باب ششم
باب ما جاء في الخروج عن دعوى الإسلام
اسلام کی دعوت سے منہ موڑنے کے بارے میں
:شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے
هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلۡمُسۡلِمِینَ مِن قَبۡلُ وَفِی هَـٰذَا
اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی۔
(سورۃ الحج 78)
:الحارث الأشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ: السَّمْعُ، وَالطَّاعَةُ، وَالْجِهَادُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجَمَاعَةُ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ؟ قَالَ: وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ
میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے (حکمرانوں کی ) بات سننا اور اطاعت کرنا ، جہاد کرنا ، ہجرت کرنا ، جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو! اس اللہ کے پکار کی دعوت دو جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا۔
یہ حدیث احمد کی مسند جلد 4، صفحات 131 و 202 میں اور جامع ترمذی نمبر 2863 میں روایت ہوئی ہے، جسے ترمذی نے حسن صحیح قرار دیا۔ ابن خزیمہ (جلد 3، صفحہ 195، نمبر 1895) نے اسے صحیح کہا، الحاکم (نمبر 1534) نے بھی صحیح قرار دیا اور الذہبی نے اس سے اتفاق کیا۔ اسی طرح الشیخ الألبانی نے بھی اسے صحیح قرار دیا۔
:صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
جس نے اپنے حکمران کی کوئی ناپسند چیز دیکھی تو اسے چاہے کہ صبر کرے اس لیے کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر جدائی اختیار کی اور اسی حال میں مرا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرے گا۔
[صحيح البخاری7054 ،مسلم (نمبر 1849)۔ نوٹ: شیخ الاسلام نے اپنی کتاب میں صرف حدیث کے دوسرے حصے کا ذکر کیا ہے۔]
ایک اور روایت میں ہے: یہ کیسی جاہلیت کی پکار ہے جبکہ ابھی میں تم میں موجود ہوں ۔
:ابو العباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا
كل ما خرج عن دعوى الإسلام والقرآن من نسبٍ أو بلدٍ أو جنسٍ أو مذهبٍ أو طريقةٍ فهو من عزاء الجاهلية
ہر وہ وابستگی جو اسلام اور قرآن کی دعوت کے خلاف ہو چاہے وہ نسب کی ہو، وطن کی ہو، قومیت کی ہو، مذہب (فرقے) کی ہو یا کسی (صوفی) طریقے کی وہ سب جاہلیت کی پکار میں شامل ہے۔
جب ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوا
فقال المهاجري: يا للمهاجرين، وقال الأنصاري: يا للأنصار
تو مہاجر نے کہا: اے مہاجر و(آؤ، مدد کرو) اور انصاری نے کہا: اے انصار ! (آؤ، مدد کرو)۔
:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو فرمایا
أبدعوى الجاهلية وأنا بين أظهركم
تم جاہلیت کی پکار پکارتے ہو جبکہ میں ابھی تک میں موجود ہوں۔
صحیح البخاری، 3518، اورمسلم 2584میں اس حدیث کا متن یوں ہے: مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی چیخ و پکار ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے پر شدید غصے کا اظہار فرمایا ۔
یہاں ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوتا ہے ۔
شرح از الامام المجدد عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ
اس باب میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ اسلام سے پہلے کے زمانۂ جاہلیت کے طریقوں کی طرف بلانے سے منع کیا گیا ہے کہ آدمی اپنے قبیلے کو پکارے: اے فلاں! میری مدد کرو! یہ طریقہ غلط ہے۔
بلکہ پکار یہ ہونی چاہیے، اے اہلِ توحید!، اے اہلِ ایمان! کیونکہ جہاد کے معاملے میں سب آپس میں بھائی ہیں۔وہ اپنے قبائل اور خاندانوں کی طرف نسبت نہیں کرتے کہ: اے قحطانی! یا اے فلاں قبیلہ! کیونکہ یہ سب غلط ہے۔مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جاہلیت کی پکاریں لگائے۔اسی وجہ سے جب ایک مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! مدد کرو! اور ایک انصاری نے کہا: اے انصارو! مدد کرو! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم جاہلیت کی طرف بلاتے ہو، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟!
