اسلام کا معنی
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
فَإِنۡ حَاۤجُّوكَ فَقُلۡ أَسۡلَمۡتُ وَجۡهِیَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ
پھر بھی اگر یہ آپ سے جھگڑیں توآپ کہہ دیں کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ہے۔
(آلِ عمران: 20)
امام بخاری رحمہ اللہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔
یہ حدیث طویل روایت کا ایک حصہ ہے جس میں جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام، ایمان، احسان اور قیامت کی نشانیوں کے بارے میں سوال کیا۔
وضاحت:امام ابن باز رحمہ اللہ
یہ جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو اُس وقت دیا جب انہوں نے دریافت کیا: اسلام کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں منقول ہے
اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو
یہ تعریف اسلام کے ارکان کے اعتبار سے ہے اور اگر اسے عمومی مفہوم میں لیا جائے تو اسلام درحقیقت ہر اُس حکم پر عمل کرنے کا نام ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہو اور ہر اُس چیز سے رکنے کا نام ہے جس سے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنَّ ٱلدِّینَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَـام
“بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”
(سورۃ آل عمران: 19)
البتہ عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں صرف اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کا ذکر ہے چنانچہ بعض روایات میں اسلام کے ارکان بیان کیے گئے ہیں جبکہ بعض دیگر روایات میں اسلام کے تمام اجزاء اور پہلوؤں کی جامع وضاحت آئی ہے۔
توحید کے معنی سے متعلق اضافی توضیحات
توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ بندہ یہ مان لے کہ اللہ ہی خالق، مالک اور بادشاہ ہے
کیونکہ یہ حقیقت تو مشرکین اور کفار ہر زمانے میں مانتے رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا
قُل لِّمَنِ ٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِیهَاۤ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
فوراً سَیَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمٰوٰتِ ٱلسَّبۡعِ وَرَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِیمِ
سَیَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ
قُلۡ مَنۢ بِیَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَیۡءࣲ وَهُوَ یُجِیرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیۡهِ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
سَیَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ فَأَنَّىٰ تُسۡحَرُونَ
پوچھیئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟
جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجیئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے؟
دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟
وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟
پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟
یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے، کہہ دیجیئے پھر تم کدھر سے جادو کر دیئے جاتے ہو؟
(المؤمنون: 84–89)
یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ عرب کے مشرکین اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کرتے تھے۔ یعنی مشرکین مکہ اللہ کی ربوبیت، حکمرانی، ملکیت، اور اس کے افعال کی یکتائی کو مانتے تھے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا
قُلۡ مَن یَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَاۤءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن یَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَـٰرَ وَمَن یُخۡرِجُ ٱلۡحَیَّ مِنَ ٱلۡمَیِّتِ وَیُخۡرِجُ ٱلۡمَیِّتَ مِنَ ٱلۡحَیِّ وَمَن یُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَیَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ
آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے
(یونس: 31)
مکہ کے مشرک، جو لات، عُزّیٰ، منات، ہُبل اور دیگر بتوں کی عبادت کرتے تھے، اللہ کی ربوبیت (یعنی اس کے پیدا کرنے، پالنے اور نظام چلانے) کا انکار نہیں کرتے تھے۔ وہ اللہ کے وجود کو بھی مانتے تھے۔ لیکن چونکہ وہ صرف اللہ ہی کی عبادت نہیں کرتے تھے اور جھوٹے معبودوں کی عبادت چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے، اسی وجہ سے وہ کافر اور مشرک شمار ہوئے۔
اگر ان سے پوچھا جاتا: کعبہ کا رب کون ہے؟ تو وہ جواب دیتے: اللہ ہے۔
اور اگر ان سے کہا جاتا: عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ تو وہ کہتے: اللہ ہی عرش کا مالک ہے، اور وہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کا معنی
امام ابن باز رحمہ اللہ سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه قرآن کے بعد سب سے افضل کلمہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب کلمہ ہے۔ یہ کلمہ اخلاص ہے جو صرف اللہ کے لیے ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کی طرف سب سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام نے دعوت دی۔ یہی وہ پہلی بات تھی جس کی طرف نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، تم کامیاب ہو جاؤ گے۔
پس یہ کلمہ اخلاص ہے، اور کلمہ توحید ہے، یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے۔
وَمَعْنَاهَا: لَا مَعْبُودَ بِحَقٍّ إِلَّا اللهُ
هَذَا مَعْنَاهَا كَمَا قَالَ تَعَالَى
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ [الحج: 62]
وَهِيَ نَفْيٌ وَإِثْبَاتٌ
(لَا إِلَهَ) نَفْيٌ
و(إِلَّا اللهُ) إِثْبَاتٌ
و(لَا إِلَهَ) تَنْفِي جَمِيعَ الْمَعْبُودَاتِ وَجَمِيعَ الْآلِهَةِ بِغَيْرِ حَقٍّ
و(إِلَّا اللهُ) تُثْبِتُ الْعِبَادَةَ بِالْحَقِّ لِلَّهِ وَحْدَهُ سُبْحَانَهُ
فَهِيَ أَصْلُ الدِّينِ وَأَسَاسُ الْمِلَّةِ
: اس کلمے کا معنی ہے
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا
ذلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا یَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَـٰطِلُ
یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے
(سورۃ الحج: 62)
اور یہ (کلمہ) نفی اور اثبات پر مشتمل ہے۔
لَا إِلٰهَ) نفی ہے ، یعنی کوئی معبود برحق نہیں۔)
اور ( إِلَّا اللهُ ) اثبات ہے ، یعنی معبودِ برحق صرف اللہ ہے۔
لَا إِلٰهَ ) تمام معبودوں اور سب جھوٹے الٰہوں کی نفی کرتا ہے جنہیں ناحق پوجا جاتا ہے۔ )
اور ( إِلَّا اللهُ ) عبادت کو حق اور سچائی کے ساتھ صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کے لیے ثابت کرتا ہے، جو پاک و برتر ہے۔
پس یہی کلمہ دین کی بنیاد اور ملت (اسلام) کی اصل ہے۔
وَالْوَاجِبُ عَلَى جَمِيعِ الْمُكَلَّفِينَ مِنْ جِن وَإِنِّسٍ أَنْ يَأْتُوا بِهَا رِجَالًا وَنِسَاءً مَعَ إِيمَانٍ بِمَعْنَاهَا وَاعْتِقَادٍ لَهُ وَإِخْلَاصِ الْعِبَادَةِ لِلَّهِ وَحْدَهُ
یہ واجب ہے ہر اُس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے اعمال کا مکلف بنایا ، چاہے وہ جنّات میں سے ہو یا انسانوں میں سے، مرد ہو یا عورت۔ ان سب پر لازم ہے کہ وہ کلمۂ توحید (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله) کو زبان سے ادا کریں،اس کے معنی پر ایمان رکھیں،اس کے مفہوم کی دل سے تصدیق کریں،اور اخلاص کے ساتھ صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت بجا لائیں۔
