سلف صالحین کے منہج پر چالیس احادیث — ابو خدیجہ،عبد الواحد عالم ـ حدیث نمبر 10۔

١٠_جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، آزمائشوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

:زبیر بن عدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں

أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنْ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی ‘ انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

(البخاری:7068)

:امام الذہبی رحمہ اللہ اپنی تصنیف سِیَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ (جلد 4، صفحہ 343) میں فرماتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے اسے (یعنی حجاج بن یوسف کو) رمضان 95 ہجری میں ہلاک کیا۔ وہ ایک جابر و ظالم، اہل بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن، فاسدالنفس اور بے گناہ خون بہانے والا تھا۔ مگر وہ دلیر، بہادر، منصوبہ ساز، چالاک اور ہوشیار تھا۔ وہ گفتگو اور تقریر میں فصیح تھا اور قرآن کی تعظیم کرتا تھا۔ میں نے اس کی برائیوں کو اپنی کتاب التاریخ الکبیر میں ذکر کیا ہے؛ جیسے ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کو کعبہ میں محصور کرنا اور منجنیق کا استعمال جس سے کعبہ کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح اس نے اہلِ حرمین کو ذلیل و خوار کیا اور بیس برس تک عراق اور مشرق پر حکومت کی، ابن الاشعث کے خلاف جنگ کی اور نمازوں میں تاخیر کی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر دیا۔ ہم اسے محبت نہیں کرتے بلکہ اللہ کے لیے نفرت کرتے ہیں، اور اللہ کے لیے نفرت رکھنا اسلام کے مضبوط ترین اصولوں میں سے ہے۔ اس کے کچھ نیک اعمال بھی تھے، لیکن وہ اس کے گناہوں کے سمندر میں ڈوب گئے، اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ عمومی طور پر وہ توحید پر تھا اور اپنے جیسے ظالم و جابر حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔

:تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌوَ مُبِيرٌ

بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہوگا۔

امام ترمذی کہتے ہیں: کہاجاتا ہے کذاب اورجھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اورہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ۔اس سند سے ہشام بن حسان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حجاج نے جن لوگوں کو باندھ کر قتل کیا تھا انہیں شمار کیا گیا تو ان کی تعدادایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچی تھی۔

(الترمذی:2220)

:اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے الحجاج بن یوسف الثقفی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ ثقيف میں ایک بڑا جھوٹا اور بڑا قاتل پیدا ہوگا۔ جھوٹا ہم دیکھ چکے ہیں، اور جہاں تک قاتل کا تعلق ہے، میں تمہارے سوا کسی اور کو نہیں پاتی اس پر الحجاج اٹھ کھڑا ہوا اور کوئی جواب نہ دیا۔

(صحیح مسلم:2545)

:علامہ البانی رحمہ اللہ نے زبیر بن عدی رحمہ اللہ کی مذکورہ روایت کی شرح کرتے ہوئے فرمایا

یہ بات ضروری ہے کہ اس حدیث کو ان روایات کی روشنی میں سمجھا جائے جو پہلے گزر چکی ہیں، اور ان دیگر احادیث کو بھی سامنے رکھا جائے، جیسے مہدی کے ظہور اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس حدیث کو مطلق اور ہر حال پر منطبق نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کے کچھ استثنائی پہلو ہیں۔

لہٰذا لوگوں کے لیے درست نہیں کہ وہ اسے قطعی اور عمومی معنی پر محمول کر کے مایوسی میں مبتلا ہو جائیں، کیونکہ مایوسی مومن کی صفت نہیں ہے۔

 إِنَّهُۥ لَا یَا۟یۡـَٔسُ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡكَـٰفِرُونَ

 یقیناً رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔

(سورۃ یوسف:87)

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حقیقی معنوں میں اپنے ایمان والے بندوں میں شامل فرمائے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا

پھر مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کلام سے اس حدیث کا واضح اور صحیح مفہوم معلوم ہوا، اور وہ اپنے فہم کے اعتبار سے اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کی پیروی کی جائے۔

یعقوب بن شیبہ نے حارث بن حصیرہ سے، انہوں نے زید بن وہب سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا

تم پر کوئی ایسا دن نہیں آئے گا مگر وہ اس سے پہلے گزرے ہوئے دن سے زیادہ بُرا ہوگا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔ میری مراد یہ نہیں کہ دنیاوی آسائش یا مال و دولت کے اعتبار سے بدتر ہوگا، بلکہ میری مراد یہ ہے کہ ہر آنے والا دن علم کے لحاظ سے پہلے دن سے کم ہوگا۔پس جب اہلِ علم اٹھا لیے جائیں گے تو لوگ ایک ہی سطح پر رہ جائیں گے؛ نہ وہ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، اور نتیجتاً وہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ روایت حسن ہے : سنن الدارمی 194، حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری (13/26–27) میں سند کو جید کہا ہے۔

:اور روایت میں انہوں نے فرمایا

بلکہ تمہارے علماء اور فقہاء وفات پا جائیں گے اور تم ان کا کوئی بدل نہیں پاؤ گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی رائے سے فتوے دیا کریں گے۔