لہذا ضروری ہے کہ پکار صرف اسلام کی طرف ہو اور اسلام ہی کے لیے ہو۔ یعنی اے میرے بھائیو! اے مسلمانو! اے ایمان والو! مدد طلب کرنے اور جوش دلانے کے مواقع پر اسی طرح کی پکار ہونی چاہیے کہ اہلِ ایمان کو عدل کے ساتھ اسلام اور ایمان کے نام پر قتال پر ابھارا جائے۔
ابوالعباس سے مراد شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہیں ۔
ان کے کلام کا مقصد یہ ہے کہ ہر وہ پکار جو اسلام کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف بلائے جیسے کوئی یہ اعلان کرے، اے اہلِ مکہ! (میری مدد کرو) یا اے اہلِ طائف! (میری مدد کرو) یا اے اہلِ نجد! (میری مدد کرو) یہ سب جاہلیت کی پکاریں ہیں۔بلکہ درست طریقہ یہ ہے کہ یوں کہا جائے: اے ایمان والو!، اے میرے بھائیو!، اے اللہ کے دین کے مددگارو!، اے اللہ کے عبادت گزارو!، یہی درست اور صحیح طریقہ ہے۔یہی چیز واجب ہے، اور اسی کی ہم مسلمانوں کو ترغیب دیتے ہیں، اور یہی چیز دلوں کو گرماتی ہے۔جب وہ اپنے دشمنوں کے مقابل آتے ہیں تو انہیں ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے،اور ایمان و اسلام کی پکار کے ساتھ صبر اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے،تا کہ جب پکاریں تو یوں پکاریں ، اے مسلمانو! اے اللہ کے لشکرو! اے اللہ کے بندو! اے اللہ کے دین کے مددگارو! اسی طریقے سے انہیں پکارا جاتا ہے، تاکہ ان جامع القاب کے ذریعے ان میں شجاعت اور بہادری پیدا کی جائے۔
تشریحی نوٹس: ابو خدیجہ عبد الواحد
یہاں شیخ الاسلام ہماری توجہ امت میں اختلاف اور تفرقے کے اسباب کی طرف دلاتے ہیں کہ تفرقے کی وجہ فرقہ واریت، جماعت بندی، گروہ بندی، قبائلیت وغیرہ ہے۔ایک شخص اپنے وطن، اپنے قبیلے، اپنی سیاسی جماعت، اپنے منتخب کردہ مذہب ( فقہی) جس کی وہ اندھی تقلید کرتا ہے، یا کسی صوفی طریقے، کسی فرقے، کسی جمعیت یا کسی جماعت کے ساتھ جماعتی وفاداری رکھتا ہے ان میں سے ہر ایک کا اپنا ایک نام ہوتا ہے، اور اپنے اصول ہوتے ہیں جن کی وہ دینداری کے طور پر پیروی کرتے ہیں، اور اپنے ماننے والوں کو وہی سکھاتے ہیں، چاہے وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق ہوں یا ان کے مخالف ہوں۔ فرقوں اور گروہوں کے ساتھ اس قسم کی جماعتی وفاداری کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں رد کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔
إِنَّ ٱلَّذِینَ فَرَّقُوا۟ دِینَهُمۡ وَكَانُوا۟ شِیَعࣰا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِی شَیۡءٍۚ إِنَّمَاۤ أَمۡرُهُمۡ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ یَفۡعَلُونَ
بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے۔
(سورۃ الانعام 159)
دین کے اصولوں میں سے یہ ہے کہ مسلمان ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی منہج پر متحد ہوں، اور یہ کہ وہ اپنا طریقۂ زندگی اور اپنا دین کتاب و سنت سے حاصل کریں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق اور انکے جنہوں نے ان کی پیروی کی ، اور یہ کہ وہ اپنے تمام اختلافات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹائیں۔ اسی طریقے سے ان کی وحدت برقرار رہتی ہے۔ ان کی دعوت اسلام کی طرف ہوتی ہے، اور وہ اسلام ہی کی دعوت دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج، آپ کی سنت، اور خلفائے راشدین کی سنت کی طرف۔ اور ہر وہ دعوت جو اس کے خلاف ہو، وہ جاہلیت والوں کی پکاروں میں سے ہے۔
:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
‘میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں، جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے’
یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے صادر ہونے والا ایک صریح حکم ہے، اور سنت بذاتِ خود وحی ہے، جیسا کہ حسان بن عطیہ رحمہ اللہ (متوفیٰ 130ھ) نے فرمایا۔
كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالسُّنَّةِ كَمَا يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْقُرْآنِ، فَيُعَلِّمُهُ إِيَّاهَا كَمَا يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ.
جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سنت کے ساتھ بھی اسی طرح نازل ہوتے تھے جس طرح وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے ساتھ نازل ہوتے تھے، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنت بھی اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سکھاتے تھے۔
(شرح اصول السنہ والجماعہ اللائکائی1/84)
:پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا
وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَیۡكَ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُن تَعۡلَمُۚ وَكَانَ فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَیۡكَ عَظِیمࣰا
اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وه سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے۔
(سورۃ النساء 113)
:امام حسن بصری رحمہ اللہ (متوفیٰ 110ھ) نے فرمایا
الکتاب سے مراد قرآن ہے، اور الحکمہ سے مراد سنت ہے۔
:اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ
سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)۔
(مصباح المنیر صفحہ 85)
چنانچہ ہم دوبارہ اس حدیث کی طرف آتے ہیں، حارث الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ: السَّمْعُ، وَالطَّاعَةُ، وَالْجِهَادُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجَمَاعَةُ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ؟ قَالَ: وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ
میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے (حکمرانوں کی ) بات سننا اور اطاعت کرنا ، جہاد کرنا ، ہجرت کرنا ، جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو! اس اللہ کے پکار کی دعوت دو جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا۔
یہ حدیث احمد کی مسند (جلد 4، صفحات 131 و 202) میں اور جامع ترمذی (نمبر 2863) میں روایت ہوئی ہے، جسے ترمذی نے حسن صحیح قرار دیا۔ ابن خزیمہ (جلد 3، صفحہ 195، نمبر 1895) نے اسے صحیح کہا، الحاکم (نمبر 1534) نے بھی صحیح قرار دیا اور الذہبی نے اس سے اتفاق کیا۔ اسی طرح الشیخ الألبانی نے بھی اسے صحیح قرار دیا۔
حکمران کی سمع و طاعت
حاکم کو سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے، اور اس سے تین حقوق محفوظ رہتے ہیں
١. اللہ کا حق ، اس لیے کہ اسی نے حاکم کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
٢. حاکم کا حق کے اسکی اطاعت کی جائے، اور اسے خالص خیرخواہی پر مبنی نصیحت کی جائے اگرچہ یہ بات مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ نے اس کے لیے یہ حق مقرر فرمایا ہے، جیسا کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے ۔
٣. مسلمانوں کا حق ، کیونکہ حاکم کے خلاف بغاوت صرف حاکم کو نقصان نہیں دیتی بلکہ پوری قوم کو ضرر پہنچاتی ہے، اور ملک میں فساد، فتنہ اور خونریزی پھیلتی ہے، تاریخ سے یہ بار ہا ثابت ہے یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
:اسی تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَكَرِهَهُ فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
جس نے اپنے حکمران میں کوئی برا کام دیکھا تو اسے صبر کرنا چاہئے کیونکہ کوئی اگر جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
(صحيح البخاری،كتاب الأحكام،حدیث: 7143)
:اور فرمایا
السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ
مسلمان کے لیے حکمران کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے نہ اطاعت کرنا۔
(صحيح البخاری,كتاب الأحكام,حدیث: 7144)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موضوع پر باب باندھا ۔
باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية
باب : امام (حکمران) کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے۔
گناہ کے علاوہ ہر معاملے میں اس کی اطاعت لازم ہے، چاہے وہ بات ناگوار ہو یا خوشگوار۔
:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ
سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔
(صحيح البخاری,كتاب الأحكام,حدیث: 7142
:سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور فرمایا
يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ؟، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ؟، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ
اللہ کے نبی! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا، اس نے دوبارہ سوال کیا، آپ نے پھر اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کھینچ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے، اس کا بوجھ تم پر ہے۔
(صحیح مسلم 1846 اور صحیح الترمذی 2199 نے اسے وَائل ابن حجر (1) سے روایت کیا ہے)
جہاد
پھر، حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جہاد کا حکم دیا۔ پس جہاد دو قسموں کا ہوتا ہے
١. دلیل و برہان کے ذریعے جہاد: یعنی حق کو واضح کرنا، اس کی توضیح کرنا، اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔
٢. تلواروں اور ہتھیاروں کے ساتھ جہاد۔
دلائل اور حق کی وضاحت کے ذریعے جہاد ہر اُس شخص پر واجب ہے جو استطاعت رکھتا ہو اور جس کے پاس علم ہو اور یہ ہر زمانے اور ہر مقام میں لازم ہے۔ یہی وہ جہاد ہے جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں دیا گیا تھا، اُس سے پہلے کہ تلوار کے ذریعے جہاد مشروع کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ وَجَـٰهِدۡهُم بِه جِهَادࣰا كَبِیرࣰا
پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں
(سورۃ الفرقان 52)
چنانچہ یہ جہاد دراصل دلائل قائم کرنے اور حق کو واضح کرنے کا نام ہے۔ علامہ عبدالرحمٰن ناصر السعدی رحمہ اللہ (1889–1956ء) نے فرمایا: جہاد کی دو قسمیں ہیں۔
پہلی قسم وہ جہاد ہے جس کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح ہے ان کے عقیدے، اخلاق، کردار، اور ان کے تمام دینی و دنیوی معاملات کی اصلاح۔ اسی طرح اُن کی علم اور عمل کے اعتبار سے تربیت کرنا بھی اسی جہاد میں داخل ہے۔ یہ قسمِ جہاد تمام جہاد کی بنیاد اور اس کی اصل ستون ہے اور اسی پر جہاد کی دوسری قسم قائم ہوتی ہے۔اور اس دوسری قسمِ جہاد سے مراد یہ ہے کہ اُن لوگوں کو روکا جائے جو اسلام اور مسلمانوں پر زیادتی کرتے ہیں خواہ وہ کفار ہوں، منافقین ہوں، ملحدین ہوں یا اسلام کے دیگر دشمن اور مخالفین۔
(وجوبُ التعاوُن بینَ المسلمین صفحہ 7–8)
جہاد کی دوسری قسم: میدانِ جنگ میں اسلحے کے ساتھ جہاد
جہاد کی یہ قسم دو طرح کی ہوتی ہے
١. فرضِ عین: یعنی ایسا فریضہ جو ہر مسلمان پر فردًا فردًا لازم ہوتا ہے۔
٢. فرضِ کفایہ: یعنی ایسا اجتماعی فریضہ کہ اگر کچھ مسلمانوں اسے کفایت کے ساتھ ادا کر دیں تو باقی مسلمانوں سے یہ ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔
جہاد اس وقت فرضِ عین بن جاتا ہے جب مسلمان حاکم ان کو قتال کا حکم دے، یا جب کسی مسلمان ملک پر حملہ ہو اور وہ شخص اس مقام پر موجود ہو، تو اس پر لڑنا لازم ہو جاتا ہے۔اور جہاد فرضِ کفایہ اس وقت ہوتا ہے جب مسلمان پورے ارادے اور تیاری کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہوں اور اپنے حکمران کی طرف سے انہیں اللہ کی خاطر قتال کے لیے بلایا جائے تو وہ بھرتی ہو کر اس ذمہ داری کو ادا کریں اور مسلم ممالک کی فوجوں میں بھرتی کا نظام اس امر کی تصدیق کرتا ہے۔
