حصہ پنجم
صرف اللہ کی کتاب (قرآن) کی پیروی کرنا واجب ہے، اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
اللہ تعالیٰ نے کا ارشاد ہے
وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡكَ ٱلۡكِتَـٰبَ تِبۡیَـٰنࣰا لِّكُلِّ شَیۡءࣲ
اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے۔
(سورۃ النحل: 89)
امام النسائی اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تورات کا ایک ورق دیکھا تو فرمایا
أمتهوكون يا ابن الخطاب؟ لقد جِئتُكم بها بيْضاء نَقيَّة، ولو كان موسى حيًا واتبعتموه، وتركتموني ضللتم
اے ابنِ خطاب! کیا تم اس (تورات) میں شک یا تردد رکھتے ہو؟ میں تمہارے پاس ایک ایسا دین لے کر آیا ہوں جو صاف اور واضح ہے۔ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے، اور تم انہیں چھوڑ کر میری بجائے ان کی پیروی کرتے، تو یقیناً تم گمراہ ہو جاتے۔”
یہ روایت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حافظ نورالدین الہیثمی رحمہ اللہ نے اسے مجمع الزوائد، کتاب العلم، باب: “لا یُجعل لقول أحد مع قول رسول الله ﷺ” میں نقل کیا ہے (1/174، رقم: 808)۔اسے امام احمد نے اپنی مسند میں (3/387)، ابو یعلى الموصلی نے اپنی مسند میں (4/102، رقم: 2235)، البزار نے اپنی مسند میں اور ابن ابی شیبہ نے المصنف میں (5/312، رقم: 26421) روایت کیا ہے۔
ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ولو كان موسى حيًا ما وسعه إلا اتباعي. فقال عمر: رضيت بالله ربًا وبالإسلام دينًا وبمحمد نبيا
اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری اتباع کے سوا کسی اور چیز کی اتباع جائز نہ ہوتی۔ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔
امام احمد نے المسند میں (4/265–266)، اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ حافظ نورالدین الہیثمی رحمہ اللہ نے اسے مجمع الزوائد، کتاب العلم، باب: ” لا يُجْعَلُ لِقَوْلِ أَحَدٍ مَعَ قَوْلِ رَسُولِ الله ﷺ ” میں جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے (1/174، حدیث 806)۔ وہ لکھتے ہیں:اسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے، اور اس کے راوی صحیح بخاری کے راویوں کے برابر ہیں، سوائے جابر الجعفی کے، جو ضعیف ہے۔
شرح : شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ
مندرجہ بالا بات اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان سے بالکل واضح ہو جاتی ہے
وَمَن یَبۡتَغِ غَیۡرَ ٱلۡإِسۡلَـٰمِ دِینࣰا فَلَن یُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَـٰسِرِینَ
جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔
(سورۃ آلِ عمران: 85)
اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان
فَلۡیَحۡذَرِ ٱلَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنۡ أَمۡرِهٖ أَن تُصِیبَهُمۡ فِتۡنَةٌ أَوۡ یُصِیبَهُمۡ عَذَابٌ أَلِیمٌ
سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔
(سورۃ النور: 63)
اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان
وَمَاۤ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُوا۟ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِیدُ ٱلۡعِقَابِ
اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔
(سورۃ الحشر: 7)
یہ تمام آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ پوری امت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واجب ہے، خواہ موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام یا دیگر انبیاء میں سے کوئی بھی زندہ ہوتے، تو ان پر بھی لازم ہوتا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی اور رسول ہیں، اور آپ کو تمام انسانوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔
:جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا
قُلۡ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّی رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَیۡكُمۡ جَمِیعًا ٱلَّذِی لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَـٰوٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَاۤ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ یُحۡیِۦ وَیُمِیتُۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِیِّ ٱلۡأُمِّیِّ ٱلَّذِی یُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَـٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ۔
(سورۃ الاعراف: 158)
لہٰذا لازم ہے کہ تمام امت خواہ مرد ہوں یا عورتیں، عرب ہوں یا غیر عرب،جن ہوں یا انسان ، سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں،چاہے وہ قرآنِ مجید کی آیات کے مطابق ہو یا سنتِ صحیحہ کے ذریعے سے۔اور امت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس راستے سے ہٹ کر کسی اور چیز کو اختیار کرے۔
حواشی و تعلیقات (ابو خدیجہ حفظہ اللہ کے کلمات)
اس کی وجہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا زمانۂ نبوت گزر چکا ہے، لہٰذا ان کی شریعت اور جو کتاب ان پر نازل کی گئی تھی، وہ منسوخ ہو چکی ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی شریعت اور کتاب بھی منسوخ ہو چکی ہے، کیونکہ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تمام سابقہ شریعتیں باطل اور منسوخ قرار پا گئیں۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ پچھلے انبیاء پر نازل ہونے والی کتابوں کو پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ اہلِ کتاب نے اپنی کتابوں میں تحریف اور تبدیلی کر دی ہے۔ اور اگرچہ ان کتابوں میں کچھ احکام ایسے بھی ہوں جو اب تک تحریف سے محفوظ ہوں، تب بھی وہ احکام منسوخ ہیں، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
سوال: کیا آج جسے عہدِ قدیم اور عہدِ جدید (بائبل) کہا جاتا ہے، اسے پڑھنا بالکل حرام ہے؟
:اس بارے میں علماء کے دو اقوال موجود ہیں
پہلا قول یہ ہے کہ عام مسلمان ہو یا عالم ، سب کے لیے اسے پڑھنا ممنوع ہے، اور بہت سے علماء اس رائے کے قائل ہیں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ عالمِ دین کے لیے بائبل کا مطالعہ جائز ہے تاکہ وہ یہود و نصاریٰ کے دعووں کا رد کر سکے اور دعوتِ اسلام میں مدد ملے۔ یہ قول بھی علماء کے ایک بڑے گروہ کا ہے، اور انہوں نے اس موضوع پر ایسی کتابیں لکھی ہیں جو یہودی ربیوں اور عیسائی پادریوں کی کی ہوئی تحریفات کو واضح کرتی ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے الجوابُ الصحیح لِمَن بَدَّلَ دینَ المسیح تصنیف کی، جس میں تورات اور انجیل سے بے شمار حوالہ جات موجود ہیں۔ ان کے ممتاز شاگرد، امام ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی اہلِ کتاب اور ان کی تحریفات کے رد میں ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام ہدایتُ الحَیارى فی أجوبةِ الیہودِ والنصارى ہے۔ اسی طرح امام قرطبی رحمہ اللہ نے بھی سابقہ آسمانی کتابوں میں کی گئی غلطیوں اور تحریفات کی تحقیق کی، تاکہ اسلام کی مدد ہو اور لوگوں کو حق کی طرف بلایا جا سکے
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عام، غیر تعلیم یافتہ مسلمان کے لیے یہود و نصاریٰ کی کتابیں ، جیسے تورات اور انجیل پڑھنا جائز نہیں۔ البتہ عالم کے لیے، یا مضبوط طالبِ علم کے لیے، جو اسلامی شریعت اور عقیدے میں پختہ ہو، ان کتابوں کا مطالعہ جائز ہے، بطورِ ردّ اور دعوت کے مقصد کے لیے۔
قرآن کی تفاسیر میں موجود اسرائیلی روایات کا کیا حکم ہے، جو یہود و نصاریٰ کی کتابوں سے نقل کی گئی ہیں، جیسے تفسیر ابن جریر طبری، ابن کثیر، البغوی اور دیگر میں؟
جواب:اہلِ کتاب کی کتابوں سے روایت نقل کرنے والے روایات تین اقسام میں آتی ہیں۔
:پہلی قسم
