نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اور اعلیٰ اخلاق و آداب

أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

 يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

 یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِی خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسࣲ وٰ⁠حِدَةࣲ وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالࣰا كَثِیرࣰا وَنِسَاۤءࣰ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِی تَسَاۤءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَیۡكُمۡ رَقِیبࣰا

  يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا. يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا

بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔(سورۃ آل عمران:10) 

اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔

(سورۃ النساء: 1)

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو. تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔

(سورۃ احزاب : 70,71)

 أما بعد

اگر کوئی پوچھے: سب سے اعلیٰ اخلاق کس کے ہیں؟ تو ہر مسلمان یہی جواب دے گا: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا

 وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِیمࣲ 

اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے۔

(سورۃ القلم: 4)

تابعیِ یزید بن بابنوس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں

ہم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا

اے ام المؤمنین! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق کیسا تھا۔

تو انہوں نے فرمایا: ان کا اخلاق قرآن تھا۔ پھر پوچھا: کیا تم سورہ مؤمنون کی تلاوت کرتے ہو؟

میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: تو پھر یہ آیات پڑھو

یقیناً کامیاب ہوگئے مومن۔ جو اپنی نمازوں میں عاجزی و انکساری اختیار کرتے ہیں۔ لغو اور بیہودہ باتوں سے منہ موڑتے ہیں۔ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

(سورۃ المؤمنون: 1–5)

پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا

هَكَذَا كَانَ خُلُقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.‏

یہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تھا۔

[الادب المفرد: 308]

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں اخلاق و کردار کے اعتبار سے سب سے کامل تھے۔

ہر عالی وصف اور ہر حسین خصلت آپ میں جمع تھی، اور آپ کی ہر گفتار و کردار میں حسنِ اخلاق جھلکتا تھا۔ آپ کی سیرت کے تمام واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق و اطوار کے اعلی ترین معیار پر فائز تھے۔ ،ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں

مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا ضَرَبَ خَادِمًا وَلَا امْرَأَةً

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا، نہ کسی خاتون کو مارا اور نہ کسی خادم کو آپس یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ میں ہوں۔

مختصر الشمائل – رقم الحديث : 299]

بلکہ اس کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے ساتھ نہایت نرم خو اور خوش اخلاق تھے، خصوصاً بچوں کے ساتھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر شفقت فرماتے، ان کے ساتھ محبت اور دل لگی سے پیش آتے، اور ان کی دل جوئی کے لیے ان کے ساتھ کھیل بھی لیا کرتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چھوٹے لڑکے سے فرمایا کرتے تھے:

يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟

“اے ابوعُمَیر! اس ننھے پرندے کا کیا بنا؟”

 [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6203]

ابوعُمَیر اس بچے کی کنیت تھی، اور اس کے پاس نُغَیر نام کا ایک چھوٹا پرندہ تھا جو چڑیا جیسا ہوتا ہے۔ جب وہ پرندہ مر گیا تو بچہ غمگین اور دل گرفتہ ہو گیا۔

پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہایت پیار اور نرمی کے ساتھ اس کی دلجوئی کرتے ہوئے اسے تسلّی دی اور فرمایا: اس چھوٹے پرندے کو کیا ہوا تھا ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقام اور کینہ سے پاک تھے، اور ہمیشہ یہی پسند فرماتے کہ لوگوں پر سختی نہ ہو بلکہ ان کے لیے آسانی میسر آئے۔

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں

 ما رأيتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ منتَصِرًا مِن مظلِمةٍ ظُلِمَها قَطُّ ما لم تُنتَهك محارمُ اللَّهِ فإذا انتُهكَ من محارمِ اللَّهِ شيءٌ كانَ أشدَّهم في ذلِك غضبًا وما خُيِّرَ بينَ أمرينِ إلَّا اختارَ أيسرَهُما ما لم يَكن مأثمًا

میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات کے لیے کسی ظلم یا ایذا پر کبھی بدلہ لیتے نہیں دیکھا، ہاں، جب اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کی بے حرمتی کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی خاطر سب سے زیادہ غیرت مند اور سخت غصہ فرمانے والے ہوتے۔ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو امور میں سے کسی ایک کا اختیار رکھا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اسی کو اختیار فرماتے جو زیادہ آسان اور سہل ہو بشرطیکہ اس میں گناہ یا نافرمانی کا کوئی پہلو نہ ہو۔

 (مختصر الشمائل:300)

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق، گہری حکمت اور لوگوں پر بے پایاں شفقت کی ایک روشن مثال اس دیہاتی کے واقعے سے بھی ملتی ہے جس نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا۔ جب اس نے یہ فعل کیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے جھڑکا اور ڈانٹا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو منع فرمایا۔ جب وہ اعرابی پیشاب سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ اس مقام پر پانی کی ایک بالٹی بہا دیا جائے، تاکہ وہ جگہ پاک ہو جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو بلایا اور نہایت شفقت، نرمی اور حکمت سے اسے سمجھاتے ہوئے فرمایا