مزید یہ کہ مسلمان اس وقت تک ہتھیار نہیں اٹھاتے جب تک ان پر کوئی بااختیار سربراہ موجود نہ ہو، اور یہ اختیار حکمران ہی رکھتا ہے۔ جہاں تک لڑائی کا تعلق ہے، تو اس کے لیے لازم ہے کہ مسلمان پوری طرح تیار، قادر اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط ہوں۔
:شیخ، علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے (خلاصہ کرتے ہوئے) فرمایا
جہاد فرضِ عین نہیں ہے، یعنی ہر مسلمان پر فردًا فردًا لازم نہیں۔ کیونکہ اسے تمام مسلمانوں پر یکساں لازم کرنا ممکن ہی نہیں۔ بلکہ جہاد صرف چار صورتوں میں فرضِ عین بنتا ہے۔
١.جب کوئی شخص لشکر کی صفِ اول میں ہو اور جنگ شروع ہو جائے۔
٢.جب وہ ایسی جگہ موجود ہو جہاں دشمن حملہ کر دے، تو اس پر لڑنا اور دفاع کرنا لازم ہو جاتا ہے۔
٣.جب حاکم اسے باہر نکل کر لڑنے کے لیے بلائے، تو اس پر اس کے حکم کی تعمیل کرنا لازم ہے۔
٤.اگر کوئی شخص اکیلا کسی خاص ہتھیار کو استعمال کرنے کی مہارت رکھتا ہو، تو اس پر جنگی کوشش میں شامل ہونا واجب ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ جہاد صرف اس باقاعدہ فوج کے ساتھ کیا جاتا ہے جو منظم بھرتی کے ذریعے تشکیل دی گئی ہو، اور جس کی قیادت وہ حکمران کر رہا ہو جو اپنے ملک (ریاست) کا ذمہ دار ہو۔ جہاد ان منتشر گروہوں کے ذریعہ نہیں کیا جاتا جو کسی ریاستی اختیار کے بغیر لڑتے ہوں کیونکہ ایسے گروہ جب دشمن پر غالب آ جاتی ہیں تو آپس میں لڑ پڑتے ہیں، اور ہر گروہ اپنی جماعت یا پارٹی کے لیے زمین میں قیادت چاہتا ہے۔ (یہاں شیخ کی بات کا اختتام ہوا)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ برس تک مقیم رہے، اور اس مدت کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے پر اکتفا کیا، اور آپ کو جہاد کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت مسلمان مشرکین کے مقابلے میں ظاہری طور پر لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مددگار اور حامی عطا فرما دیے، تو اللہ عزوجل نے اپنے رسول اور اہلِ ایمان پر جہاد کو فرض کر دیا، کیونکہ اب وہ دشمن کا مقابلہ کرنے اور اسلام کا پیغام پھیلانے کی قوت رکھتے تھے۔
ہجرت
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہجرت کا حکم دیا، اور یہ حدیث میں بیان کردہ چوتھا حکم ہے۔ پس کافروں کی سرزمین سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا ایک واجب امر ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ہجرت آج بھی اُن مسلمانوں پر واجب ہے جو کافروں کی سرزمین میں ان کے درمیان رہتے ہوں۔
پس ہم کہتے ہیں کہ ہجرت دو قسم کی ہے۔
اول: وہ مخصوص ہجرت جو مؤمنین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ سے مدینہ کی طرف کی، اور یہ ہجرت فتح مکہ کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا
لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
مکہ فتح ہونے کے بعد (اب مکہ سے مدینہ کے لیے) ہجرت باقی نہیں ہے ‘ لیکن خلوص نیت کے ساتھ جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔
(صحيح البخاری، كتاب الجهاد والسير ،حدیث: 2825)
دوم: وہ عام ہجرت جو اُن تمام مسلمانوں پر واجب ہے جو کافروں کی سرزمین میں رہتے ہیں۔ لہٰذا جو مسلمان اسلامی علاقوں کی طرف ہجرت کی قدرت رکھتے ہوں، اُن پر ہجرت فرض ہے۔ اور یہ حکم قیامت قائم ہونے تک باقی رہے گا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا
ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۔
(سنن ابی داود،كتاب الجهاد ،حدیث:2479)
،اس بات کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے
إِنَّ ٱلَّذِینَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ ظَالِمِیۤ أَنفُسِهِمۡ قَالُوا۟ فِیمَ كُنتُمۡۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِینَ فِی ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوۤا۟ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَ اسِعَةࣰ فَتُهَاجِرُوا۟ فِیهَاۚ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا
جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں، تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشاده نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وه پہنچنے کی بری جگہ ہے۔
(سورۃ النساء 97)
:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا
أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ، …. لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا
میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے،۔۔۔ ان کی آگیں بھی ایک دوسرے کو نظر نہ آئیں۔
(یعنی دونوں اتنے دُور رہیں کہ گھروں کے چولہوں کی آگ بھی ایک دوسرے کو دکھائی نہ دے)
(ابو داؤد 2645)
:سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ جَامَعَ المُشْرِكَ، وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ
جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے ۔
(سنن ابی داود،كتاب الجهاد ،حدیث: 2787)
علامہ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ نے ہجرت کے بارے میں ایک اور نکتہ بھی بیان کیا، جس میں انہوں نے فرمایا۔
اسی طرح یہ حکم اس شخص پر بھی لاگو ہوتا ہے جو کسی بدعت کی سرزمین میں رہتا ہو اور وہاں وہ سنت اور دین کو ظاہر نہ کر سکے ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ سرزمینِ سنت کی طرف ہجرت کرے۔ اور اگر وہ سنت کی پیروی کو ظاہر کر سکتا ہو، تو اس کے لیے ہجرت کرنا مستحب ہے، نہ کہ واجب۔
(بحوالہ: کتاب فضل الاسلام کی شرح از شیخ صالح آل الشیخ کی آڈیو سے ماخوذ)
:علامہ صالح الفوزان نے فرمایا
وہ زمینیں جہاں گناہ اور بدعتیں عام ہوں علماء نے کہا ہے کہ ایسی زمینوں سے ہجرت کرنا مستحب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ (سلف کے زمانے میں) ایک گروہ علمائے کرام بغداد سے ہجرت کر گیا جب معتزلہ کے نظریات غالب ہو گئے اور گناہ عام ہو گئے۔
(بحوالہ، شرح اصول الثلاثہ از علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ)
ہجرت کے فریضے سے مستثنیٰ وہ لوگ ہیں جو بیماری کی وجہ سے قادر نہ ہوں، یا وہ مجبور ہوں اور ان کے پاس کوئی اور چارہ نہ ہو، اور اسی طرح عورتیں اور بچے بھی مستثنیٰ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِلَّا ٱلۡمُسۡتَضۡعَفِینَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَاۤءِ وَٱلۡوِلۡدَ انِ لَا یَسۡتَطِیعُونَ حِیلَةࣰ وَلَا یَهۡتَدُونَ سَبِیلࣰا. فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن یَعۡفُوَ عَنۡهُمۡ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورࣰا
مگر جو مرد عورتیں اور بچے بے بس ہیں جنہیں نہ تو کسی چارہٴ کار کی طاقت اور نہ کسی راستے کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر کرے، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے واﻻ اور معاف فرمانے واﻻ ہے۔
(سورۃ النساء 98,99)
ہجرت کا یہ مفہوم بھی ہے کہ آدمی اس چیز کو چھوڑ دے جو اللہ کو ناپسند ہے، اور اس کی طرف منتقل ہو جائے جسے اللہ پسند کرتا ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔
:عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ
مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔
(صحيح البخاری،كتاب الرقاق، حدیث: 6484)
:اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا
فَفِرُّوۤا۟ إِلَى ٱللَّهِ إِنِّی لَكُم مِّنۡهُ نَذِیرࣱ مُّبِینࣱ
پس تم اللہ کی طرف دوڑ بھاگ (یعنی رجوع) کرو، یقیناً میں تمہیں اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے واﻻ ہوں.
