اسلام کی فضیلت — امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ( حصہ 9) اللہ تعالیٰ بدعت کرنے والے سے توبہ روک دیتا ہے۔

باب:9

اللہ تعالیٰ بدعت کرنے والے سے توبہ روک دیتا ہے 

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا

یہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مروی ہے، اور حسن (یعنی: امام حسن بصری رحمہ اللہ، متوفیٰ 110ھ) کی مرسل روایات سے بھی۔

اور ابن وضاح نے ایوب سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا۔

  كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يَرَى رَأْيَا فَتَرَكَهُ، فَأَتَيْتُ مُحَمَّدُ بْنَ سِيرِينَ ، فَقُلْتُ: أَشَعَرْتَ أَنَّ فُلَانًا تَرَكَ رَأْيَهُ؟ قَالَ : انْظُرْ إِلَى مَاذَا يَتَحَوَّلُ؟ إِنَّ آخِرَ الْحَدِيثِ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ أَوَّلِهِ

ہمارے درمیان ایک آدمی تھا جو ایک رائے رکھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا۔ چنانچہ میں محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہا : کیا آپ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے اپنی رائے چھوڑ دی ہے؟

انہوں نے فرمایا: دیکھو اب وہ کس طرف پلٹتا ہے، کیونکہ اس حدیث کا آخری حصہ ان پر اس کے ابتدائی حصے سے زیادہ سخت ہے۔

 يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ

وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو چیر کر نکل جاتا ہے، پھر وہ اس کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے۔

بن وضاح نے کتاب البدعۃ والنہی عنہا حدیث نمبر 147 میں اسے روایت کیا ہے، اور اس کی سند صحیح ہے)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس کے معنی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ۔

لَا يُوَفِّقُ لِلتَّوْبَةِ

اسے توبہ کی توفیق نہیں دی جاتی۔

حاشیہ از ابو خدیجہ 

ابن وضاح رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں جو واقعہ ذکر کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعتی توبہ نہیں کرتا، یعنی وہ اپنی بدعت کو چھوڑ کر سنت کی طرف نہیں آتا، بلکہ اس کی جگہ کسی دوسری بدعت کی طرف مڑ جاتا ہے۔

اسی وجہ سے محمد بن سیرین رحمہ اللہ (متوفیٰ 110ھ) نے فرمایا

انْظُرْ إِلَى مَاذَا يَتَحَوَّلُ

دیکھو اب وہ کس طرف پلٹتا ہے۔

یہ بات محمد بن سیرین رحمہ اللہ (متوفیٰ 110ھ) کی فقہ (گہری سمجھ اور بصیرت() کو ظاہر کرتی ہے ۔ انہوں نے یہ توقع نہیں کی کہ وہ شخص اپنی بدعت سے توبہ کر لے گا، بلکہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ وہ اس بدعت کو چھوڑ کر اس سے بھی زیادہ سخت بدعت میں پڑ جائے گا۔ اور انہوں نے اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوارج کے بارے میں فرمان سے دلیل لی۔

 يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ

وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو چیر کر نکل جاتا ہے، پھر وہ اس کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے۔

یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کی دلیلوں میں سے ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خبر دی تھی وہ ویسے ہی پیش آ کر رہی۔

جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس کا معنی پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا

لَا يُوَفِّقُ لِلتَّوْبَةِ

اسے توبہ کی توفیق نہیں دی جاتی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کا مطلب بدعات سے رجوع کرنا اور انہیں چھوڑ دینا ہے، مگر یہ بدعتی رجوع نہیں کرتے۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ (متوفیٰ 161ھ) نے فرمایا

الْبِدْعَةُ أَحَبُّ إِلَى إِبْلِيسَ مِنَ الْمَعْصِيَةِ الْمَعْصِيَةُ يُتَابُ مِنْهَا وَالْبِدْعَةُ لَا يُتَابُ مِنْهَا

بدعت ابلیس کو گناہ سے زیادہ پسند ہے، کیونکہ گناہ سے تو توبہ کر لی جاتی ہے، لیکن بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی۔ 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (متوفیٰ 728ھ) نے اس قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔

بدعتی ایسا دین اختیار کر لیتا ہے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع نہیں کیا۔ اس کا برا عمل اس کے لیے خوبصورت بنا دیا جاتا ہے، اس لیے وہ اسے اچھا سمجھتا ہے۔ چنانچہ جب تک وہ اسے اچھا سمجھتا رہے گا، توبہ نہیں کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس کا عمل برا ہے تاکہ وہ اس سے توبہ کرے، یا اسے یہ معلوم ہو کہ اسے چھوڑ دینا اچھا اور مطلوب ہے اور اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا یہ جان لے کہ اس سے توبہ کرنا اور اسے ترک کرنا واجب ہے۔ لیکن جب تک وہ اپنے عمل کو اچھا سمجھتا رہے گا، حالانکہ حقیقت میں وہ برا ہے، تو وہ اس سے توبہ نہیں کرے گا۔