وہ جو روایات صحیح اور درست ہیں، اور قرآن و سنت میں بھی موجود ہیں۔ہماری شریعت میں جو کچھ ہے وہ کافی ہے، اس لیے ہمیں ان روایات کی ضرورت نہیں۔ البتہ انہیں صرف اس لیے نقل کیا جا سکتا ہے کہ وہ بھی حق کی تصدیق کرتی ہیں، اور اہلِ کتاب کے خلاف حجت قائم کرنے کے لیے۔
:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
°مجھ سے روایت کرو، چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو؛ اور بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی حرج نہیں؛ اور جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، وہ اپنا مقام جہنم میں بنا لے۔
:دوسری قسم
وہ روایات جو ہمیں معلوم ہیں کہ جھوٹی ہیں، کیونکہ وحیِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مخالفت کرتی ہے۔ ایسی روایات نقل کرنا جائز نہیں، سوائے اس کے کہ یہ دکھانے کے لیے کہ یہ جھوٹ اور یہود و نصاریٰ کی تحریف شدہ روایات ہیں۔
اس کا ثبوت کہ اس سلسلے میں ان سے روایت نقل کرنا جائز نہیں،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ تمہارے پاس (قرآن و حدیث کا) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے۔ واللہ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو۔
[صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7363]
انہوں نے اپنی نبیوں پر نازل ہونے والی کتاب کو اپنے ہاتھوں سے بدل دیا اور اس قدر تحریف کی کہ اس کا حق اور باطل الگ کرنا ناممکن ہو گیا۔ اسی وجہ سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان سے (یعنی اہلِ کتاب سے) کچھ مت پوچھو، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ تمہیں کسی سچ کے بارے میں بتائیں اور تم اسے رد کر دو، یا کسی جھوٹ کے بارے میں بتائیں اور تم اسے قبول کر لو۔
:تیسری قسم
وہ روایات جن کے بارے میں ہماری شریعت خاموش ہے۔ یہ نہ تو کتاب میں مذکور ہیں اور نہ سنت میں۔ اس لیے ہم ان پر بلا تحقیق یقین بھی نہیں کرتے اور نہ ہی بلا تحقیق انکار۔ کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ وحی سے ہیں یا نہیں۔ایسی روایات نقل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ واضح طور پر کہا جائے کہ یہ اسرائیلیات (یہود و نصاریٰ کی روایات) ہیں۔ شاید یہی مراد ہے اس روایت کی جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا
كَانَ أَهْلُ الكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الكِتَابِ وَلا تُكَذِّبُوهُمْ» وَقُولُوا: {آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ} الآيَةَ
اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا …..۔
[صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7362]
یہ حدیث اس آیت کی طرف اشارہ کرتی ہے
قُولُوۤا۟ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَاۤ أُنزِلَ إِلَیۡنَا وَمَاۤ أُنزِلَ إِلَىٰۤ إِبۡرٰهِـۧمَ وَإِسۡمَـٰعِیلَ وَإِسۡحَـٰقَ وَیَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَمَاۤ أُوتِیَ مُوسَىٰ وَعِیسَىٰ وَمَاۤ أُوتِیَ ٱلنَّبِیُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ أَحَدࣲ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ
اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
(سورۃ البقرہ آیت 136)
الله اعلم بالصواب۔
عیسائیوں نے بائبل کی پہلی حکم کی مخالفت کی میں تمہارا رب تمہارے خدا ہوں، جس نے تمہیں مصر کی زمین سے، غلامی کی زمین سے نکالا۔ تمہارے لیے میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہوگا۔
:رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو (میرے متعلق) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
[صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3445]
وَإِذَا آمَنَ بِعِيسَى، ثُمَّ آمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ
وہ شخص جو پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا، پھر مجھ پر ایمان لایا تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے۔
ابن عباس رضوی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا
اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کو ان کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔
[صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3453]
اس سے مراد مسلمانوں کو ان کے اعمال کے خطرات سے آگاہ کرنا تھا۔ بائبل کے اولڈ ٹیسٹمنٹ میں پہلے حکم کا ذکر اس طرح آتا ہے۔
میں ہوں خداوند، تمہارا خدا، جس نے تمہیں مصر کی سرزمین اور غلامی کے گھر سے نکالا۔ تم میرے علاوہ کسی اور کو معبود نہ بنانا۔
(Exodus 20: 2-3)
یہ وہی رب ہے جو موسیٰ علیہ السلام کا پروردگار تھا۔ اسی بلند و برتر رب نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا بندہ اور اپنا رسول بنا کر بھیجا، نہ کہ کوئی معبود جس کی عبادت کی جائے۔
نیو ٹیسٹمنٹ (انجیل) میں بھی اسی پہلے حکم کو یوں دہرایا گیا ہے۔
عیسیٰ نے فرمایا: اپنے ربّ خدا سے اپنے پورے دل، پوری جان اور پوری عقل کے ساتھ محبت کرو۔ یہی پہلا اور سب سے بڑا حکم ہے۔
(Matthew 22:37-38)
لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی ربّ کی تصدیق کرتے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کا ربّ ہے ، وہی حقیقی معبود جو عبادت اور محبت کا اکیلا مستحق ہے۔
بہت سے عیسائی علما اور مفکرین اس بات کو مانتے ہیں کہ صرف ایک ہی رب ہے، جو پوری کائنات کا رب اور خالق ہے، اور عبادت صرف اسی کی ہونی چاہیے۔ جرمن مذہبی عالم مارٹن لوتھر (متوفیٰ1546ء)، جو پروٹسٹنٹ اصلاحِ مذہب کی اہم شخصیات میں سے تھا، لکھتا ہے۔
شرک صرف یہ نہیں کہ کوئی بت بنایا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ اصل شرک دل میں ہوتا ہے،جب انسان خدا کے بجائے کسی اور کی طرف دیکھے، اور اپنی مدد اور آسرا مخلوق، اولیاء یا شیطانوں سے تلاش کرے۔ ایسا شخص نہ خدا پر بھروسہ رکھتا ہے، نہ اس سے خیر کی امید کرتا ہے، نہ یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے گا، اور نہ اس پر ایمان رکھتا ہے کہ جو بھی بھلائی اسے ملتی ہے، وہ خدا ہی کی طرف سے ہے۔
دی لارج کیٹیکزم، حصہ سوم، “پہلا حکم”، مترجمین: ایف۔ بینٹے، ڈبلیو۔ ایچ۔ ٹی۔ ڈاؤ ٹرائی گلٹ کونکورڈیا، کانکورڈیا پبلیشنگ ہاؤس، سینٹ لوئس (1921ء)، ص 565–773۔
جان کیلون، جو ایک معروف فرانسیسی مسیحی عالم، پادری اور پروٹسٹنٹ مصلح تھا (متوفیٰ 1564ء) لکھتا ہے۔
جب بنی اسرائیل نے بعلوں کی عبادت کی، تو انہوں نے یہ نہیں کیا کہ اللہ کو یکسر چھوڑ کر ان بتوں کو اس کی جگہ معبود بنا دیں، اور نہ ہی ان کو مطلق اختیار دینے کا دعویٰ کیا۔ مگر اس کے باوجود یہ اللہ کی عبادت کی انتہائی سنگین بےحرمتی تھی۔
بائبل کے اولڈ ٹیسٹمنٹ کے مطابق، بعل اور عشارہ کی عبادت قدیم کنعانی، فینیشیا اور شام کے لوگوں کی سب سے بدترین اور مکروہ شرک کی شکلوں میں سے تھی۔ بعل، جس کے نام کا مطلب “رب” یا “مالک” ہے، زرخیزی، بارش اور زرعی خوشحالی کے سب سے بڑے معبود کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اسے اکثر ایک بجلی کے تیر کے ساتھ دکھایا جاتا تھا، جس کے ذریعے زمین کو زندگی اور پیداوار ملتی تھی۔ اس کی شریک حیات، عشارہ، فینیقیوں کے ہاں استارٹی اور آشوریوں کے ہاں اشتر کے نام سے جانی جاتی تھی، اور اسے ماں دیوی کے طور پر پوجا جاتا تھا جو زرخیزی اور جنسی طاقت کی علامت تھی۔ اس کی تصویر لکڑی کے ستون یا درختوں کے ذریعے پیش کی جاتی تھی، جنہیں مشرکین اپنے مندروں کے پاس لگا دیتے تھے۔
جب بنی اسرائیل نے کنعان کی زمین میں قدم رکھا، تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس زمین کو ایسی باطل چیزوں سے پاک کریں، بتوں کو تباہ کریں، اور اللہ کی خالص عبادت میں ثابت قدم رہیں، اور فرمایا: “میرے سوا کسی اور معبود کی عبادت نہ کرو” (ایکسوڈس 20:3).