(سورۃ الذاریت 50)
وہ مخصوص جماعت جو حق پر ہے
عام مسلمانوں کی وہ بڑی جماعت جو مسلمان حکمران کی قیادت میں ہوتی ہے، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں، اس کے علاوہ ایک خاص جماعت بھی ہے جس کا ذکر تہتر فرقوں والی حدیث میں آیا ہے۔اور وہ صحابہ کرام ہیں، اور وہ لوگ جو اُن کے ہی طریقے، اُن کے فہم ، اور اُن کی ہی راہ پر چلتے ہیں، اور اسی پر متحد رہتے ہیں۔لہٰذا جو شخص ان کے طریقے اور منہج کی مخالفت کرے وہ گمراہ ہے اور حق والی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے۔
:امام ابو محمد حسن بن علی البربہاری رحمہ اللہ (متوفیٰ 329ھ) نے اپنی کتاب شرح السُّنَّہ میں فرمایا
اور وہ بنیاد جس پر جماعت کو قائم کیا جاتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں وہی اصل اہل سنت والجماعت ہیں اور جو کوئی (دین کو) ان سے نہیں لیتا وہ حقیقت میں گمراہ اور بدعتی ہو گیا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی اور اس پر چلنے والے سب جہنمی ہیں۔
:عَمر بن مَیمون الاَودی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے پاس آئے ، اور آپ رضی اللہ عنہ کی محبت میرے دل میں بھر گئی۔ میں اُن کے ساتھ رہا یہاں تک کہ انہیں شام میں دفن ہوتے دیکھا۔ پھر میں ان کے بعد سب سے زیادہ علم والے شخص کے ساتھ رہا، اور وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ایک دن ان کے سامنے اس بات کا ذکر ہوا کہ لوگوں نے (مسجدوں میں) نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا:
تم اپنی نماز اپنے گھروں میں پڑھ لو، اور (مسجد میں) جو ان کے ساتھ پڑھو اسے نفل سمجھو۔
میں نے پوچھا: ‘تو پھر ہم جماعت میں کس طرح شمار ہوں گے؟’
انہوں نے جواب دیا: اے عَمر بن مَیمون! اکثر لوگ جماعت کے مخالف ہوتے ہیں۔ بے شک جماعت وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے مطابق ہو، چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو۔
(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة160 ,امام البانی نے اسے تخریج مشکوٰۃ المصابیح میں صحیح قرار دیا ،1\61 )
:ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا
الْجَمَاعَةُ مَا وَافَقَ الْحَقَّ وَلَوْ كُنْتَ وَحْدَكَ
جماعت وہ ہے جو حق کے مطابق ہو، چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو۔
(امام البانی نے اسے تخریج مشکوٰۃ المصابیح میں صحیح قرار دیا ،1\61)
:امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (متوفیٰ 238ھ) نے فرمایا
اگر تم جاہل لوگوں سے پوچھو کہ ‘سوادِ اعظم’ (مسلمانوں کی اصل جماعت) کیا ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ اس سے مراد لوگوں کی اکثریت ہے۔ حالانکہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اصل جماعت وہ عالم ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات کو مضبوطی سے تھامے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر قائم رہے۔ پس جو شخص اس عالم کے ساتھ ہو اور اس کی پیروی کرے، وہی جماعت ہے۔
(ابو نعیم نے اسے حلیہ الاولیاء میں روایت کیا ،9\239)
:امام شاطبی رحمہ اللہ نے فرمایا
اس روایت کو غور سے دیکھو، تاکہ اس شخص کی غلطی واضح ہو جائے جو یہ سمجھتا ہے کہ جماعت سے مراد لوگوں کی اکثریت ہے، چاہے ان میں ایک بھی عالم نہ ہو۔ یہ عام جاہل لوگوں کی سمجھ ہے، علماء کی نہیں۔ لہٰذا جسے ہدایت نصیب ہو، وہ اپنے قدم اس غلطی کے مقابلے میں مضبوط رکھے، تاکہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک نہ جائے۔ اور ہدایت تو اللہ ہی دیتا ہے۔
( الاعتصام ،2/267)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے راستے پر قائم رہنا فتنہ اور گمراہی سے حفاظت ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا
وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِینَ. مِنَ ٱلَّذِینَ فَرَّقُوا۟ دِینَهُمۡ وَكَانُوا۟ شِیَعࣰا كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَیۡهِمۡ فَرِحُونَ
اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ.ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے۔
(سورۃ الروم: 31,32)
اور ہم اللہ تعالیٰ سے سیدھی راہ کی ہدایت مانگتے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
مصدر: