سعودی عرب میں امریکی فوج کی موجودگی __ غیر مسلموں سے مدد لینے کا مسئلہ: شرعی دلائل کی روشنی میں جائزہ

جنگ میں غیر مسلم اقوام سے مدد طلب کرنا

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ درود و سلام ہو اس کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر اور آپ کے سچے پیروکاروں پر۔

دو اگست 1990 سے اٹھائیس فروری 1991 تک عراق کے ساتھ پہلی خلیجی جنگ کے دوران،جماعت  اخوان المسلمین اور اس کی شاخوں میں سے بہت سے شدت پسندوں نے سعودی عرب کو اس بات پر ملامت کیا کہ اس نے صدام حسین کی فوج کے خلاف، جس نے کویت پر حملہ کیا تھا اور سعودی عرب کو دھمکی دی تھی، امریکہ اور مغرب سے مدد طلب کی اور اسے قبول کیا۔

آج تک خوارج (اور سید قطب کے پیروکار) سعودی عرب کے حکمرانوں اور علماء کو مرتد قرار دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے امریکی فوج کو عرب سرزمین پر آنے کی اجازت دی۔

اس وقت کے سعودی عرب کے مفتی، سنی، سلفی عالم شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ اور سعودی عرب کے کبار علماء کی کونسل کی طرف سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا، جس میں امریکی فوج کی مدد طلب کرنے کی اجازت دی گئی( تاکہ سعودی عرب کے دفاع میں ضرورت کے وقت ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے)۔

ایسے واقعات کے لیے ضروری ہے کہ شرعی احکامات اسلام کے كبار علماء جاری کریں، اور یہ احکام واضح دلائل اور مضبوط شواہد (نصوص اور فقہی دلائل) کی بنیاد پر ہوں، کیونکہ ایسے فیصلوں کے نتائج اور اثرات بہت سنگین ہوتے ہیں، جن میں زمینوں پر حملہ، جنگ اور خون کا بہنا شامل ہو سکتا ہے۔

ایسے فیصلوں کے فوائد اور نقصانات صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اسلامی فقہ میں مضبوط ہوں، نبوی احادیث، سیرت، تاریخ اور موجودہ حالات پر گہری گرفت رکھتے ہوں۔

یہ میدان نوجوان طلبہ یا کم تجربہ شیوخ کے لیے نہیں ہے، جن کے پاس کافی عملی تجربہ، حکمت اور گہرا علمی فہم نہیں ہوتا، لہٰذا وہ حقیقتاً اس قابل نہیں کہ وہ معاملات کا صحیح تجزیہ کر کے ایسے پیچیدہ مسائل میں شرعی حکم صادر کر سکیں۔

اور اس سے بھی کم سمجھ والے وہ لوگ ہیں جو ناخواندہ یا جاہل مشتعل کرنے والے اور سرگرم کارکنان ہیں، اور جن کے خیالات اور عمل زیادہ تر سوشل میڈیا یا خبروں میں دیکھنے پڑھنے پر منحصر ہوتے ہیں، نہ کہ دینی نصوص اور شریعت کے علم پر۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إن من أشراط الساعة أن يلتمس العلم عند الأصاغر

علامات قیامت کی تین چیزوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اصاغر سے علم حاصل کیا جائے گا ۔

یہ روایت الطبرانی (حدیث نمبر 908) نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ امام محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں (حدیث نمبر 695) اور صحیح الجامع میں (حدیث نمبر 2207) درج کیا ہے۔

: عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ( متوفیٰ181ھ) سے پوچھا گیا

قال نُعَيمٌ: قيلَ لابنِ الْمُبارَكِ: مَنِ الأصاغِرُ؟ قال: الذين يَقولونَ برَأيِهم، فأمَّا صَغيرٌ يَروي عن كبيرٍ فليس بصَغيرٍ 

اصاغر کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : وہ لوگ جو اپنی اپنی رائے کے مطابق بات کرتے ہیں۔ لیکن جو نوجوان کسی بڑے عالم سے روایت سیکھتا ہے، وہ اصاغر میں شمار نہیں ہوتا۔

اور یہ بھی روایت ہے کہ عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا

الْأَصَاغِرُ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ

اصاغر سے مراد اہل بدعت ہیں۔

(دیکھیں: ابن المبارک کی کتاب الزهد (1/21) اور لالکائی کی کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (1/95))

جہاں تک غیر مسلموں سے فوجی مہمات میں مدد لینے کے مسئلے کا تعلق ہے، تو یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے جس میں پہلے زمانے کے کبار علماء نے قرآن و سنت کی نصوص کی بنیاد پر اختلاف کیا ہے۔

، ابن عاشور (متوفیٰ 1393ھ رحمہ اللہ) اپنی کتاب التحریر والتنویر (1/741) میں بیان کرتے ہیں

مؤمنین نے بعض غیر مسلموں کو اپنا مددگار بنایا تاکہ وہ مسلمانوں کے دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کی مدد کریں، اس وقت جبکہ ان غیر مسلموں کی طرف سے مسلمانوں اور ان کی عزت و حرمت کے بارے میں نرمی اور خیر خواہی ظاہر ہوئی۔ اسی وجہ سے علماء نے اس کے حکم کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔

ابن القاسم رحمہ اللہ نے المدوَّنة میں کہا

جنگ میں مشرکین کی مدد طلب نہیں کی جائے گی، اس وجہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن ایک کافر سے فرمایا تھا

واپس لوٹ جاؤ، کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد طلب نہیں کرتا۔

اور ابو الفرج اور عبدالملک بن حبیب سے روایت ہے کہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ (متوفیٰ 179ھ ) نے فرمایا

ضرورت کے وقت ان (غیر مسلموں) سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں۔

اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے فرمایا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت ، میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا، اس کی سند کے بارے میں اختلاف ہے، اور علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ روایت منسوخ ہے۔

یعنی ابتدا میں ان (غیر مسلموں) سے مدد طلب کرنا ممنوع تھا، پھر بعد میں اس کی اجازت دے دی گئی۔ اس رائے کی بنیاد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتدا میں مدد لینے سے انکار غزوۂ بدر کے موقع پر ہوا تھا جو 2 ہجری میں پیش آیا، جبکہ بعد میں مشرکین کی مدد قبول کرنا غزوۂ حنین کے موقع پر ہوا جو 8 ہجری میں پیش آیا۔

قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا

ہمارے بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ (مشرکین سے مدد لینے کی ممانعت) ایک خاص مدت کے لیے تھی۔ وہ اس پر دلیل کے طور پر صفوان بن امیہ کے واقعے کو پیش کرتے ہیں، جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، لیکن انہوں نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے ہوئے مدد فراہم کی۔

وہ اس بات کو بھی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ابو سفیان نے غزوۂ اُحد کے دن مسلمانوں کے خلاف ایک لشکر جمع کر لیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے یہودیوں سے فرمایا

بلاشبہ تم اور ہم اہلِ کتاب ہیں، اور اہلِ کتاب کے درمیان ایک دوسرے کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا یا تو تم ہمارے ساتھ مل کر جنگ کرو، یا ہمیں کچھ ہتھیار فراہم کر دو۔

اور اسی موقف کو امام ابو حنیفہ (متوفیٰ 150ھ)، امام شافعی (متوفیٰ 204ھ)، امام لیث اور امام اوزاعی (وفات 157ھ) رحمہم اللہ سے بھی منقول پایا جاتا ہے۔

مزید برآں الحافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (متوفیٰ 852ھ) نے فرمایا

ان دونوں روایات (یعنی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر ایک مشرک کی مدد قبول کرنے سے انکار فرمایا تھا، اور پھر چند سال بعد غزوۂ حنین کے موقع پر مشرکین کی مدد قبول فرمائی تھی) کے درمیان تطبیق کئی طریقوں سے دی جا سکتی ہے، ان کے علاوہ بھی جو پہلے ذکر کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو آزمانا اور جانچنا چاہا جس سے آپ نے فرمایا تھا: میں کسی مشرک سے مدد طلب نہیں کرتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اسلام لانے کی امید رکھتے تھے، چنانچہ آپ کا گمان درست ثابت ہوا۔

ایک اور پہلو یہ ہے کہ کافروں سے مدد لینے یا نہ لینے کا فیصلہ حکمران کی صوابدید پر ہے۔ اور ان دونوں آراء کو معتبر سمجھا گیا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ فقہ (شریعت) کے بعض بڑے علماء کے نزدیک فوجی مدد طلب کرنے کا مسئلہ ایسے امور میں سے ہے جو ہر وقت کے حالات کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔ بعض مواقع پر ضرورت کے پیشِ نظر فوجی مدد طلب کرنا مناسب ہوتا ہے، جبکہ دوسرے مواقع پر حکمران یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت یا حاجت نہیں ہے۔

امام نووی (متوفیٰ 676ھ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے دوسرے سال غزوۂ بدر کے موقع پر ایک مشرک کی مدد قبول کرنے سے انکار فرمایا تھا، جبکہ ہجرت کے آٹھویں سال غزوۂ حنین کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرک صفوان بن امیہ سے مدد طلب کی تھی۔

امام نووی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ بعض علماء نے پہلی روایت کو مطلق ممانعت پر محمول کیا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی (متوفیٰ 204ھ) اور دیگر علماء نے ایسے غیر مسلموں سے فوجی مدد لینے کو جائز قرار دیا ہے جو مسلمانوں کے بارے میں اچھا خیال رکھتے ہوں، ان کی مدد کی ضرورت ہو، اور وہ غیر مسلم اس ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔

اس کے علاوہ دوسری صورتوں میں یہ مکروہ ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہی موقف امام مالک بن انس (متوفیٰ 179ھ)، امام شافعی، امام ابو حنیفہ (متوفیٰ 150ھ) اور درحقیقت جمہور علماء کا ہے۔

[شرح صحیح مسلم، جلد 12، صفحہ 198]

اسی طرح کی باتیں دیگر جلیل القدر علماء نے بھی بیان کی ہیں، جیسے الفیروزآبادی نے المہذب میں ذکر کیا ہے۔

[جلد 3، صفحہ 265]

وہ کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں کافروں سے فوجی مدد لینا جائز ہے جب مسلمانوں کو اس کی ضرورت ہو، اس میں کوئی مصلحت نظر آتی ہو، اور ان کی موجودگی سے کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔

ابن قدامہ (متوفیٰ 620ھ) نے اپنی کتاب المغنی (جلد 10، صفحہ 447) میں فرمایا کہ ابن منظور، الجوزجانی اور دیگر علماء کی رائے کے مطابق مشرک سے مدد طلب کرنا جائز نہیں۔

بعد ازاں انہوں نے کہا کہ امام احمد بن حنبل (متوفیٰ 241ھ) نے غیر مسلموں سے فوجی مدد طلب کرنے کی اجازت دی تھی۔

اسی طرح الخرقي کے بیانات بھی یہی اشارہ دیتے ہیں، شرط یہ ہے کہ ضرورت موجود ہو اور وہ غیر مسلم مدد کرنے والے مسلمانوں کے بارے میں اچھا خیال رکھتے ہوں۔

 محترم قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ابن تیمیہ (المتوفیٰ 728ھ) کی اسی موضوع پر مباحثے کو بھی ملاحظہ کریں۔

[العهده فی شرح العمده، جلد 1، صفحہ 565]

امیر السنانی (متوفیٰ 1182ھ) نے نتیجہ اخذ کیا کہ غیر مسلموں سے فوجی مدد طلب کرنا جائز ہے۔

[سبل السلام، جلد 1، صفحہ 199]

اسی طرح اشوکانی (متوفیٰ 1250ھ) نے ایک اور دلیل بیان کی، جس میں علماء کے اجماع کی طرف اشارہ ہے کہ منافقین کی فوجی مدد قبول کرنا جائز ہے، حالانکہ وہ کافروں سے بھی بدتر ہیں۔

[نيل الأوطار، جلد 1، صفحہ 14؛ جلد 8، صفحہ 28]

اور شیخ صدیق حسن خان نے بھی نتیجہ اخذ کیا کہ ضرورت کے وقت غیر مسلموں سے فوجی مدد طلب کرنا جائز ہے۔

[الروضة النضیہ، جلد 2، صفحہ 330]

حاصلِ کلام

اس بحث کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ 1990 میں بعثی کمیونسٹ صدام حسین کی فوجوں کے مقابلے میں ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے سعودی عرب کی مدد کی خاطر امریکی فوج کو مملکتِ سعودی عرب میں داخل ہونے کی اجازت دینا ایک ایسا شرعی حکم ہے جو نبوی احادیث کے دلائل اور  کبار علماء کے اجتہاد پر مبنی ہے۔۔

اور اگرچہ کچھ علماء نے گذشتہ صدیوں میں یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا کہ کافروں سے فوجی مدد طلب کرنا جائز ہے، مگر انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ جلیل القدر علماء جو اس سے اختلاف رکھتے تھے، گمراہ، خوارج یا کافر ہیں۔

اسلامی نصوص اور علماء کے اقوال کا مطالعہ کرنے کے بعد، ایک شخص صرف امام عبدالعزیز ابن باز، علامہ محمد ابن صالح العثیمین اور دیگر علماء رحمہم اللہ کی رائے سے اتفاق کر سکتا ہے، جن کی مختلف فتاویٰ میں غیر ملکی فوجیوں کو سعودی عرب میں داخل ہونے اور عراق کے خطرات و حملوں سے تحفظ دینے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ معاملہ اور بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے جب دیکھا جائے کہ کمیونسٹ بعثی صدام حسین کی حکومت نے کویت کی مسلم آبادی پر جارحیت کی، اور بعد میں سعودی عرب کی سرحدوں اور شہری علاقوں کو بھی خطرہ بنایا، حتیٰ کہ سعودی قصبوں پر فوجی حملے کیے۔

https://abukhadeejah.com/ibn-baaz-allowed-the-american-military-into-saudi-arabia/