وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ لِصَاحِبِهِ، وَقَالَ عَمْرٌو: الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ

اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو ۔ اور عمرو نے کہا: کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو۔

امام احمد نے اسے المسند (4/102) میں روایت کیا، اور ابوداؤد (نمبر 4597) میں بھی ہے اسے شیخ االبانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے۔

اور اس متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پہلے بیان ہو چکا ہے۔

أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ:….، وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ

اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں (مسلمانوں) میں سب سے زیادہ مبغوض تین طرح کے لوگ ہیں۔(ان میں سے ایک وہ ہے جو) جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو۔

( صحیح البخاری، 6882)

مکمل حدیث : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ تین قسم کے لوگ ہیں۔حرم میں زیادتی کرنے والا، دوسرا جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو، تیسرے وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے۔


شرح از امام ابن باز رحمہ اللہ

پس، واجب یہی ہے کہ انسان اسلام میں مکمل طور پر داخل ہو، نہ کہ صرف اس کے کچھ حصے اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

یأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱدۡخُلُوا۟ فِی ٱلسِّلۡمِ كَاۤفَّةࣰ

ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ ۔

(سورۃ البقرہ 208)

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا۔

إِنَّ ٱلَّذِینَ فَرَّقُوا۟ دِینَهُمۡ وَكَانُوا۟ شِیَعࣰا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِی شَیۡءٍ

بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔(سورۃ الانعام 159)

إِنَّ ٱلَّذِینَ یَكۡفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَیُرِیدُونَ أَن یُفَرِّقُوا۟ بَیۡنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَیَقُولُونَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضࣲ وَنَكۡفُرُ بِبَعۡضࣲ وَیُرِیدُونَ أَن یَتَّخِذُوا۟ بَیۡنَ ذَ ا⁠لِكَ سَبِیلًا . أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡكَـٰفِرُونَ حَقࣰّاۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَـٰفِرِینَ عَذَابࣰا مُّهِینࣰا

جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں۔ یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔

(سورۃ النساء 50,51)

لہٰذا، لازم ہے کہ انسان مکمل طور پر اسلام میں داخل ہو کہ ایک مسلمان دین کے ہر پہلو سے وابستہ رہے یعنی نماز، زکوة، روزہ، حج، جہاد وغیرہ۔ یہ نہ کہے کہ میں نماز پڑھوں گا لیکن زکوة نہیں دوں گا یا میں زکوة دوں گا لیکن روزہ نہیں رکھوں گا۔ ایسا جائز نہیں، بلکہ اسلام کے تمام احکام پر عمل کرنا ضروری ہے۔

مزید یہ کہ انسان کو حق پر قائم رہنا چاہیے اور اس پر ثابت قدم رہنا چاہیے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے لوگ قائم تھے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ

میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے۔

لہٰذا، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اہل بدعت، فرقہ اور اختلاف کرنے والوں کی باتوں سے بچے۔ 72 فرقے آگ میں ہیں اور ان میں شریعت کی مخالفت کرنے والے، مبتدع اور گناہگار شامل ہیں۔ اہل سنت وہ ہیں جو صحابہ کے منہج پر چلتے ہیں اور دین پر ثابت قدم رہتے ہیں ان کے لیے جنت اور عزت ہے۔ باقی فرقوں میں آپ کو کافر، مبتدع اور شریعت کے مخالف ملیں گے کیونکہ وہ حق پر قائم نہیں رہتے۔

مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ دین میں بدعات سے بچیں اور جاہلیت کے طریقوں کی پیروی نہ کریں۔ بلکہ لازم ہے کہ وہ اسلام سے مضبوطی سے جُڑے رہیں، یعنی اس دین کے ساتھ جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کر آئے اور یہ کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی اور پرہیزگاری میں تعاون کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَ ا⁠نِ

نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناه اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔

(سورۃ المائدہ 2) 

اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا۔

 وَٱلۡعَصۡرِ . إِنَّ ٱلۡإِنسَـٰنَ لَفِی خُسۡرٍ . إِلَّا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَتَوَاصَوۡا۟ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡا۟ بِٱلصَّبۡرِ

زمانے کی قسم.بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے.سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

(سورۃ العصر 1 تا 3)

جو چیز امت کو تقسیم کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی رائے لائے اور دوسرا اپنی رائے لے آئے؛ ایسی آراء جو نصوص پر مبنی نہیں بلکہ خواہشات، جھوٹے عقائد اور فضول خیالات سے ہیں، یہ جائز نہیں۔ یہ جاہلیت کے طریقوں میں سے ہے ،پس ہم اللہ سے سلامتی اور بھلائی کی دعا کرتے ہیں۔