اس کلمہ کی آٹھ شرائط ہیں
اور بعض علماء نے انہیں دو اشعار کی صورت میں جمع کیا ہے۔
عِلْمٌ يَقِينٌ وَإِخْلَاصٌ وَصِدْقُكَ مَعَ مَحَبَّةٍ وَانْقِيَادٍ وَالْقَبُولِ لَهَا
وَزِيدَ ثَامِنُهَا الْكُفْرَانُ مِنْكَ بِمَا سِوَى الإِلَهِ مِنَ الأَوثَانِ قَدْ أُلِّهَا
علم، یقین، اخلاص، سچائی،محبت، اطاعت اور قبول ، یہ سات ہوئیں،
اور آٹھویں شرط یہ ہے کہ تُو ہر اُس معبود کا انکار کرے جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہے۔
پس جو شخص ان امور کو جان لیتا ہے، تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔
اور جو شخص ان شرائط کی تفصیلات نہیں جانتا تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ لا إله إلا الله کے معنی کو جانتا ہو۔ اگر وہ اس کے معنی کے مطابق عمل کرے یعنی اللہ ہی کی عبادت حق کے ساتھ بجا لائے، اور اپنی عبادت خالصتاً اللہ ہی کے لیے کرے، اور اللہ کے سوا ہر چیز کی عبادت کو چھوڑ دے، اور اللہ کے دین پر ثابت قدم رہے، تو یہ اس کے لیے کافی ہے، اگرچہ اس نے ان شرائط کو ایک ایک کر کے نہ بھی یاد کیا ہو۔کیونکہ ان شرائط کے معانی تو ظاہر اور واضح ہیں۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کی شرائط (اختصار کے ساتھ)
١:علم
یعنی یہ جاننا کہ اس کلمے کا مطلب کیا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جس کی عبادت کی جائے۔
٢: یقین
یعنی اس بات پر دل سے پختہ ایمان رکھنا، بغیر کسی شک یا تردد کے، کہ عبادت کا حق صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔
٣: اخلاص
کہ تمام عبادتیں صرف اللہ کے لیے خالص ہوں، چاہے وہ نماز ہو، روزہ ہو، صدقہ، قربانی یا دعا سب کچھ صرف اسی کے لیے کیا جائے۔
٤: محبت
، یعنی اللہ تعالیٰ سے سچی محبت رکھنا، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا، اور دل میں اللہِ عظیم و برتر کے لیے خالص محبت پیدا کرنا۔
٥: صدق (سچائی)
، کہ بندہ اس کلمے کو دل و جان سے سچائی کے ساتھ کہے، نہ کہ منافقین کی طرح صرف زبان سے ادا کرے مگر دل سے جھٹلا دے۔ بلکہ پورے یقین اور ایمان کے ساتھ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
٦: انقیاد (اطاعت و فرمانبرداری)
، کہ بندہ اس کلمے کے تقاضوں پر عمل کرے، اپنی عبادتیں صرف اللہ کے لیے خالص کرے، غیراللہ کی عبادت کو چھوڑ دے، اللہ کے احکام بجا لائے اور اس کی ممانعتوں سے بچے ، یہ سب کچھ محبت، عاجزی اور رضا کے ساتھ کرے۔
٧: قبول (قبولیت)
کہ بندہ شریعت کے احکام کو دل سے قبول کرے، انہیں رد نہ کرے، اور اس کلمے کے تمام تقاضوں کو تسلیم کرے۔ عبادت، توحید اور اخلاص کے مفہوم سے منہ نہ موڑے۔
٨: کفر بالطاغوت (طاغوت کا انکار)
کہ بندہ اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سب کا انکار کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط کڑا تھام لیا جو کبھی نہیں ٹوٹے گا، اور اللہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔
(البقرہ: 256)
اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ہر جھوٹے معبود سے بیزاری اختیار کرے، ان کے باطل ہونے پر ایمان رکھے، اور یہ یقین کرے کہ اللہ ہی واحد برحق معبود ہے،اور لوگ اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہیں سب باطل ہے ۔ وہ ان کا انکار کرے اور ان سے براءت ظاہر کرے۔
اہلِ علم نے ان شرائط کو ان اشعار میں جمع کیا ہے
عِلْمٌ يَقِينٌ وَإِخْلَاصٌ وَصِدْقُكَ مَعَ مَحَبَّةٍ وَانْقِيَادٍ وَالْقَبُولِ لَهَا
وَزِيدَ ثَامِنُهَا الْكُفْرَانُ مِنْكَ بِمَا سِوَى الإِلَهِ مِنَ الأَوثَانِ قَدْ أُلِّهَا
علم، یقین، اخلاص اور سچائی،محبت، اطاعت اور قبول کے ساتھ
اور آٹھویں شرط: طاغوت سے بیزاری،یہی ہے کلمۂ توحید کی بنیاد۔
پس، اگر طالب علم ان شرائط کو سیکھ لے، تو لازم ہے کہ وہ ان پر عمل کرے۔ اور جو شخص ان کی تفصیل نہیں جانتا، اس کے لیے کافی ہے کہ وہ اس بیان کے معنی سمجھے: کہ وہ اسے اللہ کے لئے ایمان ، اخلاص ، یقین اور سچائی کے ساتھ ادا کرے، اور اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت سے خود کو آزاد کرے۔ نیز، وہ اللہ کے احکام کی اطاعت کرے۔ ایسا شخص مطلوبہ مقصد حاصل کر لیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ، بلند و برتر، اور اس کے دین سے محبت کرنے والا بنتا ہے۔
ماخذ: شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی ویب سائٹ
https://binbaz.org.sa/fatwas/15667/معنى-لا-إله-إلا-الله-وشروطها
توحید کی اقسام
قرآنِ کریم کی وہ تمام آیات جن میں آسمانوں، زمین، ان کے درمیان یا ان کے اندر کی مخلوقات کا ذکر ہے، وہ توحیدِ ربوبیت کے ضمن میں آتی ہیں ، یعنی یہ کہ اللہ ہی اکیلا رب، مالک اور خالق ہے، اور تمام کاموں کا اختیار اسی کے پاس ہے۔
وہ تمام آیات جن میں اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے اور شرک سے منع کیا گیا ہے، وہ توحیدِ الالوھیہ (یا توحیدِ عبادت) سے متعلق ہیں ، یعنی عبادت صرف اور صرف اللہ کے لیے کی جائے، وہی اکیلا معبود حقیقی ہے جو عبادت کے لائق ہے۔
اسی طرح وہ تمام آیات جن میں اللہ کے اسماء و صفات (ناموں اور صفات) کا ذکر ہے، وہ توحیدِ اسماء و صفات کے زُمرے میں آتی ہیں ، یعنی اللہ کو اس کے خوبصورت ناموں اور بلند صفات میں یکتا ماننا، بغیر کسی تحریف، انکار یا مخلوق سے تشبیہ کے)۔)
پس، قرآنِ کریم میں یہ تینوں اقسامِ توحید واضح طور پر پائی جاتی ہیں اور اسی لیے اہلِ علم نے بیان کیا ہے کہ توحید کی تین اقسام ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ ان کو یوں مختصراً سمجھا جا سکتا ہے
توحید الوہیت (یا توحید العبادت)
اللہ ہی کو واحد معبودِ برحق ماننا تمام عبادات صرف اسی کے لیے کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو بطورِ نمونہ اختیار کرنا۔
توحید ربوبیت
اللہ کو اس کی ربوبیت میں واحد ماننا، یعنی وہ ہی خالق، مالک اور رب ہے، اور اس کے تمام افعال میں اسے واحد ماننا۔
توحید الاسماء والصفات
اللہ کے لیے وہی نام اور صفات ثابت کرنا جو قرآن یا صحیح سنت میں بیان ہوئے
بغیر انکار، تحریف، تکییف (کیفیت بیان کرنے)، یا تشبیہ (مخلوق سے مشابہت دینے) کے۔
علماء نے یہ تقسیم خود سے ایجاد نہیں کی بلکہ قرآن و سنت ہی سے اخذ کی ہے۔اس لیے یہ کوئی بدعت (نئی چیز) نہیں، بلکہ سلفِ صالحین کا فہم ہے۔
کلمۂ توحید “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه” کا صحیح مفہوم
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کا معنی یہ ہے
“اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ۔”
لیکن بعض گمراہ فرقوں نے اس کا مفہوم بگاڑ دیا۔ علمِ کلام کے فرقے، جیسے معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ، صوفیہ وغیرہ توحید کو صرف ربوبیت کی وحدانیت تک محدود کر دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی غلطی ہے۔
یہ لوگ “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه” کا معنی یوں کرتے ہیں
لَا خَالِقَ إِلَّا اللّٰه
اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں
حاکمیت
اسی طرح، خوارج اور اخوان المسلمون جیسے سیاسی گروہ کہتے ہیں
لَا حَاكِمَ إِلَّا اللّٰه
اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں
یہ مفہوم بھی ناقص اور غلط ہے، کیونکہ “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه” کا مطلب ہے کہ صرف