پس جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا اور قیامت قریب آتی جائے گی، فتنوں اور آزمائشوں میں اضافہ ہوتا جائے گا، اور اسلام کے طریقے ایک ایک کر کے ختم ہوتے جائیں گے، بالکل اسی طرح جیسے علم اٹھتا جائے گا، جہالت بڑھتی جائے گی، اور جاہل لوگ عوام کو گمراہ کرتے رہیں گے۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام کی ایک ایک رسی کو چن چن کر توڑ دیا جائے گا اور جب ایک رسی ٹوٹ جایا کرے گی تو لوگ دوسری کے پیچھے پڑجایا کریں گے سب سے پہلے ٹوٹنے والی رسی انصاف کی ہوگی اور سب سے آخر میں ٹوٹنے والی نماز ہوگی۔

(مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 2216)

اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اسلام کے تمام پہلوؤں کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ اسلام مسلمانوں کی زندگیوں سے مٹ نہ جائے اور بالکل ختم نہ ہو جائے اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے۔

یہ سب ہمیں اس بات کی اہمیت سمجھاتا ہے کہ دین کو سلف کے فہم کے مطابق سیکھا جائے، اس پر عمل کیا جائے اور پھر اسے اگلی نسل تک پہنچایا جائے۔ یہی طریقہ ہماری اولاد کو دین کے ضیاع سے محفوظ رکھے گا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستے کی طرح اسلام کی بھی کچھ نشانیاں اور علامتیں ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، گھر والوں پر داخل ہوتے وقت ان پر سلام کرنا اور لوگوں کے پاس سے گزرتے وقت انہیں سلام کہنا۔ جس نے ان امور میں سے کسی میں کمی کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اسلام کی ایک شق ترک کر دی اور جس نے ان تمام چیزوں کو ترک کر دیا، اس نے تو اسلام کی طرف اپنی پیٹھ پھیر دی (یا اسلام کو پس پشت ڈال دیا)۔“

(سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 167)

آخر زمانے میں اسلام اس طرح مٹ جائے گا جیسے کپڑے کا نقش و نگار آہستہ آہستہ مٹ جاتا ہے، اور ہم اللہ سے ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں۔

:حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اسلام اس طرح محو ہو جائے گا جس طرح کپڑے کے نقوش مٹ جاتے ہیں حتی کہ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں رہے گا کہ روزے کیا ہوتے ہیں یا نماز یا قربانی یا صدقہ کیا ہوتا ہے۔ اللہ کی کتاب کو ایک ہی رات میں اٹھا لیا جائے گا اور زمین میں اس کی ایک آیت بھی نہیں رہے گی۔ لوگوں میں کچھ بوڑھے مرد اور عورتیں رہ جائیں گی جو کہیں گی: ہم نے اپنے بزرگوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہتے دیکھا تھا، ہم بھی یہی کہتے ہیں۔  (حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ایک شاگرد) صلہ بن زفر رحمہ اللہ نے کہا: انہیں لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ سے کیا فائدہ ہو گا جب انہیں نماز، روزے، قربانی اور صدقے کا بھی علم نہیں ہو گا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے تین بار یہ سوال کیا اور ہر دفعہ حذیفہ رضی اللہ عنہ ان سے منہ پھیرتے رہے۔ تیسری بار ان کی طرف متوجہ ہو کر تین بار فرمایا:اے صلہ! (اس دور میں) یہی انہیں جہنم سے بچا لے گا۔

(سنن ابن ماجہ 4049، امام البانی نے صحیح کہا ہے۔)

:امام البانی رحمہ اللہ نے فرمایا

اس حدیث میں ایک نہایت خطرناک خبر ہے کہ اسلام پر ایسا زمانہ آئے گا جب اس کے آثار مٹ جائیں گے، اور قرآن اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ زمین پر اس کی ایک بھی آیت باقی نہیں رہے گی۔

اور یہ بات اس وقت تک پیش نہیں آئے گی جب تک اسلام پوری زمین پر غالب نہ ہو جائے، اور اس کا کلمہ بلند نہ ہو جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

 هُوَ ٱلَّذِیۤ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِینِ ٱلۡحَقِّ لِیُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّینِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ 

اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک برا مانیں۔

(سورۃ التوبہ:33)

اور جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے

اور آخر زمانے میں قرآن کا زمین سے اٹھا لیا جانا قیامت قائم ہونے سے پہلے اس بدترین مخلوق پر ہوگا جو اسلام کی کسی چیز کو بھی نہیں جانتے ہوں گے، حتیٰ کہ توحید کو بھی نہیں۔

(السلسلۃ الصحیحۃ، جلد 1، صفحہ 173۔)

یہ حدیث قرآنِ کریم کی عظمت کو واضح کرتی ہے، اور یہ کہ لوگوں کے درمیان اس کا موجود رہنا ہی دین کے باقی رہنے اور اس کی بنیادوں کے مضبوط ہونے کا سبب ہے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اس کا علم حاصل کیا جائے، اس پر غور و فکر کیا جائے اور اسے سمجھا جائے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اور بقا کا وعدہ فرمایا ہے، یہاں تک کہ جب وہ چاہے گا تو اسے اٹھا لے گا۔