تشریحی وضاحت از ابو خدیجہ عبد الواحد

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تفرقہ سے بچنے کی تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا۔

وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِینَ. مِنَ ٱلَّذِینَ فَرَّقُوا۟ دِینَهُمۡ وَكَانُوا۟ شِیَعࣰا كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَیۡهِمۡ فَرِحُونَ

اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ.ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے۔

(سورۃ الروم 31,32)

امام بغوی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ لوگ بدعت اور خواہشاتِ نفس کے پیروکار ہیں۔

اور امام ابنِ مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ حق آپس میں اختلاف نہیں کرتے۔

،حافظ ابنِ رجب الحنبلی رحمہ اللہ (متوفیٰ 795ھ) نے فرمایا

جہاں تک گمراہ کن شبہات اور خواہشات کے فتنوں کا تعلق ہے، تو یہی مسلمانوں میں تفرقے کا سبب بنتے ہیں۔ وہ گروہوں میں بٹ گئے، یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے بعض کو کافر ٹھہرانا شروع کر دیا یوں وہ آپس میں دشمن، فرقے اور جماعتیں بن گئے، حالانکہ اس سے پہلے وہ بھائی تھے اور ان کے دل گویا ایک ہی شخص کے دل کی مانند تھے۔ اور ان تمام فرقوں میں سے نجات صرف اسی فرقے کو حاصل ہے جو نجات یافتہ فرقہ ہے؛ اور اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں آیا ہے۔

لا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ 

میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر (قائم رہتے ہوئے) غالب رہے گا، جو شخص بھی ان کی حمایت سے دستبردار ہو گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی طرح ہوں گے۔

(صحیح مسلم 1920)

(كشف الكربة في وصف أهل الغربة للإمام الحافظ أبي الفرج ابن رجب الحنبلي صفحہ 23-29)

پس رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجات یافتہ فرقے کی صفات بیان فرمائیں اور انہیں الجماعۃ کا لقب عطا کیا۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ , وَافْتَرَقَتْ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ , وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ” , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَنْ هُمْ؟ قَالَ:” الْجَمَاعَةُ

یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور ستر جہنم میں، نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے اکہتر جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا، اور بہتر  فر قے جہنم میں، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الجماعہ ۔

(ابن ماجہ 3229، امام البانی نے اسے صحیح کہا)

پس جماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں اور وہ لوگ جو ان کے منہج اور راستے کی پیروی کرتے ہیں، اور وہ اسی پر متحد ہوتے ہیں۔ اور جو شخص ان کے منہج کی مخالفت کرے وہ گمراہ ہے اور جماعت سے الگ ہو چکا ہے، چاہے وہ اپنے بارے میں کچھ بھی دعویٰ کرے۔

امام ابو محمد حسن بن علی البربہاری رحمہ اللہ (متوفیٰ 329ھ) نے اپنے رسالے شرح السنہ میں فرمایا۔

اور وہ بنیاد جس پر جماعت کو قائم کیا جاتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں وہی اصل اہل سنت والجماعت ہیں اور جو کوئی (دین کو) ان سے نہیں لیتا وہ حقیقت میں گمراہ اور بدعتی ہو گیا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی اور اس پر چلنے والے سب جہنمی ہیں۔

امام عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا۔

فرقۂ ناجیہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے دین پر ثابت قدم ہیں، جو توحید کے قیام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے منہج پر چلتے ہیں، اور عبادت میں اللہ ہی کے لیے اخلاص اختیار کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے اوامر کی اطاعت کرتے اور اس کی نواہی سے اجتناب کرتے ہیں۔

وہ اللہ کے اسماء و صفات پر اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جس طرح اس نے خود بیان فرمایا اور اس کے ر اگر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ،بغیر تحریف کے، بغیر تعطیل کے، بغیر کیفیت بیان کیے اور بغیر تشبیہ کے۔پس یہی اہلِ سنت والجماعت ہیں، اور یہی فرقۂ ناجیہ ہیں۔

نور على الدرب: فرقۂ ناجیہ کون ہے؟ https://binbaz.org.sa/fatwas/17457

جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے امت کے تفرقے والی حدیث کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا۔

إِنْ لَمْ يَكُونُوا هُمْ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ فَمَا أَدْرِي مَنْ هُمْ

اگر یہ لوگ احادیث کے جاننے والے نہیں ہیں تو پھر مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون ہیں۔

ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے (فتح الباری, ج 13، ص 306)، جو خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ شرف أصحاب الحديث میں روایت کی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی انہی میں شامل فرما دے اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

مصدر:abukhadeejah.com