بسم الله الرحمٰن الرحيم
رات دیر تک جاگنے اور نمازِ فجر چھوٹ جانے کے نقصانات
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔
اس دور میں بہت سے لوگوں میں جو قابلِ مذمت عادتیں عام ہو گئی ہیں، ان میں سے ایک رات گئے تک جاگتے رہنا بھی ہے۔
مضمون کا ماخذ: الدُّرَرُ المُنتَقاة مِنَ الكَلِماتِ المُلقاة (2/263) — ابو خدیجہ عبد الواحد کی تدوین و تخریج کے ساتھ۔
امام بخاری و مسلم نے اپنی صحیحین میں ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔
(صحیح البخاری:568, صحیح المسلم:647)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا۔
عشاء سے پہلے سو جانا اس بات کا سبب بن سکتا ہے کہ آدمی عشاء کی نماز مقررہ وقت کے بعد، یا اس کے افضل وقت کے بعد ادا کرے۔ اسی طرح عشاء کے بعد بات چیت کرتے ہوئے دیر تک جاگتے رہنا اس بات کا سبب بن سکتا ہے کہ آدمی فجر کی نماز کے لیے سویا رہ جائے، یا اسے اس کے افضل وقت کے بعد ادا کرے، یا تہجد کی نماز سے محروم ہو جائے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس معاملے پر لوگوں کو تنبیہ کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے:۔
رات کے ابتدائی حصے میں بات چیت کر لیا کرو اور اس کے آخری حصے میں سو جایا کرو۔
(فتح الباری 2/73)
رات دیر تک جاگنے کے بعض نقصانات
:پہلا
اس کے نتیجے میں نمازِ فجر سے غفلت ہوتی ہے۔ چنانچہ مسلمان اپنے آپ کو عظیم اجر سے محروم کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلشَّهَوَ ٰتِۖ فَسَوۡفَ یَلۡقَوۡنَ غَیًّا (سورۃ مریم : 59)
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
(سورۃ بنی اسرائیل:78) وَقُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِۖ إِنَّ قُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُودࣰا
اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، يُدْرِكْهُ، ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ
جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی و ہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری (امان )میں ہے ۔ تو ایسانہ ہو کہ (ایسے شخص کو کسی طرح نقصان پہنچانے کی بناپر ) اللہ تعالیٰ تم (میں سے کسی شخص ) سے اپنے ذمے کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ کرے ، پھر وہ اسے پکڑ لے ، پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے ۔
(صحیح المسلم:657)
امام مسلم نے اپنی صحیح میں عمارہ بن رؤیبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ـ
لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا
جو سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔( یعنی جو فجر اور عصر پڑھتا ہے)
(صحیح المسلم:634)
:دوسرا
رات دیر تک جاگتے رہنے کی وجہ سے انسان رات کی نماز (قیام اللیل) سے محروم ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:۔
كَانُوا۟ قَلِیلࣰا مِّنَ ٱلَّیۡلِ مَا یَهۡجَعُونَ . وَبِٱلۡأَسۡحَارِ هُمۡ یَسۡتَغۡفِرُونَ
وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے۔
(سورۃ الذاریات:17٫18)
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ ٱلۡمَضَاجِعِ یَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفࣰا وَطَمَعࣰا وَمِمَّا رَزَقۡنَـٰهُمۡ یُنفِقُونَ
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں۔
(سورۃ السجدہ:16)
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبریل امین علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی
يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ مَنْ أَحْبَبْتَ فَإِنَّكَ مَفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ» ثُمَّ قَالَ: «يَا مُحَمَّدُ شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِيَامُ اللَّيْلِ وَعِزُّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ
اے محمد ! تم جتنا جی سکتے ہو جی لو ، ایک دن آپ کو وفات آنی ہے ، اور جس سے محبت کرنی ہے کر لو ، ایک دن جدا ہونا ہے ، اور جو عمل کرنا ہے کر لو ، ایک دن اس کا بدلہ ملنا ہے ، پھر عرض کی : اے محمد ! مومن کا شرف رات کی عبادت میں ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز رہنے میں ہے ۔
