سلف صالحین کے منہج پر چالیس احادیث — ابو خدیجہ،عبد الواحد عالم ـ حدیث نمبر 8 ۔

سنت پر قائم رہنے والے غرباء کے لیے بشارت ہے۔

:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغرباء. قيل: من هم يا رسول الله؟ قال: الذين يصلحون إذا فسد الناس

 جب اسلام کی ابتدا ہوئی تو وہ اجنبی تھا (نامانوس) تھا اور عنقریب دوبارہ اجنبی بن جائے گا، سو (اس دین کو اپنانے والے) غربا کے لیے خوشخبری ہے۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہیں جو لوگوں کے بگاڑ کے وقت ان کی اصلاح کرتے ہیں۔

أُنَاسٌ صَالِحُونَ، فِي أُنَاسِ سُوءٍ كَثِيرٍ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ

برے لوگ کے جم غفیر میں تھوڑے سے نیک لوگ جن کی بات ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ نہ ماننے والوں کی تعداد ہو۔

(  مسند احمد 6650، المعجم الاوسط 8986، امام البانی نے السلسلہ الصحیحہ 1619 میں اسے صحیح کہا۔ )

:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا

 وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟  

 غرباء کون ہیں؟

:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

   النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ

وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دئیے گئے ہوں

(ابن ماجہ :3988،البانی نے اسے ضعیف کہا۔)

:تشریح

یہ اصلاح کا کام انہی غرباء (اجنبیوں) کا ہے جو لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔

:امام عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا

اسلام مکہ میں ایک اجنبی اور کمزور چیز کے طور پر شروع ہوا تھا۔ بہت کم لوگوں نے اسے قبول کیا تھا، جبکہ اکثر لوگ اس کے دشمن تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی، آپ کو جھٹلایا اور آپ کو ایذائیں پہنچائیں۔ اسی طرح انہوں نے آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی تکلیفیں دیں جو اسلام قبول کر چکے تھے۔

پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ ہجرت کر گئے۔ وہاں بھی وہ اجنبی ہی رہے، یہاں تک کہ مدینہ اور دیگر علاقوں میں ان کی تعداد بڑھ گئی۔

اس کے بعد، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ فتح فرما دیا اور آپ کو غلبہ و نصرت عطا فرمائی، تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔

پس اسلام ابتدا میں لوگوں کے درمیان ایک اجنبی چیز تھا۔ اکثر لوگ اللہ کے ساتھ کفر کرتے تھے، شرک میں مبتلا تھے اور بتوں، انبیاء، نیک لوگوں، درختوں، پتھروں اور دیگر چیزوں کی عبادت کرتے تھے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعے جسے چاہا ہدایت عطا فرمائی۔ چنانچہ لوگ اسلام میں داخل ہوئے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ انہوں نے بتوں، انبیاء اور صالحین کی عبادت کو چھوڑ دیا۔

انہوں نے اپنی عبادت کو خالصتاً اللہ کے لیے کر لیا اور صرف اسی کی عبادت کی۔ وہ اللہ کے سوا کسی سے دعا نہیں کرتے تھے، اسی کے لیے نماز پڑھتے تھے اور اسی کے سامنے سجدہ کرتے تھے۔ وہ اپنی فریادیں صرف اللہ کے سامنے پیش کرتے تھے، اسی سے نجات طلب کرتے تھے اور شفا بھی صرف اللہ ہی سے مانگتے تھے۔

وہ قبروں والوں سے مدد اور فریاد رسی نہیں مانگتے تھے، نہ بتوں سے، نہ درختوں سے، نہ پتھروں سے، نہ ستاروں سے، نہ جنات سے اور نہ فرشتوں سے۔ بلکہ وہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔یہی لوگ غرباء ہیں۔

اور آخری زمانے میں بھی یہی معاملہ ہوگا۔ غرباء وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین پر اس وقت ثابت قدم رہتے ہیں جب لوگ اپنے دین میں کوتاہی کرنے لگتے ہیں، کفر میں مبتلا ہو جاتے ہیں، یا ان کے گناہ اور برائیاں بڑھ جاتی ہیں۔

ان تمام حالات کے باوجود غرباء اللہ کی اطاعت اور اس کے دین پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔

انہی کے لیے جنت ہے، انہی کے لیے سعادت و کامیابی ہے، اور انہی کے لیے دنیا و آخرت میں بہترین اور قابلِ تعریف بدلہ ہے۔

(شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی ویب سائٹ پر فتویٰ نمبر 730۔)

پس غرباء ہی اہلِ سنت ہیں، وہی اہلِ حدیث ہیں، اور ہر زمانے میں وہی سلفی ہیں، جو لوگوں کے بگڑے ہوئے عقائد اور فاسد نظریات کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے حق کو باطل سے واضح کرتے ہیں اور بدعات و گمراہی کو بے نقاب کرتے ہیں۔

امام ابو بکر الآجری رحمہ اللہ (متوفیٰ 360 ھ) نے فرمایا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: “اسلام اس طرح واپس آئے گا جیسے آغاز میں اجنبی تھا” کا معنی ، اللہ اعلم ، یہ ہے کہ خواہشاتِ نفس اور گمراہ کن خواہشات بہت زیادہ ہو جائیں گی، اور بہت سے لوگ ان کے ذریعے گمراہ ہو جائیں گے۔ جبکہ اہلِ حق باقی رہیں گے اور ثابت قدم رہیں گے، وہی لوگ جو اسلام کی شریعت پر قائم ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان اجنبی سمجھے جائیں گے۔

کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا: میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، سب آگ میں جائیں گے سوائے ایک کے۔

عرض کیا گیا: وہ نجات پانے والا کون سا گروہ ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی لوگ جو اس راستے پر ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ آج ہیں۔

(امام ابو بکر الآجری رحمہ اللہ کی کتاب صفة الغرباء من المؤمنين، صفحہ 27۔)

غرباء وہ لوگ ہیں جو اسلام، توحید اور صحیح عقیدے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال کو اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر تربیت دیتے ہیں۔

لیکن ان کی بات سننے اور حق کی پیروی کرنے والے کم ہوتے ہیں، جبکہ ان کی مخالفت کرنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔ یہی حال بہت سے انبیاء علیہم السلام کا بھی تھا، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔

میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ میں نے ایک نبی کو دیکھا جن کے ساتھ چند ہی لوگ تھے، اور ایک نبی کو دیکھا جن کے ساتھ صرف ایک یا دو آدمی تھے، اور ایک نبی کو دیکھا جن کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔ ۔

(صحیح البخاری:5705, صحیح المسلم)

غرباء کی صفات بیان کرتے ہوئے حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ (متوفیٰ 795ھ) نے کتاب کشف الکربۃ فی وصف حال اہل الغربۃ، صفحات 23–29 میں فرمایا

رہی گمراہ کن شبہات اور خواہشات کی آزمائش، تو یہی مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور انتشار کا سبب بنتی ہے۔ چنانچہ وہ مختلف گروہوں میں بٹ جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ، جبکہ پہلے آپس میں بھائی تھے اور ان کے دل ایک شخص کے دل کی مانند تھے، دشمن، فرقے اور جماعتیں بن جاتے ہیں۔

اور ان تمام فرقوں میں سے نجات صرف اسی ایک جماعت کو حاصل ہوگی جو نجات یافتہ جماعت ہے، اور یہی وہ جماعت ہے جس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں آیا ہے:۔

 لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ 

میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر (قائم رہتے ہوئے) غالب رہے گا، جو شخص بھی ان کی حمایت سے دستکش ہو گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی طرح ہوں گے۔

(صحیح مسلم:1920)

اور آخری زمانے میں، قیامت کے قریب، یہی وہ غرباء ہیں جن کا ذکر ان احادیث میں آیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گمراہ ہو جانے کے وقت اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سنت کے خلاف لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو فتنوں کے زمانے میں اپنے دین کو بچانے کے لیے ان سے دور رہتے ہیں۔ یہ مختلف قبائل اور گروہوں میں بکھرے ہوئے چند افراد ہوتے ہیں جنہیں چن لیا گیا ہوتا ہے۔ ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایک پورے قبیلے میں ان میں سے صرف ایک یا دو افراد ہوتے ہیں، اور بعض قبائل میں تو ایک بھی ایسا شخص نہیں ملتا۔

بالکل اسی طرح جیسے اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اور اہلِ علم نے اس حدیث کی یہی تفسیر و تشریح بیان کی ہے۔

:الإمام الأوزاعي رحمہ اللہ (متوفیٰ 157 ہجری ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان

“اسلام ابتدا میں اجنبی تھا اور پھر وہ اسی طرح اجنبی ہو کر لوٹ آئے گا جس طرح شروع ہوا تھا”

کے بارے میں فرمایا: اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام ختم ہو جائے گا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہلِ سنت ختم ہو جائیں گے، یہاں تک کہ زمین میں ان میں سے صرف ایک آدمی ہی باقی رہ جائے گا۔اسی وجہ سے سلف کے کلام میں اہلِ سنت کی بہت زیادہ تعریف و فضیلت بیان کی گئی ہے، اور انہیں “غریب” (اجنبی) کہا گیا ہے، اور یہ کہ وہ تعداد میں بہت کم ہوں گے۔

:الحسن البصری رحمہ اللہ (متوفیٰ 110 ہجری) اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے

يا أهل السنة تَرَّفَقُوا رَحِمَكُمُ الله فَإِنَّكُم من أَقل الناس

اے اہلِ سنت! ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، کیونکہ تم لوگوں میں تعداد کے اعتبار سے بہت کم ہو۔

یونس بن عبید رحمہ اللہ (متوفیٰ 139 ہجری) فرماتے ہیں: سنت کوئی اجنبی چیز نہیں ہے، بلکہ اصل اجنبیت تو اس شخص کی ہے جو سنت کو پہچانتا اور اس پر قائم رہتا ہے۔

:سفیان الثوری رحمہ اللہ ( متوفیٰ 161 ہجری) نے فرمایا

اسْتَوْصُوا بِأَهْلِ السُّنَّةِ خَيْرًا فَإِنَّهُمْ غُرَبَاءُ

اہلِ سنت کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کا معاملہ کرو، کیونکہ وہ (اس دور میں) اجنبی ہیں۔

ان عظیم علماء کی مراد “سنت” کے لفظ سے وہ طریقہ (منہج) ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قائم تھے، جو شبہات اور خواہشات کی پیروی سے پاک تھا۔

پھر بعد کے بہت سے اہلِ حدیث اور دیگر علماء کے ہاں “سنت” کا لفظ خاص طور پر ان عقائد کے لیے استعمال ہونے لگا جو شبہات سے محفوظ ہوں۔ یہ خصوصاً اللہ پر ایمان، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یومِ آخرت پر ایمان کے مسائل میں ہے، اسی طرح تقدیر (القضاء والقدر) اور صحابہ کرام کی فضیلت سے متعلق امور میں بھی۔

اسی وجہ سے انہوں نے اس موضوع پر اپنی کتابیں “السنة” کے عنوان سے تصنیف کیں، کیونکہ اس معاملے کی اہمیت بہت عظیم ہے، اور اس لیے کہ ان امور میں مخالفت کرنے والا ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہے۔