لیکن یوشع بن نون (حضرت یوشع علیہ السلام) کے وفات کے فوراً بعد، بنی اسرائیل سست روی اختیار کرنے لگے، مشرک قوموں کے ساتھ گھلنے ملنے لگے اور ان کی فاسد رسومات کی پیروی کرنے لگے۔ یوں وہ “ربّ کے نزدیک برے عمل کرنے لگے اور بعلوں اور عشارہ کی عبادت کرنے لگے” (جادجز 3:7). یہ نسل در نسل انحراف، توبہ اور پھر سے گمراہی کے ایک متواتر چکر کا آغاز تھا۔
قاضیوں کے دور میں اللہ نے اصلاح کرنے والے بھیجے تاکہ انہیں واپس واحد حقیقی خدا کی عبادت کی طرف بلایا جا سکے، لیکن ان کے دل دوبارہ بت پرستی کی طرف مائل ہو جاتے۔ جب اللہ نے ان میں نبی بھیجے، تو اکثر ان کی نصیحت کو رد کر دیا اور مشرک عبادت کی آسانی اور لذت کو ترجیح دی۔
جب بادشاہ اہاب اور اس کی بیوی جیزبل کے دور میں بعل کی عبادت ریاستی سطح پر مذہب بن گئی، تو اللہ کے نبی ایلیا علیہ السلام کو بھیجا گیا تاکہ وہ جیزبل کی دعوت پر کھانے والے 450 بعل کے نبیوں اور 400 عشارہ کے نبیوں کا مقابلہ کریں (1 کنگز 18:9 ). یہ محض مذہبی مقابلہ نہیں بلکہ حق اور باطل، توحید اور شرک کے درمیان جدوجہد تھی۔
بعل اور عشارہ کی عبادت انسان کی خواہشات کو مطمئن کرتی تھی۔ یہ فحاشی اور بے حیائی سے جڑی ہوئی تھی، رسومات کے تحت فحش اور جنسی اعمال ان جھوٹے معبودوں کی عبادت کے طور پر کیے جاتے تھے۔ یوں لوگ روحانی فساد اور اخلاقی بربادی کو ملا دیتے تھے۔
یہی حال بعل پیور کے واقعے میں ہوا، جب اسرائیلی مرد موآبی عورتوں کے ساتھ فحاشی کرنے لگے اور ان کے مشرک قربانیوں میں شامل ہو گئے (نمبرز ففٹی فائیو:ون ٹو). مزید برآں، بنی اسرائیل نے اپنے آس پاس کی قوموں کی مانند بننے کی خواہش کے باعث شرک اختیار کیا۔ انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کرو جیسے دیگر قوموں کے ہیں (1 سیموئیل 8:5). انہوں نے دنیاوی مقام اور کفار کی نقل کو ترجیح دی، اور بھول گئے کہ اللہ نے انہیں وحی اور ہدایت کے ذریعے معزز کیا تھا۔
ان کا زوال تقلید، خواہش اور بے فکری کے ذریعے آیا،یہ تین زہر ہر قوم کو تباہ کر دیتے ہیں جو انہیں اپنائے۔ بعل اور عشارہ کی کہانی صرف قدیم بت پرستی کا ریکارڈ نہیں بلکہ ہر نسل کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جب بھی کوئی قوم اللہ کی خالص عبادت سے منہ موڑ کر اپنی خواہشات اور کفار کے طریقوں کی پیروی کرتی ہے، تو ذلت اور عذاب لازمی طور پر اس کے بعد آتا ہے۔
( gotquestions.org/Baal-and-Asherah.html،حوالہ: تدوین و ترتیب شدہ)
کیلون اپنی تحریروں میں عیسائیوں کو اُس تنبیہ کی یاد دہانی کراتے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو کی تھی کہ وہ کائنات کے ربّ کے سوا کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں۔
تم کسی اور خدا کی پیروی نہ کرو، نہ اُن میں سے کسی کا جو تمہارے ارد گرد کی قوموں کے معبود ہیں، کیونکہ تمہارا خداوند تمہارے درمیان ایک ایسا خدا ہے جو وفاداری اور صرف اپنی عبادت کا متقاضی ہے، ورنہ تمہارے خداوند کا غضب تم پر بھڑک اٹھے گا، اور وہ تمہیں زمین کی سطح سے مٹا دے گا۔
(Deuteronomy 6:14)
اس کے باوجود، کچھ مسیحی اب بھی عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کی عبادت پر قائم ہیں۔ اس میں وہ خود اپنے صحائف کے ساتھ متصادم ہیں،اپنے دعوے یعنی توحید سے متصادم ہیں،اور موسیٰ، عیسی علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف عمل کرتے ہیں۔