یہ مساجد ایسی چیزوں کے لیے نہیں ہیں جو نجاست یا ضرر کا باعث ہوں، بلکہ مساجد نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں۔

اس واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت، صبر اور بردباری صاف جھلکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کو نہ ڈانٹا، نہ ہی اسے سزا دینے کا حکم دیا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا تاکہ وہ اپنا کام مکمل کر لے۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سمجھاتے ہوئے فرمایا یہ مساجد اس کام کے لیے نہیں ہیں جو تم نے کیا، بلکہ یہ نماز، ذکر اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند اخلاق اور مؤمنین کے لیے رحم و شفقت کی جھلک اس واقعے سے بھی واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے، جب ایک شخص دل گرفتگی اور اندوہ کی کیفیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا

يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، قَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ: فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ، أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ؟ فَقَالَ: أَنَا، قَالَ: خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ.

ایک شخص نے حاضر ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا بات ہوئی؟ اس نے کہا کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟ اس نے کہا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے عرض کی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت ہے؟ اس نے اس کا جواب بھی انکار میں دیا، راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گئے، ہم بھی اپنی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بڑا تھیلا (عرق نامی) پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ عرق تھیلے کو کہتے ہیں (جسے کھجور کی چھال سے بناتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اسے لے لو اور صدقہ کر دو، اس شخص نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں، بخدا ان دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی بھی گھرانہ میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے آگے کے دانت دیکھے جا سکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اچھا جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔

[صحيح البخاری: 1936]

 یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم اخلاق اور نرم مزاجی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو نہ ڈانٹا، نہ حقیر سمجھا، اور نہ ہی جھڑکا۔ کیونکہ یہ شخص نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پچھتاوا، توبہ اور خوفِ خدا کے ساتھ، رہنمائی طلب کرتا ہوا آیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس شخص کو کسی ڈانٹ یا سزا کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ کی طرف سے جو حق آیا ہے، واضح کر کے سمجھایا، اور نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ معاملہ کیا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کی تعریف فرمائی اور کہا

فَبِمَا رَحۡمَةࣲ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِیظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِی ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِینَ

اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

 (سورۃ آل عمران:159)

اور فرمایا

 لَقَدۡ جَاۤءَكُمۡ رَسُولࣱ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِیزٌ عَلَیۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیصٌ عَلَیۡكُم بِٱلۡمُؤۡمِنِینَ رَءُوفࣱ رَّحِیمࣱ

  تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔

(سورۃ التوبہ :128)

جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور خصلتوں کا تعلق ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اچھے اور قابل تعریف وصف میں سب سے آگے ہیں چاہے وہ شرعی تعلیمات سے معلوم ہوں یا فطرتی مزاج کے اعتبار سے۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں روایت کی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: ” أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا 

 انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری قوم اسلام لے آؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک کوئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جاتا تھا، پھر جونہی وہ اسلام لاتا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔

[صحيح مسلم: 6021]

یہ آدمی دنیاوی فائدے کی خاطر وہ بھیڑیں مانگ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دے دیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس شخص اور اس قبیلے کے لیے خیر ہو، جس کے پاس وہ واپس جا رہا تھا۔اور جس خیر کی امید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی، وہ واقع ہو گئی۔وہ شخص اپنے مشرک قبیلے کے پاس واپس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت دیکھ کر حیران ہو گیا۔چنانچہ اس نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس نے اللہ کی قسم کھائی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بخشنے والے ہیں اور فقر سے نہیں ڈرتے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ پہاڑوں کے درمیان آخری بھیڑ تک دے دی جائے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کی بدولت وہ شخص مسلمان ہوا اور اسلام کی دعوت دینے والا بن گیا۔

روایت کے آخر میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ دنیاوی فائدوں اور مال کی خواہش کے ساتھ اسلام میں داخل ہوتے تھے، مگر زیادہ وقت نہ گزرتا کہ اسلام ان کے نزدیک دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب بن جاتا۔

اس روایت میں ہمارے لیے ایک اہم نصیحت ہے، ہمیں چاہیے کہ لوگوں کے دل جیتیں اپنے اہلِ خانہ، اپنے قریبی رشتہ داروں، اور غیر مسلموں کے دل اور نرمی، خوش گفتاری، سخاوت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ انہیں اسلام کی طرف مائل کریں، یہاں تک کہ وہ اسلام اور ان اوصاف کے عادی ہو جائیں اور اسلام ان کے دلوں میں مضبوطی سے رچ بس جائے۔

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا

مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: لَا

ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرمایا ہو۔ نہیں۔

[صحيح مسلم: 6018]