اس باب سے یہ مراد نہیں ہے کہ اگر کوئی بدعتی توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ بے شک اللہ تعالیٰ تو مشرک کی توبہ بھی قبول فرما لیتا ہے، حالانکہ شرک کا گناہ بدعت سے بھی بڑا ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بدعتی کو عموماً توبہ کی توفیق نہیں ملتی، کیونکہ وہ اپنی بدعت کو اچھا سمجھتا ہے۔ اور بدعتی لوگ، خاص طور پر ان کے پیشوا، اپنی گمراہی پر اڑے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے  تاریخ میں آپ کو بڑے بدعتی رہنماؤں میں سے بہت کم لوگ ایسے ملیں گے جنہوں نے توبہ کی ہو۔ اور عجنہوں نے توبہ کی وہ تعداد میں بہت کم ہیں، جیسے ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ، الجوینی رحمہ اللہ، فخر الدین رازی رحمہ اللہ اور ابو حامد الغزالی رحمہ اللہ۔ یہ لوگ بدعت اور علمِ کلام کے آئمہ میں شمار ہوتے تھے، لیکن جب انہیں حق قبول کرنے کی توفیق ملی اور ان میں اخلاص تھا تو انہوں نے توبہ کر لی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا

 بدعتی کا اپنی بدعت سے توبہ کرنا ممکن ہے، اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب اللہ اسے ہدایت دے اور اسے سیدھا راستہ دکھا دے، یہاں تک کہ اس کے لیے حق واضح ہو جائے، جیسے اللہ تعالیٰ نے کافروں، منافقوں اور بدعت و گمراہی والوں میں سے بعض لوگوں کو ہدایت دی۔ یہ تب ہوتا ہے جب آدمی اس حق کی پیروی کرے جسے وہ پہچان لیتا ہے۔

پس جو شخص اپنے پاس موجود علم پر عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے وہ علم بھی عطا فرما دیتا ہے جو اس کے پاس پہلے نہیں تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

 وَٱلَّذِینَ ٱهۡتَدَوۡا۟ زَادَهُمۡ هُدࣰى وَءَاتَىٰهُمۡ تَقۡوَىٰهُمۡ

اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی عطا فرمائی ہے۔

(سورۃ محمد:17)

اسی طرح جو شخص اس حق کی پیروی سے منہ موڑ لیتا ہے جسے وہ جان چکا ہوتا ہے اور اس کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہالت اور گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کا دل واضح اور کھلے حق کو دیکھنے سے اندھا ہو جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

 فَلَمَّا زَاغُوۤا۟ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡۚ وَٱللَّهُ لَا یَهۡدِی ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَـٰسِقِین

پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

(سورۃ الصف: 5)

التُحفۃ العراقیہ فی الأعمال القلبيہ صفحات 297 تا 299)

امام البانی رحمہ اللہ نے فرمایا

اس کی وجہ یہ ہے کہ بدعتی اپنے آپ کو حق اور بھلائی پر سمجھتا ہے، اس لیے اس سے توبہ کی امید کم ہوتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے جن کے برے اعمال انہیں خوشنما بنا کر دکھا دیے گئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

 قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُم بِٱلۡأَخۡسَرِینَ أَعۡمَـٰلًا . ٱلَّذِینَ ضَلَّ سَعۡیُهُمۡ فِی ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا وَهُمۡ یَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ یُحۡسِنُونَ صُنۡعًا

کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟

وه ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہوگئیں اور وه اسی گمان میں رہے کہ وه بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔

(سورۃ الکہف:103-104)

کیا وہ شخص توبہ کرے گا جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ نیکی کر رہا ہے؟ یا کیا کوئی انسان اس کام سے توبہ کرے گا جسے وہ اچھا اور درست سمجھتا ہو؟ ایسا ہونا بعید ہے۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ بدعت کا خطرہ اس کے ماننے والے پر گناہ کے خطرے سے بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہگار جانتا ہے کہ وہ نافرمانی کر رہا ہے، اس لیے امید رہتی ہے کہ کھبی نہ کھبی وہ توبہ کر کے اپنے رب کی طرف لوٹ آئے گا۔ لیکن بدعتی کی حالت یہ ہوتی ہے کہ گویا اس کی زبان حال یہ کہہ رہی ہو۔
“اے میرے رب! مجھے اور زیادہ عطا فرما، اے میرے رب! مجھے اور زیادہ عطا فرما”
جبکہ وہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ نیک اعمال کر رہا ہے۔

(یعنی بدعت کرنے والا اپنی بدعت کو غلط نہیں سمجھتا بلکہ اسے عبادت اور نیکی سمجھ کر اس میں اور بڑھتا جاتا ہے)
اسی سے وہ حدیث بھی اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان

إِنَّ اللَّهَ احْتَجَرَ التَّوْبَةَ عَنْ كُلِّ صَاحِبِ بِدْعَةٍ

اللہ تعالیٰ بدعت کرنے والے سے توبہ روک دیتا ہے۔

یہاں توبہ کو روکے جانے سے مراد کونی (قدری) روکنا ہے نہ کہ شرعی حکم کے تحت روکنا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مطابق ہے، لیکن یہ اللہ کی پسند یا منشاء کے مطابق نہیں ہے۔ پھر بھی اللہ نے اسے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مقرر فرمایا ہے۔

یعنی جو شخص بدعت کے راستے پر چل پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو اس کے لیے خوشنما بنا دیتا ہے، اس لیے وہ توبہ نہیں کرتا۔ یہی دراصل بدعتی سے توبہ روک دیے جانے، اسے محروم کر دیے جانے اور توبہ سے باز رکھنے کا مطلب ہے۔

اسی وجہ سے علماء نے فرمایا ہے کہ دین میں بدعتیں داخل کرنا گناہ کرنے سے زیادہ خطرناک ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا۔

شرح از امام ابن باز رحمہ اللہ 

امام ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

اس باب کا مقصد بدعت کے خطرات اور اس کے فتنوں کو بیان کرنا ہے اور ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ بدعت کے خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ بدعت کرنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو کام کر رہا ہوتا ہے اسے صحیح اور درست سمجھتا ہے، لہٰذا وہ اسی پر قائم رہتا ہے اور باطل پر ڈٹا رہتا ہے۔ اسی لیے دین میں بدعت سے سختی کے ساتھ خبردار کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا شر ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحیح حدیث میں فرمایا۔

مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ

جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے دین میں نہیں ہے، وہ مردود ہے۔

(مسلم:1817)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ 

اور (دین میں) بدترین کام وہ ہیں جو خود نکالے گئے ہوں اور ہر نیا نکالا ہوا کام گمراہی ہے۔

جن امور پر علماء کے درمیان بالکل بھی اختلاف نہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ ضرور قبول فرما لیتا ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔

قُلۡ یَـٰعِبَادِیَ ٱلَّذِینَ أَسۡرَفُوا۟ عَلَىٰۤ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوا۟ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ یَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِیعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیم

(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے۔

(53:سورۃ الزمر)

السفارینی نے اپنی کتاب لوامع الانوار (1/400) میں ذکر کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا

“بے شک اللہ ہر بدعتی سے توبہ کو روک دیتا ہے یا اسے توبہ سے اوجھل کر دیتا ہے”

تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا

“بدعتی شخص کو توبہ کرنے کی توفیق اور آسانی نہیں دی جاتی۔”

میں کہتا ہوں: یہی ان روایات کی وضاحت ہے جو یہاں ذکر کی گئی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اُس شخص کے بارے میں جو صراطِ مستقیم سے ہٹ جاتا ہے،  یہ اس کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اور اس کا فیصلہ اس کی حکمت اور عدل کے مطابق ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔  

 فَلَمَّا زَاغُوۤا۟ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡۚ وَٱللَّهُ لَا یَهۡدِی ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَـٰسِقِین 

پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ 

(سورۃ الصف: 5)

اور فرمایا ۔

فِی قُلُوبِهِم مَّرَضࣱ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضࣰاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِیمُۢ بِمَا كَانُوا۟ یَكۡذِبُونَ 

ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

(سورۃ البقرہ:10)

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:۔

 وَنُقَلِّبُ أَفۡـِٔدَتَهُمۡ وَأَبۡصَـٰرَهُمۡ كَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوا۟ بِهِۦۤ أَوَّلَ مَرَّةࣲ وَنَذَرُهُمۡ فِی طُغۡیَـٰنِهِمۡ یَعۡمَهُونَ

اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں ﻻئے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں حیران رہنے دیں گے۔

(سورۃ الانعام:110)

اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان:۔

 قُلۡ مَن كَانَ فِی ٱلضَّلَـٰلَةِ فَلۡیَمۡدُدۡ لَهُ ٱلرَّحۡمَـٰنُ مَدًّاۚ حَتَّىٰۤ إِذَا رَأَوۡا۟ مَا یُوعَدُونَ 

کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتا ہے رحمنٰ اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ وه ان چیزوں کو دیکھ لیں جن کا وعده کیے جاتے ہیں ۔

(سورۃ مریم:75)

اور اسی طرح کی دوسری آیات بھی موجود ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

اسی وجہ سے سلف میں سے ایک جماعت ، جن میں سفیان ثوری رحمہ اللہ بھی شامل ہیں ، کہا کرتے تھے

بدعت ابلیس کو گناہ سے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ گناہ سے توبہ ہو جاتی ہے لیکن بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی۔ پس یہ ان روایات کی وضاحت ہے جن میں بعض راویوں نے کہا ہے

“بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی سے توبہ کو روک رکھا ہے۔”

اس کا مطلب یہ ہے کہ بدعتی شخص عام طور پر اس سے توبہ نہیں کرتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کافر کو معاف کر دیتا ہے جب وہ اسلام قبول کر لیتا ہے۔

لہٰذا جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ بدعتی کے لیے بالکل توبہ ہی نہیں ہے تو وہ غلطی پر ہے اور کھلی گمراہی میں ہے۔ اور جو یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدعتی کے لیے توبہ کی توفیق نہیں دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک بدعتی اپنی بدعت کو اچھی اور درست سمجھتا رہے گا وہ اس سے توبہ نہیں کرے گا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اسے دکھا دیتا ہے کہ وہ جس چیز پر ہے وہ بری اور غلط ہے تو پھر وہ اپنی بدعت سے توبہ کر لیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کافر کو دکھا دیتا ہے کہ وہ گمراہی میں ہے۔

اور یہ بات معلوم ہے کہ بہت سے لوگ بدعت میں مبتلا تھے، پھر انہیں اپنی گمراہی دکھا دی گئی، انہوں نے توبہ کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور انہیں معاف فرما دیا۔

اور ان لوگوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

اس کی تفصیل مجموع الفتاویٰ (جلد 11، صفحہ 684) میں دیکھی جا سکتی ہے۔یہ عبارت شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے سامنے پیر کی دوپہر، 9 ربیع الاول 1418 ہجری کو پڑھی گئی تھی، اور اسے پڑھنے والے شخص نے ہی اسے تحریر کیا تھا۔

مزید توضیح از امام ابن باز رحمہ اللہ

 یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بدعتی سے توبہ روک دیتا ہے کیونکہ وہ اپنی بدعت کو اچھا سمجھتا ہے، اسے درست سمجھتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر بدعتی بدعت پر قائم رہتے ہوئے ہی مر جاتے ہیں اور اس سے توبہ نہیں کرتے ، اللہ کی پناہ! کیونکہ وہ خود کو درست سمجھتے ہیں۔

یہ اس شخص کے برعکس ہے جو گناہ کرتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ گناہگار ہے، یا جرم کر رہا ہے اور جانتا ہے کہ وہ غلط ہے۔ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے، اور اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ لیکن بدعتی شخص خطرے میں ہوتا ہے کیونکہ وہ بدعات کو جائز سمجھتا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ بدعات کی تائید کی وجہ سے وہ توبہ سے محروم ہو جاتا ہے ۔ وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ وہ صحیح راستے پر ہے، جب تک کہ اللہ اس کو ہدایت نہ دے دے اور وہ توبہ نہ کر لے ۔ پھر اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اور یہی صورت باقی گناہوں کے لیے بھی ہے، یہاں تک کہ شرک کے لیے بھی، جو بدعت سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اللہ کے ساتھ کفر کر چکا ہو اور پھر توبہ کرے، اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ جیسے قریش اور دیگر کافروں نے جب توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔

یہی حال فرعون کے جادوگروں کا بھی تھا، جب انہوں نے اللہ کے سامنے توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ اسی طرح بدعتی شخص کا بھی حال ہے، اگر اللہ اس کے دل کو نور دے اور اسے حق دکھائے، اور وہ اپنی بدعت سے توبہ کرے، تو اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ لہٰذا یہ روایت کہ : “بیشک اللہ ہر بدعتی سے توبہ روک دیتا ہے۔” ایک تنبیہ ہے، جیسا کہ دیگر احادیث میں بیان ہوا ہے۔

الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ 

مدینہ حرم ہے، جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پناہ دی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ کوئی بدلہ۔

مسلم :1371,بخاری 1870)

یہ اللہ کی طرف سے عذاب کی تنبیہ ہے، سوائے اس شخص کے جو توبہ کر لے، کیونکہ اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