حدیث نمبر 5۔
جماعت صرف ایک ہے، اور وہی فرقۂ ناجیہ ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج و طریقے پر قائم ہیں۔
:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ , وَافْتَرَقَتْ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ , وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ” , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَنْ هُمْ؟ قَالَ:” الْجَمَاعَةُ
یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور ستر جہنم میں، نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے اکہتر جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا، اور بہتر فر قے جہنم میں، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الجماعہ ۔
(ابن ماجہ 3229، امام البانی نے اسے صحیح کہا)
:ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
جس منہج پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔
(سنن ترمذی :2641)
:ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
السواد الأعظم
وہ بڑی جماعت ہے۔
(ابن ابی عاصم:68)
پس جماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں اور وہ لوگ جو ان کے منہج اور راستے کی پیروی کرتے ہیں، اور وہ اسی پر متحد ہوتے ہیں۔ اور جو شخص ان کے منہج کی مخالفت کرے وہ گمراہ ہے اور جماعت سے الگ ہو چکا ہے، چاہے وہ اپنے بارے میں کچھ بھی دعویٰ کرے۔
امام ابو محمد حسن بن علی البربہاری رحمہ اللہ (متوفیٰ 329ھ) نے اپنے رسالے شرح السنہ میں فرمایا۔
اور وہ بنیاد جس پر جماعت کو قائم کیا جاتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں وہی اصل اہل سنت والجماعت ہیں اور جو کوئی (دین کو) ان سے نہیں لیتا وہ حقیقت میں گمراہ اور بدعتی ہو گیا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی اور اس پر چلنے والے سب جہنمی ہیں۔
:عَمر بن مَیمون الاَودی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے پاس آئے ، اور آپ رضی اللہ عنہ کی محبت میرے دل میں بھر گئی۔ میں اُن کے ساتھ رہا یہاں تک کہ انہیں شام میں دفن ہوتے دیکھا۔ پھر میں ان کے بعد سب سے زیادہ علم والے شخص کے ساتھ رہا، اور وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ایک دن ان کے سامنے اس بات کا ذکر ہوا کہ لوگوں نے (مسجدوں میں) نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: تم اپنی نماز اپنے گھروں میں پڑھ لو، اور (مسجد میں) جو ان کے ساتھ پڑھو اسے نفل سمجھو۔ میں نے پوچھا: تو پھر ہم جماعت میں کس طرح شمار ہوں گے؟
انہوں نے جواب دیا: اے عَمر بن مَیمون! اکثر لوگ جماعت کے مخالف ہوتے ہیں۔ بے شک جماعت وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے مطابق ہو، چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو۔
(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة160 ,امام البانی نے اسے تخریج مشکوٰۃ المصابیح میں صحیح قرار دیا ،1\61 )
:ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا
الْجَمَاعَةُ مَا وَافَقَ الْحَقَّ وَلَوْ كُنْتَ وَحْدَكَ
جماعت وہ ہے جو حق کے مطابق ہو، اگرچہ تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو۔
(امام البانی نے اسے تخریج مشکوٰۃ المصابیح میں صحیح قرار دیا ،1\61)
:امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (متوفیٰ 238ھ) نے فرمایا
اگر تم جاہل لوگوں سے پوچھو کہ ‘سوادِ اعظم’ (مسلمانوں کی اصل جماعت) کون ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ اس سے مراد لوگوں کی اکثریت ہے۔ حالانکہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اصل جماعت وہ عالم ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو ۔ پس جو شخص اس عالم کے ساتھ ہو اور اس کی پیروی کرے، وہی حقیقی جماعت ہے۔
(ابو نعیم نے اسے حلیہ الاولیاء میں روایت کیا ،9\239)
: امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
“پس اس روایت میں اُس شخص کی غلطی کی واضح تردید موجود ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ‘جماعت’ سے مراد صرف لوگوں کی کثرت ہے، اگرچہ ان میں کوئی عالم موجود نہ ہو۔ یہ فہم عوام الناس کا ہے، اہلِ علم کا نہیں۔ لہٰذا ہدایت یافتہ شخص کو چاہیے کہ وہ اس غلط فہمی کے مقابلے میں ثابت قدم رہے، تاکہ صراطِ مستقیم سے بھٹک نہ جائے۔ اور ہدایت تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔”
( الاعتصام ،2/267)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے راستے پر قائم رہنا فتنہ اور گمراہی سے حفاظت ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا
وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِینَ. مِنَ ٱلَّذِینَ فَرَّقُوا۟ دِینَهُمۡ وَكَانُوا۟ شِیَعࣰا كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَیۡهِمۡ فَرِحُونَ
اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ.ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے۔
(سورۃ الروم: 31,32)
:امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
یہ اہلِ بدعت اور خواہشاتِ نفس کے پیروکار ہیں۔
:امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا
اہلِ حق کے درمیان تفرقہ و اختلاف نہیں ہوتا۔
اور جب امت کے افتراق والی حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ نے “فرقۂ ناجیہ” کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا
إِنْ لَمْ يَكُونُوا هُمْ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ فَمَا أَدْرِي مَنْ هُمْ
اگر یہ لوگ اہل حدیث نہیں ہیں تو پھر مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (13/306) میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، اور اسے خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے شرف أصحاب الحدیث میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
امام عبدالعزیز ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں
فرقۂ ناجیہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین پر ثابت قدم رہتے ہیں، اور توحیدِ الٰہی کے قیام، عبادت کو خالص اللہ کے لیے کرنے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج پر چلنے میں اسی راستے کو اختیار کرتے ہیں۔وہ اللہ کے احکام کی اطاعت کرتے اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات پر اس کے شایانِ شان ایمان رکھتے ہیں، بغیر تحریف، بغیر تعطیل، بغیر تکییف اور بغیر تمثیل کے۔ یہی اہل السنۃ والجماعۃ ہیں، اور یہی فرقۂ ناجیہ ہے۔
(https://binbaz.org.sa/fatwas/17457 نور على الدرب: من هي الفرقة الناجية)