بے شک ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز بخیل نہ تھے؛ اُن کے اخلاق میں کوئی کمزوری نہ تھی؛ نہ وہ کبھی بزدلی دکھانے والے تھے۔ بلکہ جب بھی موقفِ حق پر ثابت قدم رہنے کا موقع آتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈٹ کر کھڑے رہتے۔محمد بن جُبیر بیان کرتے ہیں:

أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ، فَعَلِقَهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا كَذُوبًا، وَلَا جَبَانًا

مجھے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، آپ کے ساتھ اور بہت سے صحابہ بھی تھے۔ وادی حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ کچھ (بدو) لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے۔ بالآخر آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک ببول کے کانٹے میں الجھ گئی تو ان لوگوں نے اسے لے لیا (تاکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کچھ عنایت فرمائیں تو چادر واپس کریں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور فرمایا میری چادر مجھے دے دو ‘ اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں تم میں تقسیم کر دیتا ‘ مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل پاؤ گے۔

[صحيح البخاری: 2821]

نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذاتِ مبارکہ پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل کھول کر عطا فرماتے تھے، حالانکہ ایک ایک مہینہ، بلکہ کبھی دو دو مہینے ایسے گزر جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کھانا پکانے کے لئے چولہا تک نہ جلتا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھانجے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتی تھیں:

ابْنَ أُخْتِي: إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ”، فَقُلْتُ: مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ? قَالَتْ:” الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُمْ مَنَائِحُ، وَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْيَاتِهِمْ فَيَسْقِينَاهُ

اے میری بہن کے بیٹے! ہم دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی بیویوں) کے گھروں میں چولھا نہیں جلتا تھا۔ میں نے پوچھا پھر آپ لوگ زندہ کس چیز پر رہتی تھیں؟ بتلایا کہ صرف دو کالی چیزوں پر، کھجور اور پانی۔ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے یہاں دودہیل اونٹنیاں تھیں وہ اپنے گھروں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ بھیج دیتے اور آپ ہمیں وہی دودھ پلا دیتے تھے۔

[صحيح البخاري: 6459]

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چادر لے کر حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْسُوكَ هَذِهِ

 یا رسول اللہ! میں یہ چادر آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ان سے قبول کر لی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے اسے پہن لیا۔ صحابہ میں سے ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ چادر دیکھی تو عرض کیا:

 يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ فَاكْسُنِيهَا

 یا رسول اللہ! یہ بڑی عمدہ چادر ہے، آپ مجھے اس کو عنایت فرما دیجئیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو لوگوں نے ان صاحب کو ملامت کیا اور کہا کہ

مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا، وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعَهُ

 تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگ کر اچھا نہیں کیا ۔ جبکہ تم نے دیکھ لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح قبول کیا تھا گویا آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود تم نے چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگی، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو آپ انکار نہیں کرتے۔اس صحابی نے عرض کیا:

رَجَوْتُ بَرَكَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِّي أُكَفَّنُ فِيهَا

کہ میں تو صرف اس کی برکت کا امیدوار ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن چکے تھے میری غرض یہ تھی کہ میں اس چادر میں کفن دیا جاؤں گا۔

[صحيح البخاری: 6036]

البتہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت، صبر اور بردباری اپنے مقام پر قائم تھی۔جیسا کہ غزوۂ حنین کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی جبر کو قبول کیا اور نہ ہی کھبی اپنی شانِ نبوت اور وقار پر آنچ آنے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے لیے خرچ فرماتے تھے، اپنے گھر والوں، غریبوں، مسکینوں، اللہ کی راہ میں، دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے، یا جیسا کہ شریعت میں امت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

جہاں تک شجاعت کا تعلق ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے، اور عزم و ہمت میں سب سے بڑھ کر۔ جب دوسرے پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹ جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت قدم رہتے۔

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا،جب غزوۂ حنین میں مسلمانوں کا کافروں سے مقابلہ ہوا اور بعض مسلمان پسپا ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہو کر کفار کی طرف بڑھنے لگے، اور میں اس کی لگام تھامے ہوئے تھا تا کہ وہ بے قابو نہ ہو جائے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے،میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

[صحيح البخاری: 2864]

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ، مَا كَانَ، أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ

جنگِ بدر کے دن جب لڑائی شدید ہو گئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو کر آپ کو اپنا سہارا بناتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ ثابت قدم تھے، اور میدانِ جنگ میں مشرکین کے سب سے زیادہ قریب آپ ہی ہوتے تھے۔

[مسند احمد: 1042]

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک روایت میں فرمایا

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ:” لَنْ تُرَاعُوا لَنْ تُرَاعُوا” وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ، فَقَالَ:” لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حسین، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے (شہر کے باہر شور سن کر) گھبرا گئے۔ (کہ شاید دشمن نے حملہ کیا ہے) سب لوگ اس شور کی طرف بڑھے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آواز کی طرف بڑھنے والوں میں سب سے آگے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ڈر کی بات نہیں، کوئی ڈر کی بات نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابوطلحہ کے (مندوب نامی) گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، اس پر کوئی زین نہیں تھی اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ اور گھوڑے کے بارے میں فرمایا: “یہ تو سمندر کی مانند ہے” یعنی شروع میں آہستہ تھا، مگر پھر بہت تیز دوڑا۔