المستدرک للحاکم (5/463، حدیث نمبر: 7991)۔ منذری نے الترغیب والترہیب (1/639، حدیث نمبر: 1213) میں کہا ہے:اسے طبرانی نے المعجم الأوسط میں ایک اچھی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔اور علامہ البانی نے بھی السلسلۃ الصحیحۃ (2/507، حدیث نمبر: 831) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
:تیسرا
رات گئے تک جاگتے رہنے سے انسان اپنا قیمتی وقت ایسے کاموں میں ضائع کر دیتا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ قیامت کے دن بندے سے اس وقت کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا۔
امام ترمذی نے اپنی سنن میں ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَ فَعَلَ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ
قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا۔
(سنن الترمذی:2417,امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے)
یہ بات اس شخص کے بارے میں ہے جو جائز کاموں میں مصروف رہتے ہوئے رات دیر تک جاگتا ہے۔ پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جو رات دیر تک جاگ کر حرام کاموں میں لگا رہتا ہے، مثلاً ٹی وی کے ڈرامے اور فلمیں دیکھنا، مسلمانوں کی عزت و آبرو کے خلاف غیبت اور بہتان کرنا، انٹرنیٹ پر ننگے مناظر دیکھنا اور دوسرے گناہوں میں پڑنا؟
ایسے شخص نے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رب، عزوجل، کو ناراض کرنے والے کام بھی جمع کر لیے۔ واللہ المستعان
امام عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا۔
’’کسی مسلمان کے لیے رات دیر تک جاگتے رہنا جائز نہیں، اگر اس کے نتیجے میں نمازِ فجر باجماعت ادا کرنے میں کوتاہی ہو یا وہ اسے اس کے مقررہ وقت کے بعد ادا کرے، خواہ وہ قرآن مجید کی تلاوت یا حصولِ علم ہی میں مشغول کیوں نہ ہو۔ تو پھر اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو رات بھر ٹیلی ویژن دیکھنے، تاش کھیلنے یا اس طرح کی دیگر مشغولیات میں گزار دیتا ہے؟ اس کا گناہ تو اور بھی زیادہ ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی سزا کا مستحق ہے۔
مزید برآں، ایسا شخص مسلم حکام کی جانب سے تادیبی سزا کا بھی مستحق ہے، ایسی سزا جو اسے اور اس جیسے دوسرے لوگوں کو اس عمل سے باز رکھنے کے لیے مؤثر ہو۔
(فتاویٰ ابن باز, 1/92 )
:چوتھا
مزید یہ کہ رات دیر تک جاگنے کے نتیجے میں جسم اور صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو انسانوں کے لیے آرام کا وقت بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
أَلَمۡ یَرَوۡا۟ أَنَّا جَعَلۡنَا ٱلَّیۡلَ لِیَسۡكُنُوا۟ فِیهِ
کیا وه دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم نے رات کو اس لیے بنایا ہے کہ وه اس میں آرام حاصل کرلیں۔
(سورۃ النمل:86)
رات کے ابتدائی حصے میں سونا ایک ایسی چیز ہے جس کا حقیقی طور پر کوئی نعم البدل نہیں۔ تاہم اہلِ علم نے ان صورتوں میں رات دیر تک جاگنے کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جب یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور کسی شرعی مصلحت کے لیے ہو، مثلاً:
تہجد (قیام اللیل) ادا کرنا۔•
لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا۔•
نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔•
شرعی علم حاصل کرنا۔•
مہمان کے ساتھ حسنِ سلوک اور خیرخواہی کے طور پر کچھ دیر جاگ کر اس کے ساتھ وقت گزارنا۔•
اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارنا۔•
یہ تمام صورتیں رات دیر تک جاگنے کی عمومی کراہت سے مستثنیٰ جائز صورتوں میں شامل ہیں۔
امام احمد نے اپنی مسند میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ يَعْنِي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ: مُصَلٍّ، أَوْ مُسَافِرٍ
نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔
لہٰذا مؤمن کے لیے مناسب ہے کہ وہ جلد سونے کی کوشش کرے، تاکہ سنت کی پیروی کا شوق پورا ہو اور رات دیر تک جاگنے کے نقصانات اور اس کے برے نتائج سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔
اسی طرح اسے سونے کے اسلامی آداب کا بھی اہتمام کرنا چاہیے، مثلاً باوضو ہو کر سونا، سونے سے پہلے مسنون اذکار کی پابندی کرنا، اور ان دیگر آدابِ نوم کی بھی رعایت کرنا جن کا اہلِ علم نے ذکر کیا ہے۔
اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے، نیز آپ کے اہلِ بیت، تمام صحابۂ کرام اور ان لوگوں پر بھی جو سچے طور پر ان کی پیروی کرتے ہیں۔