سلف صالحین کے منہج پر چالیس احادیث — ابو خدیجہ،عبد الواحد عالم ـ حدیث نمبر 9۔

٩_فتنوں سے نکلنے اور نجات پانے کا راستہ یہی ہے کہ انسان دین کے پہلے اور ابتدائی طریقے کی طرف رجوع کرے۔

:ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ : إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ. قَالُوا: فَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ  فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ فَأَمْسَكَ بِهِ فَقَالَ: تَفْعَلُونَ هَكَذَا

وَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا : إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ فَلَمْ يَسْمَعَهُ كَثِيرُ مِنَ النَّاسِ. فَقَالَ مُعَاذ بن جَبَل أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ. قالوا: مَا قَالَ. قال: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ. فَقَالُوا: فَكَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ نَصْنَعُ. قَالَ: تُرْجَعُونَ إِلى أَمَرِكُمْ الْأَوَّل

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جبکہ ہم فرش (یا چٹائی) پر بیٹھے ہوئے تھے: ”بیشک عنقریب فتنہ ہو گا۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف لمبا کیا اور اس کو پکڑ لیا اور فرمایا: ”اس طرح کرنا۔“ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عنقریب فتنہ ہو گا۔“ لیکن اکثر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہ سن سکے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! تم سن نہیں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عنقریب فتنہ ہو گا۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے کیا حکم ہے یا ہم اس وقت کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پہلے معاملے کی طرف لوٹ آنا۔“

امام طبرانی رحمہ اللہ نے اسے المعجم الکبیر (3307) اور المعجم الاوسط (8679) میں روایت کیا ہے، اور امام ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد (12337) میں ذکر کیا ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ (3165) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

:تشریح

جب اختلافات، جھگڑے اور فتنے ظاہر ہو جائیں، اور مسلمان خواہشاتِ نفس، گمراہیوں اور شبہات کا سامنا کرے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ دین کو اسی سمجھ کے ساتھ اختیار کرے جس پر دین اپنے ابتدائی دور میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اسی کو “الامر الأول” (پہلا طریقہ) قرار دیا ہے۔

ابتدائی زمانے میں، خصوصاً صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں، مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے متحد تھے۔ اسی طرح تابعین اور تبع تابعین بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلے۔ کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے ہی نے انہیں فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ رکھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

 وَٱعۡتَصِمُوا۟ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِیعࣰا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ۚ وَٱذۡكُرُوا۟ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَیۡكُمۡ إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَاۤءࣰ فَأَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوبِكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم بِنِعۡمَتِهِۦۤ إِخۡوَ ٰ⁠نࣰا وَكُنتُمۡ عَلَىٰ شَفَا حُفۡرَةࣲ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنۡهَاۗ كَذَ ٰ⁠لِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَایَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ

اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

(سورۃ آل عمران: 103)

مزید برآں، جب مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے تو ان پر واجب ہے کہ اپنے اختلافات کے حل کے لیے کتاب و سنت کی طرف رجوع کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

اتَّبِعوا ولا تبتدِعوا ، فقد كُفِيتُم ، وكلُّ بدعةٍ ضلالةٌ

 اتباع کرو اور بدعت ایجاد نہ کرو، کیونکہ تمہارے لیے (دین) کافی کر دیا گیا ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

امام دارمی رحمہ اللہ نے اسے حدیث نمبر 205 میں، ابن وضاح نے اپنی کتاب میں حدیث نمبر 17 میں، اور ابن نصر المروزی نے السنة میں حدیث نمبر 28 میں روایت کیا ہے۔

:ابو العالیہ رحمہ اللہ (متوفیٰ 90ھ) نے فرمایا

عليكم بالأمر الأول الذي كانوا عليه قبل أن يتفرقوا

تم پر لازم ہے کہ اسی پہلے طریقے کو اختیار کرو جس پر وہ لوگ تھے، اس سے پہلے کہ وہ مختلف گروہوں میں بٹ جائیں۔

(تلبيس إبليس امام ابن الجوزی رحمہ اللہ، صفحہ 11۔)

لہٰذا فتنوں سے نجات اسی میں ہے کہ ہم اپنے تمام معاملات میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کریں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

 تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، چنانچہ ان حالات میں میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت اپنائے رکھنا، خلفاء جو اصحاب رشد و ہدایت ہیں، سنت کو خوب مضبوطی سے تھامنا، بلکہ ڈاڑھوں سے پکڑے رہنا، نئی نئی بدعات و اختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا، بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4607‏‏‏‏،سنن الترمذی/العلم 16 (2676)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 6 (43، 44)، (تحفة الأشراف: 9890)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/126)، سنن الدارمی/المقدمة 16 (96) (صحیح)» ‏‏‏‏

:اللہ تعالیٰ نے فرمایا

 یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِیعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِی ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَـٰزَعۡتُمۡ فِی شَیۡءࣲ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِۚ ذَ ٰ⁠لِكَ خَیۡرࣱ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِیلً

اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔

(سورۃ النساء:59)

یہی سلف کا منہج ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور اسی میں امت کے اختلاف اور تفرقے سے حفاظت اور سلامتی ہے۔