[صحيح البخاری: 6033]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلم اور اعلیٰ اخلاق کی بات کی جائے تو آپ نہایت شفقت کرنے والے اور رحم دل تھے۔ آپ نہ بدکلام تھے، نہ فحش گوئی کرنے والے، اور نہ ہی بازاروں میں بلند آواز سے بولنے والے تھے۔ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیتے، بلکہ معاف فرما دیتے اور درگزر کر لیا کرتے تھے۔

امام البخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا

لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَكَانَ، يَقُولُ:” إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ کبھی بدکلام تھے، نہ کبھی فحش کلمات ادا فرماتے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: بے شک تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والاہو۔

[صحيح البخاري: 3559]

امام بخاری نے روایت کیا

عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ:” أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ؟ قَالَ: أَجَلْ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ، يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ، إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ المتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا

عطاء بن یسار نے فرمایا کہ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا

،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی صفات تورات میں بیان ہوئی ہیں؟انہوں نے فرمایا

قسم ہے اللہ کی! تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں جو قرآن میں ،بھی مذکور ہیں

‘اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا، خبردار کرنے والا اور ان پڑھ قوم کے لیے رہنما مقرر کیا ہے۔

آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ کا نام المتوکل رکھا ہے، یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والا۔آپ نہ بدخو ہیں، نہ سخت دل، اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیں گے، بلکہ معاف اور درگزر فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی روح اس وقت تک قبض نہیں فرمائے گا جب تک آپ کے ذریعے مڑی ہوئی شریعت سیدھی نہ ہو جائے، یعنی لوگ شہادتِ توحید «لا إله إلا الله» کہیں، اور اس کے ذریعے اندھی آنکھیں بینا، بہرے کان شنوا اور بند دل کھل جائیں۔

[صحيح البخاري: 2125]

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا

كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي” نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ،

  گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ آپ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ان کی قوم نے انہیں مارا اور خون آلود کر دیا۔ لیکن وہ نبی خون صاف کرتے جاتے اور یہ دعا کرتے

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

 کہ اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما۔ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔

[صحيح البخاري: 3477]

العلامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا

یہ نبیوں کی عظیم بردباری اور اپنے لوگوں کی طرف سے پہنچنے والے اذیت و تکلیف پر صبر کرنے کی صفت ہے۔ اور یقیناً، انہوں نے اپنے لوگوں کی طرف سے بہت نقصان اور تکلیف سہی! اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلࣱ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُوا۟ عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا۟ وَأُوذُوا۟ حَتَّىٰۤ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ

اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جا چکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچی ۔

(سورۃ الانعام: 34)

 پس یہ نبی اپنی قوم کے ہاتھوں مارے گئے، انہیں زخمی کیا گیا حتیٰ کہ ان کے چہرے سے خون بہنے لگا اس کے باوجود انہوں نے فرمایا :

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما۔ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔

گویا یہ معاملہ ایسا تھا جیسے وہ لوگ مسلمان ہوں، پھر ان کے اور اپنے نبی کے درمیان کسی بات پر اختلاف پیدا ہو گیا، جس کے نتیجے میں وہ غضبناک ہو گئے اور انہوں نے یہ سلوک کیا۔ چنانچہ نبی علیہ السلام نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی؛ کیونکہ اگر وہ غیر مسلم ہوتے تو آپ ان کے لیے ہدایت کی دعا فرماتے اور یہ کہتے:

اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي

اے اللہ! میری قوم کو ہدایت عطا فرما۔

 لہٰذا ظاہر یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگ مسلمان تھے۔

شرح ریاض الصالحین از ابن عثیمین ،جلد 4، حدیث نمبر 645)۔)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو دس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، انہوں نے فرمایا

خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ لِمَ تَرَكْتَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا كَانَ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ مِسْكًا قَطُّ وَلَا عِطْرًا كَانَ أَطْيَبَ مِنْ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں رہنے کا شرف دس سال تک حاصل رہا۔ آپ نے مجھے کبھی بھی اف تک نہیں کہا اور نہ کسی کام کے کرنے میں یہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں ایسا کیا اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاقی اعتبار سے تمام انسانوں سے بہتر تھے اور میں نے کبھی کوئی ریشم اور ریشمی کپڑا اور کوئی نرم چیز ایسی نہیں چھوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی مبارک سے زیادہ نرم ہو۔ اور میں نے کبھی بھی کسی قسم کا کستوری اور عطر ایسا نہیں سونگھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارک سے زیادہ خوشبودار ہو۔

[شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 344]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین تھے، اور ہمیشہ سیدھی اور حکمت بھری بات فرماتے، جس سے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوتے۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا

كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم، يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَى أَشَرِّ الْقَوْمِ، يَتَأَلَّفُهُمْ بِذَلِكَ فَكَانَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَيَّ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي خَيْرُ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا خَيْرٌ أَوْ أَبُو بَكْرٍ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا خَيْرٌ أَوْ عُمَرُ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ عُمَرُ، فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا خَيْرٌ أَوْ عُثْمَانُ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ عُثْمَانُ، فَلَمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَصَدَقَنِي فَلَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ

 میں سے سخت مزاج اور مشکل شخص کی طرف بھی پورے توجہ کے ساتھ متوجہ ہوتے اور اس سے براہِ راست گفتگو فرماتے، تاکہ اس کے دل میں (اسلام کے لئے)الفت و رغبت پیدا ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ بھی اسی طرح توجہ اور حسنِ گفتگو فرماتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید میں ہی لوگوں میں سب سے بہتر ہوں۔

چنانچہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بہتر ہوں یا ابو بکر؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر۔

میں نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بہتر ہوں یا عمر؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر۔

پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بہتر ہوں یا عثمان؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان۔

جب بھی میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حق بات ہی بتائی۔

پس مجھے یہ آرزو ہوئی کہ کاش میں نے یہ سوالات نہ کیے ہوتے۔

[شمائل ترمذی: 343]

لوگوں کی بھلائی کے پیشِ نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اصلاح فرما دیتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ (کی انگلی) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھاتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا: اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کوئی فائدہ اٹھا لو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے۔

[صحيح مسلم: 5472]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُن امور سے خبردار فرمایا کرتے تھے جو ان کے گھریلو نظام اور باہمی تعلقات میں بگاڑ اور فساد کا سبب بنتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد و عورت کے بے پردہ اختلاط سے بھی سختی کے ساتھ تنبیہ فرمائی۔

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ”، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ:” الْحَمْوُ: الْمَوْتُ

تم عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔  تو ایک انصاری آدمی نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیور موت ہے۔

 [صحيح مسلم: 5674،صحيح البخاري: 5232]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور ماں باپ کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثَلَاثًا , إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ , إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ

بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ماؤں کے ساتھ حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کی وصیت کرتا ہے“ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا ”بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہوں، پھر ان کے بعد جو قریب ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے“۔

سنن ابن ماجه: 3661,سنن ترمذي: 1897)

 عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا

معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:یا رسول اللہ! میں جہاد کے لیے نکلنا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورہ کرنے آیا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہاری ماں موجود ہے؟انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تو اس کی خدمت کو لازم پکڑو، کیونکہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔

(سنن نسائی ، 3104۔امام البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے)

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ , وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ

تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد کی دعا اپنی اولاد کے حق میں۔

[سنن ابن ماجه: 3862]

یہ تمام اسلامی تربیت خاندانوں کو متحد، مضبوط اور محبت بھرے بناتی ہے، اور اس کے اثرات معاشرے اور امت پر وسیع پیمانے پر پڑتے ہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے بہترین نمونہ پیش کریں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں۔ غور کریں کہ تاریخ میں کتنے ہی غیر مسلم لوگ مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاق اور حسن سلوک کی وجہ سے اسلام قبول کر چکے ہیں، جن کی تعداد گننا ممکن نہیں۔

 لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِی رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةࣱ

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے۔

(سورۃ الاحزاب :21)

مزید برآں، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ نرم خو، معتدل اور بردبار تھے، نہ بلند آواز والے، نہ شور مچانے والے، اور نہ کبھی قسم کھاتے اور نہ بدزبانی فرماتے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تورات میں بھی بیان ہوا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :

لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِىءُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو طبعاً بدگو تھے اور نہ ہی تکلفاً بدگو تھے، نہ بازاروں میں شور کرتے اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے لیکن درگزر فرما دیتے اور اعراض فرما دیتے تھے۔

[شمائل ترمذي: 346]

یہ وہ اوصاف ہیں جو ہمیں اپنے اندر، اپنی بیویوں اور اپنے بچوں میں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا

يَا عَائِشَةُ: مَتَى عَهِدْتِنِي فَحَّاشًا، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ

اے عائشہ! تم نے مجھے بدگو کب پایا۔ اللہ کے یہاں قیامت کے دن وہ لوگ بدترین ہوں گے جن کے شر کے ڈر سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔

[صحيح البخاری: 6032]

جس طرح اچھا اخلاق بعض لوگوں کی فطرت اور جبلّت میں شامل ہوتا ہے، اسی طرح انسان محنت، عادت اور مسلسل مشق کے ذریعے بھی اچھا اخلاق اپنا سکتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر نرم خو نہ ہو، تو وہ کوشش، تربیت اور اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر اچھے اخلاق سیکھ سکتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الاشج عبد القیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمْ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا , قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ

تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں: ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے؟ (کسبی ہیں) (یا وہبی) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔

[سنن ابی داود: 5225]

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اچھا اور عمدہ اخلاق بعض لوگوں میں پیدائشی طور پر ہوتا ہے، اور بعض لوگ اسے محنت اور کوشش سے حاصل کرتے ہیں۔ البتہ جو اچھا اخلاق فطری ہو وہ اُس اخلاق سے یقیناً بہتر ہے جو بعد میں سیکھا جائے، کیونکہ جب اچھا اخلاق انسان کی فطرت اور عادت بن جائے تو پھر اسے اس پر عمل کرنے کے لیے خاص کوشش کی ضرورت نہیں رہتی، نہ ہی اسے اپنے آپ پر زور ڈالنا پڑتا ہے۔

لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور جو شخص اس فطری اچھے اخلاق سے محروم ہو یعنی اس کی طبیعت میں اچھا اخلاق نہ ہو تو وہ بھی سیکھنے، تربیت حاصل کرنے اور مسلسل کوشش کے ذریعے اچھا اخلاق اپنا سکتا ہے۔

(مکارم الاخلاق از شیخ عثیمین رحمہ اللہ )

 اور اس طرح محنت کے ذریعے اچھا اخلاق حاصل کرنے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا اجر اور عظیم فضل ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ خوش طبعی فرماتے، ان کے ساتھ گھل مل کر رہتے اور ان سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتے، انہیں اپنی گود میں بٹھاتے، حتیٰ کہ کبھی کوئی بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیتا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض نہ ہوتے اور نہ ہی اس پر ڈانٹ ڈپٹ فرماتے تھے۔

بخاری میں روایت ہے کہ امّ قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنا چھوٹا سا بیٹا، جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اتنے میں بچے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور صرف اس جگہ پر چھڑک دیا تاکہ وہ تر ہو جائے، لیکن کپڑا دھویا نہیں۔

صحیح البخاری:223)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آزاد آدمی اور غلام، امیر اور غریب سب کی دعوت قبول فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے دور دراز علاقوں میں بھی مریضوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے، اور جو شخص معذرت پیش کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی معذرت قبول فرما لیتے تھے۔

امام ابنِ قیم رحمہ اللہ (متوفی 752ھ) فرماتے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام فرمایا کرتے تھے۔ باندیوں میں سے کوئی چھوٹی بچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتی اور جہاں چاہتی لے جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ چلے جاتے۔ جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔ گھر میں اپنے اہلِ خانہ کی خدمت خود فرمایا کرتے تھے اور اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہ لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے خود سی لیتے، اپنے کپڑے خود اٹھاتے، گھر والوں کے لیے بکری کا دودھ دوہتے، اونٹ کو چارہ ڈالتے، خادم کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے، مسکین کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے، اور بیوہ اور یتیم کے ساتھ ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چل پڑتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے بھی ملتے، خود سلام میں پہل فرماتے، اور جو بھی آپ کو دعوت دیتا ،خواہ وہ معمولی سا کھانا ہی کیوں نہ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دعوت قبول فرما لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نرم مزاج، خوش اخلاق، عالی ظرف، خوش صحبت، چہرے پر بشاشت رکھنے والے، مسکراتے رہنے والے، عاجزی اختیار کرنے والے (مگر ذلت کے بغیر)، سخی (مگر اسراف کے بغیر)، نرم دل، اور ہر مسلمان پر رحم فرمانے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ ایمان کے لیے نہایت تواضع اختیار فرماتے اور ان کے ساتھ نہایت نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔

(مدارج السالکین 2/310)

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں لوگوں کی امامت فرما رہے ہوتے اور کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتے، تو نماز کو مختصر فرما دیتے، اس اندیشے سے کہ کہیں بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔

 عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے والد ابوقتادہ حارث بن ربعی سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز دیر تک پڑھنے کے ارادہ سے کھڑا ہوتا ہوں۔ لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں، کیونکہ اس کی ماں کو (جو نماز میں شریک ہو گی) تکلیف میں ڈالنا برا سمجھتا ہوں۔

[صحيح البخاري: 707]

نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھتے تھے، یہ ابوالعاص بن الربیع کی بیٹی تھیں، پھر جب سجدہ کرتے تو اسے (زمین پر) بٹھا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔

[صحيح البخاري:516]

ابو بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے

إنما أموالكم وأولادكم فتنة

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں۔

(سورۃ انفال :28)

 میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا۔

[سنن ترمذي: 3774]

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش مزاج، نرم خو اور نہایت بردبار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سخت مزاج تھے اور نہ سنگ دل، نہ بلند آواز تھے اور نہ بدزبان، نہ عیب جو تھے اور نہ بخیل۔ جو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہوتی، اس سے درگزر فرماتے۔ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے امید رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مایوس نہ کرتے اور نہ ہی اسے لوٹاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ اور بے فائدہ جھگڑے کو ناپسند فرماتے، اور اچھے اخلاق کو پسند کرتے تھے، اور یہی سب باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سکھائیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ، وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ، وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ

میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔

[سنن ابی داود: 4800]

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الأَخْلاقِ‏

مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی مبعوث کیا گیا۔

(مسند أحمد: 8939 ،الادب المفرد: 273)

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ اس قدر ادب اور سکون کے ساتھ سر جھکائے رہتے، گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے تو وہ لوگ بات کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کوئی آپس میں جھگڑا نہ کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جو شخص بھی بات کرتا، اس کی بات پوری ہونے تک غور سے سنی جاتی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس اجنبی شخص کے ساتھ بھی حلم و بردباری کا مظاہرہ فرماتے جو سخت لہجے میں بات کرتا یا اچانک سوال کر بیٹھتا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے لوگوں کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانے کی کوشش کرتے، تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر کے فائدہ حاصل کر سکیں۔یہ تمام باتیں اس عظیم ادب، احترام، ہیبت اور تعظیم کی واضح دلیل ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے موجود تھی۔

جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زہد اور دنیا کی آسائشوں سے بے رغبتی کا تعلق ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے معاملے میں سب سے زیادہ قناعت اختیار کرنے والے اور آخرت کے معاملے میں سب سے بڑھ کر رغبت رکھنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ چاہیں تو بادشاہ نبی ہوں یا بندہ نبی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندہ نبی بننا پسند فرمایا۔اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا جاتا کہ جتنا چاہیں دنیا میں رہیں یا اللہ تعالیٰ کے پاس موجود اجر و انعام کو اختیار کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے پاس موجود چیز ہی کو ترجیح دیتے تھے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں

دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ مَرْمُولٍ بِشَرِيطٍ، تَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، مَا بَيْنَ جِلْدِهِ وَبَيْنَ السَّرِيرِ ثَوْبٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ أَمَا وَاللَّهِ مَا أَبْكِي يَا رَسُولَ اللهِ، أَلاَّ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللهِ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، فَهُمَا يَعِيثَانِ فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”أَمَا تَرْضَى يَا عُمَرُ أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ‏؟“‏ قُلْتُ‏:‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”فَإِنَّهُ كَذَلِكَ‏

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ریشوں سے بنے ہوئے ایک بستر پر تشریف فرما تھے، جو ایک رسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا، جس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک اور بستر کے درمیان صرف ایک ہی کپڑا حائل تھا۔

اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی حاضر ہوئے تو (یہ منظر دیکھ کر) رونے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا

اے عمر! تمہیں کس بات نے رلا دیا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میں جانتا ہوں آپ اللہ کے نزدیک کسریٰ اور قیصر سے کہیں زیادہ باعزت ہیں، پھر بھی وہ دنیا کی نعمتوں میں عیش کر رہے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یقیناً حقیقت یہی ہے۔

 [الادب المفردحدیث: 1163]

پھر اس اُمت میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کافروں کی تہذیب، ان کے طور طریقوں اور ان کے رویوں کو پسند کرتے ہیں اور انہیں ہی اپنا نمونہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اور اس شریعت کی اتباع کریں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ اور ہمارے ربّ نے اسی اُمت کے اُن لوگوں کو عزت و سربلندی عطا فرمائی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلتے ہیں۔

اور جب اس سیدھے راستے سے منہ موڑا جائے تو ذلت اور پستی مقدر بن جاتی ہے۔

،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا

ہم ایک ذلیل قوم تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی، پس اگر ہم اسلام کے سوا کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں دوبارہ ذلیل کر دے گا۔

اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَا یَعۡلَمُونَ

سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں۔

سورۃ المنافقون:8)

اس میں اُمت کے لیے ہدایت اور بھلائی پوشیدہ ہے۔


اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسنِ ادب

صحیح ثابت شدہ احادیث کے ساتھ حسنِ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں دل سے قبول کیا جائے اور ان کے سامنے کامل اطاعت و تسلیم اختیار کی جائے۔ ہمیں پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں جو کچھ فرمایا وہ سراسر حق اور حقیقت ہے، چاہے خواہشات کے پیروکار اس پر اعتراض ہی کیوں نہ کریں۔ اور ہمیں اس بات کا بھی قطعی یقین ہے کہ جو چیز بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت شدہ بات کے خلاف ہو، وہ باطل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

 فَذٰ⁠لِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَاذَا بَعۡدَ ٱلۡحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَـٰلُۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ

سو یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ پھر حق کے بعد اور کیا ره گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھرے جاتے ہو؟

(سورۃ یونس :32)

لہٰذا وحی کے ذریعے جو کچھ بھی نازل ہوا ہے وہی حق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ “، قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمْ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ، قَالَ: ” فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا “، قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ

قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے بقدر جائے گا۔سلیم بن عامر رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں،اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا میل سے ان کی مراد کیا تھی کیا زمین کی مسافت یا وہ میل جس سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا جاتا ہے آپ نے فرمایا:لوگ اپنے اعمال کے بقدرپسینہ میں شرابورہوں گے(یعنی جس قدر اعمال زیادہ برے ہوں گے، اس قدر پسینہ زیادہ چھوٹے گا) ان میں بعض ٹخنوں تک پسینہ میں ہوں گے اور ان میں سے بعض کا پسینہ ان کے گھٹنوں تک ہو گا اور بعض کا ان کے کولہوں کے اوپر تک (یعنی کمر تک)اور بعض وہ ہوں گے جن کا پسینہ ان کے منہ کا اچھی طرح لگام بن رہا ہو گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کر کے دکھایا۔

[صحيح مسلم: 7206]

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا

چاہے یہاں ‘میل’ سے مراد سرمہ لگانے والی چھڑی کا میل ہو یا فاصلے کا میل، قیامت کے دن سورج اور مخلوق کے سروں کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوگا۔ اس کے باوجود لوگ اس کی گرمی سے جل کر راکھ نہیں بنیں گے، حالانکہ اگر دنیا کی زندگی میں سورج ذرا سا بھی قریب آ جائے، حتیٰ کہ ایک انگلی کے برابر فاصلہ بھی، تو زمین اور اس پر موجود سب کچھ جل جائے گا۔ کوئی سوال کر سکتا ہے: قیامت کے دن سورج کیسے مخلوق کے سروں کے اتنے قریب آ جائے گا، اور پھر بھی لوگ ایک لمحے کے لیے بھی اس کی گرمی سے نہیں جلیں گے؟ ہم ایسے شخص سے فرماتے ہیں: ہم ایسے شخص سے کہتے ہیں: تمہیں اس حدیث کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا چاہیے۔ اور اس صحیح حدیث کے ساتھ حسنِ سلوک یہ ہے کہ ہم اسے قبول کریں اور ایمان لائیں، کہ ہمارے دل اس میں کسی قسم کی پریشانی، تنگی یا ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا ہے، وہ حق اور حقیقت ہے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا میں لوگوں کی حالت اور آخرت میں ان کی حالت کے درمیان بہت بڑا فرق ہے، اور یہی وسیع فرق سبب ہے کہ آخرت کے امور کو دنیاوی زندگی کے پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔

پس ہم جانتے ہیں، مثال کے طور پر، کہ قیامت کے دن لوگ پچاس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے۔ اور دنیاوی زندگی کے پیمانے سے دیکھا جائے تو کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص پچاس ہزار منٹ تک بھی کھڑا رہ سکے؟

جواب نہیں ہے۔ لہٰذا فرق بہت عظیم ہے۔ اگر ایسا ہے تو مؤمن ان احادیث کو کھلے سینے، سکون اور اطمینان کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس کی سمجھ روایت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتی ہے، اور اس کا دل اس کے مفہوم کے لیے کھل جاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ سلوک میں یہ شامل ہے کہ انسان اللہ کے احکام کو قبولیت، فرمانبرداری اور عمل کے ساتھ اختیار کرے اور اللہ کے کسی حکم کو رد نہ کرے۔ اگر کوئی اللہ کے کسی حکم کو رد کرے، چاہے اسے منکر ہو جائے، یا تکبر کے ساتھ اس پر عمل کرنے سے انکار کرے، یا غفلت اور لاپروائی کے سبب اس پر عمل نہ کرے، تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ سلوک کے منافی ہیں۔

یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے نہایت قیمتی پہلو ہیں، انہیں اپنی زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنا لو۔ انہی کی روشنی میں دینِ حق پر چلو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اختیار کرو اور اسی راستے پر آگے بڑھو تاکہ تم سیدھی راہ پا سکو۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین اخلاق کے ساتھ پیدا فرمایا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم انہیں ہی اپنا نمونہ بنائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔

 لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِی رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةࣱ لِّمَن كَانَ یَرۡجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلۡیَوۡمَ ٱلۡـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔

(سورۃ الاحزاب :21)

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو حکم دیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور ان کی پیروی کریں، اور اسی میں کامیابی ہے۔

 فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِیِّ ٱلۡأُمِّیِّ ٱلَّذِی یُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَـٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ

سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ۔

رَزَقَنَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ مَحَبَّةَ هَذَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَقَنَا إِلَى اتَّبَاعِ سُنَّتِهِ وَهُدَاهُ حَتَّى يَأْتِينَا الْيَقِينُ

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائے، اور ہمیں ان کی سنت اور ہدایت کی پیروی کی توفیق دے، یہاں تک کہ ہمیں موت کی یقینی گھڑی آ جائے۔

اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

ابو خدیجہ عبد الواحد عالم

بروز پیر، 24 دسمبر 2025ء / 4 رجب 1447ھ

انگریزی میں پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں ۔

https://abukhadeejah.com/perfect-and-beautiful-character-of-the-prophet-muhammad/