مزید برآں، بائبل میں فرمایا گیا ہے۔
تم اپنے لیے کوئی بت یا کوئی ایسا نقش و نگار نہ بناؤ جو آسمان میں اوپر، زمین پر نیچے، یا زمین کے نیچے پانی میں ہو۔ تم ان کی عبادت نہ کرو اور نہ ان کے سامنے جھکو، کیونکہ میں، تمہارا غیور رب ہوں۔
(Exodus 20:4)
یہ دوسرا حکمِ الٰہی کی بنیاد ہے۔ لیکن عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصاویر بناتے ہیں، اسے ‘رب’ کہتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں، اور پھر بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ واحد خالق کے عبادت گزار ہیں۔
بائبل کے مطابق، اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا۔
تم نے اس دن کوئی مثل نہیں دیکھی جب رب نے آگ کے درمیان سے تم سے بات کی۔
(Deuteronomy 4:15)
مشہور انگریزی پُریٹن اور عالمِ دین تھامس واٹسن (1686ء) نے تبصرہ کیا۔
کیا کوئی خدا کی تصویر بنا سکتا ہے؟ کیا وہ اس کا نقشہ بنا سکتا ہے جسے کبھی نہیں دیکھا؟ روح کی تصویر بنانا یا فرشتوں کو پینٹ کرنا ناممکن ہے کیونکہ وہ روحانی نوعیت کے ہیں؛ اور اللہ کی تصویر بنانا تو بالکل ناممکن ہے، جو لامحدود ہے۔ خدا کی تصویر کے ذریعے عبادت کرنا نہ صرف احمقانہ بلکہ ناجائز بھی ہے۔
بطور مسلمان، ہم ایمان رکھتے ہیں کہ فرشتے حقیقت میں ایک مادی مخلوق ہیں، لیکن پھر بھی اسلام پیغمبروں، فرشتوں یا کسی بھی اللہ کی مخلوق جس کی جان ہے، چاہے انسان ہو یا جانور، کی تصاویر یا مجسمے بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔
عیسائیوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے۔ وہ پیغمبروں، فرشتوں اور اللہ کی تصاویر اور مجسمے بناتے ہیں حالانکہ انہوں نے انہیں کبھی دیکھا نہیں۔ اس کے علاوہ، انہیں یہ سب کرنے سے بائبل میں منع بھی کیا گیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ یہ مجسمے اور تصاویر محض قیاس آرائی اور اندازوں پر بناتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ مریم علیھا السلام کیسی تھیں، نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا ان کے اصحاب، اور تو اللہ تو بالکل بھی نہیں، پھر بھی وہ اپنی مرضی اور تخیل سے ایک تصویر کے بعد دوسری تصویر اور ایک مجسمہ کے بعد دوسرا مجسمہ بناتے ہیں۔ ہر ملک، ہر قصبے میں اپنی اپنی تصویریں ہیں۔ کچھ ملکوں میں حضرت عیسیٰ کو سفید فام یورپی، سنہرے بالوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے، اور کچھ میں انہیں سیاہ فام افریقی، گھنگریالے بالوں والے دکھایا جاتا ہے۔ اگر یہ بت پرستی نہیں، تو پھر بت پرستی کیا ہے؟
بہت سے مسیحی علماء نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حقیقی اللہ جس کی عبادت واجب ہے، وہ تمام پیغمبروں کا اللہ ہے، یعنی خلق کا واحد رب۔ شیطان نے مسیحیوں کو گمراہ کیا اور وہ شرک میں مبتلا ہو گئے، عیسیٰ اور ان کی والدہ کی عبادت کرنے لگے، چاہے وہ مجسموں، تصویروں اور صلیب کے ذریعے ہو، یا محض دل و دماغ میں انہیں معبود مان لینا ہو۔ بائبل میں کہا گیا ہے۔
:بائبل میں بیان ہوا ہے
تم اپنے لیے بت نہ بناؤ، نہ اپنے لیے کوئی تصویر یا مقدس ستون قائم کرو، اور نہ اپنی زمین میں کوئی نقش پتھر رکھو جس کے سامنے سجدہ کرو، کیونکہ میں تمہارا رب ہوں۔