“اللہ ہی معبودِ برحق ہے”
کیونکہ حاکمیت کا تعلق اللہ کی ربوبیت اور اس کی عبادت، دونوں سے ہے۔
جہاں تک ربوبیت کا معاملہ ہے تو اللہ ہی وہ ذات ہے جس کی طرف بندے فیصلے کے لیے رجوع کرتے ہیں، وہی اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے، وہی حلال و حرام کو مقرر کرنے والا اور قانون بنانے والا (الشارع) ہے،جس کی شریعت ہی واجب الاتباع ہے اور جس کی اطاعت لازم ہے۔اور بندہ اللہ کی عبادت اسی وقت کرتا ہے جب وہ اللہ کے حکم، اس کے قانون، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق عمل کرتا ہے۔
شیخ صالح الفوزان (حفظہ اللہ) نے فرمایا
لَا مَعْبُودَ بِحَقٍّ إِلَّا اللَّهُ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کا مطلب یہ ہے اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں۔
جہاں تک حاکمیت کا تعلق ہے، تو یہ عبادت کا ایک حصہ ہے اور یہ “لا إله إلا الله” کا مفہوم یا اس کی مکمل تعریف نہیں۔ حاکمیت عبادت میں شامل ہے، کیونکہ اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا اللہ کی عبادت ہے، مگر یہ کلمۂ توحید کا پورا مفہوم نہیں بلکہ اس کا ایک جز ہے۔ اور “لا إله إلا الله” اپنے اندر عبادت کی تمام اقسام کو شامل کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِی إِلَیۡهِ أَنَّهُۥ لَاۤ إِلَـٰهَ إِلَّاۤ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُون
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو
(الأنبیاء: 25)
پس، “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه” کا سچا مفہوم یہی ہے:
لَا مَعْبُودَ بِحَقٍّ إِلَّا اللَّهُ
اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ۔
ماخذ: شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ اور شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کے بیانات سے ماخوذ
کتاب کا متن
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
یہ روایت صحیح مسلم (حدیث نمبر 41) میں جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو امام احمد (2/379)، امام ترمذی (حدیث نمبر 2627) نے نقل کیا ہے، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح امام نسائی (حدیث نمبر 4998) نے بھی روایت کی ہے،اور ابن حبان و حاکم رحمہما اللہ نےاسے صحیح کہا ہے،جس کے الفاظ یہ ہیں:
“مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے معاملے میں امن محسوس کریں۔”
بحز بن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
أن تسلم قلبك لله، وأن تولي وجهك إلى الله، وأن تصلي الصلاة المكتوبة، وتؤدي الزكاة المفروضة ، رواه أحمد
اسلام یہ ہے کہ تم اپنا دل اللہ کے سپرد کر دو، اپنا چہرہ اللہ کی طرف پھیر لو، نماز قائم کرو، اور فرض زکوٰۃ ادا کرو۔
یعنی اسلام کا مطلب صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ دل کا اللہ کے لیے جھک جانا، عبادت میں اخلاص، اور عملاً فرائض کی ادائیگی ہے۔
نیز، یہ روایت حسن درجے کی ہے،جسے امام احمد نے المسند (5/3، حدیث نمبر 20022)،امام طبرانی نے المعجم الکبیر (19/426، حدیث نمبر 1036)،اور ابن حبان نے (حدیث نمبر 160) میں روایت کیا ہے۔یہ روایت بہز بن حکیم کے طریق سے مختلف اسناد کے ساتھ منقول ہے،اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب السلسلة الصحيحة (حدیث نمبر 369) میں صحیح قرار دیا ہے۔
ابو قِلابہ رحمہ اللہ نے شام کے ایک شخص سے روایت کی، جو اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا
مَا الإِسْلَامُ؟
قَالَ: أَنْ تُسْلِمَ قَلْبَكَ لِلَّهِ، وَيَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ.