(Leviticus 26:1)
دنیا کے کتنے ہی مقامات پر ہم مریم علیہا السلام کی تصاویر دیکھتے ہیں جن کے بازو میں بچہ عیسیٰ ہوتا ہے، یا خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے چرچوں اور دیگر جگہوں پر، کچھ میٹر اونچے اور کچھ چھوٹے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہزاروں عیسائی ان پتھر کے مجسموں اور تصاویر کے سامنے جمع ہوتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ یہی وہ شرک ہے جو بائبل میں منع ہے اور عقل بھی اسے قبول نہیں کرتی، اور یہی ان کے توحید کے دعوے کو باطل کرتا ہے۔
لہٰذا، عیسیٰ علیہ السلام یا ان کی والدہ کی عبادت کی کسی بھی شکل اختیار کرنا اس فرمان کی صریح خلاف ورزی ہے جس پر عالم اسلام متفق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا۔
وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِ ٱلَّیۡلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُۚ لَا تَسۡجُدُوا۟ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِی خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمۡ إِیَّاهُ تَعۡبُدُونَ
اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو۔
(سورۃ الفصلت :37)
لَقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِینَ قَالُوۤا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِیحُ ٱبۡنُ مَرۡیَمَۖ وَقَالَ ٱلۡمَسِیحُ یَـٰبَنِیۤ إِسۡرَ اءِیلَ ٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّی وَرَبَّكُمۡۖ إِنَّهُۥ مَن یُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَیۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِینَ مِنۡ أَنصَارࣲ
بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔
(سورۃ المائدہ:72)
لَّقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِینَ قَالُوۤا۟ إِنَّ ٱللَّهَ ثَالِثُ ثَلَـٰثَةࣲۘ وَمَا مِنۡ إِلَـٰهٍ إِلَّاۤ إِلَـٰهࣱ وَ احِدࣱۚ
وه لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، دراصل سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں۔
(سورۃ المائدہ: 73)
مَّا ٱلۡمَسِیحُ ٱبۡنُ مَرۡیَمَ إِلَّا رَسُولࣱ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّیقَةࣱۖ كَانَا یَأۡكُلَانِ ٱلطَّعَامَۗ ٱنظُرۡ كَیۡفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ ٱلۡـَٔایَـٰتِ ثُمَّ ٱنظُرۡ أَنَّىٰ یُؤۡفَكُونَ
مسیح ابن مریم سوا پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوچکے ہیں ان کی والده ایک راست باز عورت تھیں دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے، آپ دیکھیے کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں پھر غور کیجیئے کہ کس طرح وه پھرے جاتے ہیں۔
(سورۃ المائدہ:75)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے پیغمبر ہیں، مریم علیہا السلام ایک سچی عورت ہیں، اور دونوں انسان تھے کیونکہ انہوں نے وہ کھانا کھایا جو ان کے رب نے انہیں دیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اللہ پر منحصر تھے۔ کسی بھی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی پیغمبر، فرشتے، پتھر، قبر یا اللہ کے علاوہ کسی چیز کی عبادت کرے، یہ سب شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے مخلص اور عاجز بندے تھے اور صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے۔
وَإِذۡ قَالَ ٱللَّهُ یَـٰعِیسَى ٱبۡنَ مَرۡیَمَ ءَأَنتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِی وَأُمِّیَ إِلَـٰهَیۡنِ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالَ سُبۡحَـٰنَكَ مَا یَكُونُ لِیۤ أَنۡ أَقُولَ مَا لَیۡسَ لِی بِحَقٍّۚ إِن كُنتُ قُلۡتُهُۥ فَقَدۡ عَلِمۡتَهُۥۚ تَعۡلَمُ مَا فِی نَفۡسِی وَلَاۤ أَعۡلَمُ مَا فِی نَفۡسِكَۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُیُوبِ
مَا قُلۡتُ لَهُمۡ إِلَّا مَاۤ أَمَرۡتَنِی بِهِۦۤ أَنِ ٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّی وَرَبَّكُمۡۚ وَكُنتُ عَلَیۡهِمۡ شَهِیدࣰا مَّا دُمۡتُ فِیهِمۡۖ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِی كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِیبَ عَلَیۡهِمۡۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءࣲ شَهِیدٌ
اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوه اللہ کے معبود قرار دے لو! عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تو تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں، مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں، اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو، تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے واﻻ تو ہی ہے۔
میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو، تو ہی ان پر مطلع رہا۔ اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے۔
(سورۃ المائدہ:116٫117)
یہاں تک کہ بائبل میں بھی واضح بیانات موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کی عبادت کی طرف رجوع کرتے تھے۔ عربی بائبل میں، جو تمام مسیحی عرب پڑھتے ہیں، ایک آیت یوں ہے
اور عیسیٰ نے اسے کہا: تُو مجھے اچھا کیوں کہتا ہے؟ کوئی بھی اچھا نہیں مگر اللہ واحد۔
( Mark 10:18 )
یہاں عیسیٰ علیہ السلام نے خود کو اللہ سے ممتاز کیا کہ وہ عبادت کرنے والا ہے، اور اللہ وہ ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے۔ عربی بائبل کے اولڈ ٹیسٹمنٹ میں بھی یہ الفاظ ملتے ہیں:
“شروع میں، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔”
(Genesis, verse 1)
انگریزی بولنے والے بہت سے مسیحی اس وقت حیران ہو جاتے ہیں جب وہ یہ الفاظ پڑھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے تصور کیا تھا کہ اللہ صرف مسلمانوں کا رب ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ وہ رب اور خالق ہے جس نے آدم کو پیدا کیا اور پہلے نبی بنایا، اور وہی اللہ ہے جس نے نوح، ابراہیم، اسحاق، اسماعیل، یعقوب، موسیٰ، یحییٰ، عیسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔
مغرب میں بہت سے لوگ اللہ کو صرف عربوں کا رب سمجھتے ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ لفظ اللہ اُس واحد ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو سب کا رب اور خالق ہے، اور جس کی عبادت صرف اسی کے لیے واجب ہے۔
Source: abukhadeejah.com