قَالَ: أَيُّ الإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟
قَالَ: الإِيمَانُ.
قَالَ: وَمَا الإِيمَانُ؟
قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ.
اسلام کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اسلام یہ ہے کہ تم اپنا دل اللہ کے سپرد کر دو، اور مسلمان تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ سے محفوظ رہیں۔
پھر انہوں نے پوچھا: سب سے بہتر اسلام کون سا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان۔
انہوں نے کہا: ایمان کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لاؤ۔
یہ روایت عبدالرزاق نے اپنی کتاب المصنف (جلد 11، صفحہ 127، حدیث نمبر 20107) میں بیان کی ہے،اور امام احمد نے المسند (جلد 4، صفحہ 114) میں ابو قلابہ کے واسطے سے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔اگرچہ اس کی سند میں ایک مجہول راوی پایا جاتا ہے،لیکن اس حدیث کا مفہوم صحیح ہے،کیونکہ بخاری اور مسلم دونوں نے اس کے ہم معنی روایتیں بیان کی ہیں۔اسی طرح شیخ شعیب الارناؤوط نے امام احمد کے المسند کی تحقیق میں(جلد 28، صفحہ 252) پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔
شرح: امام ابن باز (رحمہ اللہ)
یہ روایات واضح کرتی ہیں کہ اسلام جامع اور ہر پہلو پر محیط ہے۔ اس میں ارکانِ اسلام اور دیگر واجبات شامل ہیں۔ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو ارکانِ اسلام اور جو کچھ اللہ نے اس پر واجب کیا ہے اسے پورا کرے اور لوگوں پر ظلم یا اللہ کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔
اسلام اور ایمان کے متعلق مزید وضاحت
کیا اسلام بھی ایمان کی طرح بڑھتا اور گھٹتا ہے؟
شیخ صالح عالوش الشیخ نے فرمایا:
اہلِ سنت کے اکثر علماء کے نزدیک اسلام بھی ایمان کی طرح ہے کہ اس میں اضافہ اور کمی ہو سکتی ہے۔
اس مسئلہ کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں
١: لوگوں کی تسلیم میں فرق
لوگ اللہ کے سامنے اطاعت و فرمانبرداری میں مختلف درجوں کے ہیں۔
الف) ایک درجہ وہ ہے جو توحید کے ساتھ اللہ کے لیے کامل استسلام (یعنی خالص جھکاؤ اور اطاعت) اختیار کرے، جو فرض اور لازم ہے۔ پس جو شخص اسے چھوڑ دے وہ کافر ہے، اور جو اسے قبول کرنے سے انکار کرے وہ اسلام میں داخل نہیں ہوتا۔
ب) دوسرا درجہ وہ ہے جو اسلام کے ان احکام میں اطاعت کرتا ہے جنہیں ترک کرنا کفر تو نہیں لیکن گناہ یا کوتاہی ہے، کیونکہ ایسا شخص اللہ کے سامنے اطاعت و فرماں برداری (الانقیاد للّٰہ بالطاعۃ) میں ناقص ہے
٢: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا بندہ اور رسول تسلیم کرنا
اس میں درج ذیل امور شامل ہیں
ا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت
ب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کردہ امور سے بچنا
ت : اللہ کی عبادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کرنا
لوگ ان تین امور میں بھی درجات کے لحاظ سے مختلف ہیں، حتیٰ کہ ایمان میں بھی درجات مختلف ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں میں اسلام مکمل، کچھ میں جزوی اور کچھ میں نہ ہونے کے برابر ہو سکتا ہے۔
٣: اسلام کے اركان
اسلام ان پانچ ارکان پر قائم ہے جن میں نماز، زکاۃ، روزہ اور حج جیسے اعمال شامل ہیں۔”
مزید کچھ روایات میں اسلام کی وضاحت ان امور سے بھی کی گئی ہے جیسے کہ مسلمان دوسرے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ کے شر سے محفوظ رہیں۔
ان امور میں بھی لوگوں کے درجات مختلف ہیں۔
امام الآجُرّی رحمہ اللہ نے حسن بصری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ انہوں نے محمد بن علی رحمہ اللہ سے فرمایا‘اسلام گواہی ہے، اور ایمان عمل ہے۔ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے یہ اطاعت سے بڑھتا ہے اور معصیت سے کم ہوتا ہے۔ رہا اسلام، تو اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ بڑھتا یا گھٹتا ہے۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا
یہ بات اس بنیاد پر ہے کہ اسلام دراصل شہادت (گواہی) ہے
جیسا کہ امام الزہری رحمہ اللہ (وفات 124ھ) سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا
“اسلام تو شہادت ہے، اور ایمان اعمال ہیں۔”
یعنی جب کوئی شخص دو شہادتیں ادا کرتا ہے (لا إله إلا الله، محمد رسول الله) تو وہ مسلمان قرار پاتا ہے۔اس اعتبار سے اسلام میں نہ زیادتی ہوتی ہے اور نہ کمی۔البتہ اگر اسلام سے مراد یہ لیاجائے کہ بندہ تمام ظاہری فرائض و عبادات کو ادا کرے،تو پھر اس میں اضافہ اور کمی واقع ہوتی ہے،بالکل اسی طرح جیسے ایمان اطاعت کے ساتھ بڑھتا اور گناہوں کے ساتھ گھٹتا ہے۔
کتاب الشرِيعہ از امام الآجُرّی کی شرح (جلد ۲، صفحہ ۵۹۳)
اسلام اور ایمان کا الگ اور ساتھ ذکر
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) نے فرمایا
جب اسلام یا ایمان میں سے کوئی ایک لفظ (نصوص میں) تنہا ذکر ہو تو دونوں کا مفہوم ایک ہی ہوتا ہے۔لیکن جب دونوں ایک ساتھ ذکر کیے جائیں تو ان کے معنی الگ اور خاص ہو جاتے ہیں۔ پس جب اسلام کا ذکر ہو، بغیر ایمان کے، تو اس سے مراد پورا دین ہوتا ہے ، ظاہری اور باطنی تمام اعمال۔
اور جب ایمان کا ذکر ہو، بغیر اسلام کے، تو وہ بھی پورے دین پر دلالت کرتا ہے۔
البتہ جب اسلام اور ایمان دونوں ایک ساتھ ذکر کیے جائیں، تو اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہوتے ہیں جن کے ساتھ دل کی اطاعت اور جھکاؤ بھی شامل ہے، اور ایمان سے مراد باطنی اعمال یعنی دل کا عقیدہ اور اس کے اعمال (یقین، محبت، خوف، توکل وغیرہ) ہوتے ہیں۔
دیکھیں: کتاب الإيمان از ابنِ تیمیہ (صفحہ ۲۸۷)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا
الإيمان هو الإسلام، والإسلام هو الإيمان عند الإطلاق؛ لأن الإيمان تصديق القلوب وكل ما يتعلق بالإسلام من قول أو عمل، والإسلام كذلك هو الانقياد لله والخضوع له بتوحيده والإخلاص له وطاعة أوامره وترك نواهيه؛ فإذا أطلق أحدهما شمل الآخر، كما قال : إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسْلامُ[آل عمران:19]، يعني: والإيمان داخل في ذلك
ایمان، اسلام ہے اور اسلام، ایمان ہے، عام طور پر۔ کیونکہ ایمان دل کا یقین ہے اور جو کچھ بھی اسلام سے تعلق رکھتا ہے، خواہ زبان سے اظہار ہو یا اعمال کے ذریعے۔ اسی طرح اسلام یہ ہے کہ انسان اللہ پر ایمان رکھے، اس کے سامنے عاجزی و انقیاد اختیار کرے، اس کی عبادت میں توحید اور اخلاص کے ساتھ عمل کرے، اس کے احکام کی پیروی کرے اور اس کی ممانعتوں سے بچے۔ لہٰذا جب ان میں سے کوئی ذکر کیا جائے تو یہ عام طور پر دونوں کو شامل ہے،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنَّ ٱلدِّینَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَام
“بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”
(سورۃ آل عمران: 19)
یعنی ایمان اس میں شامل ہوتا ہے۔
أما إذا جمعا فإن الإسلام هو الأعمال الظاهرة، والإيمان هو الأعمال الباطنة، إذا جمع بينهما كما في حديث جبريل أنه سأل النبي ﷺ عن الإسلام والإيمان، فسر له النبي ﷺ الإسلام بالأمور الظاهرة كالشهادتين والصلاة والزكاة والصيام والحج، وفسر له الإيمان بالأمور الباطنة قال: أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله، وباليوم الآخر وبالقدر خيره وشره
لیکن جب اسلام اور ایمان دونوں کو اکٹھا ذکر کیا جائے، تو اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہوتے ہیں، اور ایمان سے مراد باطنی اعمال۔۔ جیسا کہ حدیثِ جبریل میں آیا، جب جبریل صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام اور ایمان کے بارے میں سوال کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کی وضاحت فرمائی کہ اسلام وہ ظاہری اعمال ہیں جیسے شہادتین، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ ایمان وہ باطنی امور ہیں، یعنی اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور تقدیر، اس کے خیر و شر پر ایمان لانا۔
هذا هو الفرق بينهما عند الاجتماع يكون الإسلام المراد به الأعمال الظاهرة، والإيمان الأعمال الباطنة، وإن أطلق بأحدهما يدخل فيه الآخر، وهكذا قوله ﷺ: الإيمان بضع وسبعون شعبة، فأفضلها قول: لا إله إلا الله، وأدناها إماطة الأذى عن الطريق، والحياء شعبة من الإيمان، …..: الإيمان بضع وسبعون شعبة، هذا يدخل فيه الإسلام، ولهذا ذكر: أفضل الإيمان لا إله إلا الله، وهي أصل الإسلام، فدل ذلك على أن الإيمان إذا أطلق دخل فيه الإسلام، وهكذا إذا أطلق الإسلام دخل فيه الإيمان عند أهل السنة . نعم
یہ ان دونوں کے درمیان فرق ہے جب انہیں اکٹھا بیان کیا جائے۔ اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہیں، اور ایمان سے مراد باطنی اعمال ہیں۔ لیکن جب صرف ایک کا ذکر کیا جائے تو اس میں دوسرا بھی شامل ہوتا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، ایمان ستر اور کچھ شاخوں پر مشتمل ہے۔ اس کی بلند ترین شاخ قول ‘لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه’ ہے، سب سے چھوٹی شاخ راستے سے نقصان دور کرنا ہے، اور حیاء یا شرم ایمان کی ایک شاخ ہے۔ ‘ایمان ستر اور کچھ شاخوں پر مشتمل ہے’ میں اسلام بھی شامل ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا گیا، “ایمان کی بہترین شاخ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه ہے” اور یہ قول اسلام کی بنیاد ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جب ایمان کا ذکر اکیلا کیا جائے تو اس میں اسلام شامل ہے۔ اور اسی طرح، جب اسلام کا ذکر اکیلا کیا جائے تو اس میں ایمان شامل ہے،یہ اہلِ سنت کا موقف ہے۔
Source: Here.