اسلام کی فضیلت — امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ، شرح: امام ابن باز رحمہ اللہ، حواشی و تعلیقات: ابو خدیجہ حفظہ اللہ — (حصہ دوم)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

باب دوم

اسلام میں داخل ہونے کی فرضیت

:شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا

:اللہ تعالیٰ نے فرمایا

وَمَن یَبۡتَغِ غَیۡرَ ٱلۡإِسۡلَـٰمِ دِینࣰا فَلَن یُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَـٰسِرِینَ

جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔

(سورۃ آل عمران: 85)

:اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا

إِنَّ ٱلدِّینَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَـٰمُۗ

“بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”

(سورۃ آل عمران: 19)

،یعنی جو شخص جنت کا خواہش مند ہے اور آگ سے نجات چاہتا ہے اسے یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قبول ہو۔

:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس امت میں کوئی بھی شخص، خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، اگر میرے بارے میں سن لے، پھر وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مر جائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، تو وہ یقیناً اہلِ جہنم میں سے ہوگا۔ (صحیح مسلم: حدیث 153)

اسی طرح اہلِ بدعت کا معاملہ بھی یہی ہے ، ان کی بدعات اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوں گی
اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شمار ہوں گے۔ اگر ان کی بدعت کفر کے درجے تک پہنچ جائے تو ان کے لیے جہنم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگی۔اور اگر ان کی بدعت کفر سے کم درجے کی ہو، تو ان کا نقصان بھی اسی کے مطابق کم ہوگا، اور انہیں کتاب و سنت کی مخالفت کے بقدر سزا دی جائے گی اور ان کا عذاب ہمیشہ نہیں رہے گا۔

:اللہ تعالیٰ نے فرمایا

وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِی مُسۡتَقِیمࣰا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِیلِهِۦۚ

اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔

(سورۃ الانعام: 153)

:مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا

السبل : البدع والشبہات

“یہ دوسرے راستے بدعات اور شبہات ہیں۔”

(تفسیر طبری 8/88، الدر المنثور 3/386، دارمی: مقدمہ، باب النہی عن الرأي، رقم 209)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ، فَهُوَ رَدٌّ

جس نے ہمارے دین میں از خود کوئی ایسی چیز نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ رد ہے۔

(بخاری: 2697، مسلم: 1718)

:اور ایک روایت میں فرمایا

مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ

جس کسی نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے

(مسلم: 7349)

امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا

كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَأْبَى قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى

ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار کون کرے گا؟ فرمایا جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو میری نا فرمانی کرے گا اس نے انکار کیا ۔

(بخاری: 7280)

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ

:اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ لوگ تین ہیں

،ایک وہ جو حرم میں زیادتی کرے
،دوسرا وہ جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہش مند ہو
اور تیسرا وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے۔

(بخاری: 6882)


شرح: امام ابن باز رحمہ اللہ

 ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے قابلِ غور نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے

جو یہ چاہے کہ جاہلیت کی رسوم اسلام میں باقی رہیں۔

پس لازم ہے کہ انسان اسلام کو مضبوطی سے تھامے اور جاہلیت کے اعمال و طور طریقوں سے دور رہے،اسلام پر عمل کرنا، اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، نفع دینے والا ہے ، جبکہ اسلام اور سنت کے مخالف کاموں میں مشغول ہونا نقصان دہ ہے اور اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ لہٰذا ہر عاقل، بالغ شخص پر واجب ہے کہ اسلام کو مضبوطی سے پکڑے رکھے،اللہ کے اس دین ہی پر قائم رہے اپنے تمام معاملات میں خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ کے لیے عمل کرے، اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرے۔


:کتاب کا متن

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
:جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م 728ھ) نے بیان کیا ہے

قَوْلُهُ: سُنَّةً جَاهِلِيَّةٌ : يَنْدَرِجُ فِيهَا كُلُّ جَاهِلِيَّةٍ مُطْلَقَةٍ أَوْ مُقَيَّدَةٍ أَيْ فِي شَخْصٍ دُونَ شَخْصٍ كِتَابِيَّةٍ أَوْ وَثَنِيَّةٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنْ كُلِّ مُخَالَفَةٍ لِمَا جَاءَ بِهِ الْمُرْسَلُونَ

 ان کا فرمان :  جاہلیت کا طریقہ ۔

یعنی اس کے دائرے میں ہر طرح کی جاہلیت شامل ہے  چاہے وہ مطلق ہو یا کسی خاص شخص یا قوم سے متعلق، یہ جاہلیت اہلِ کتاب کی ہو، مشرکین کی ہو یا ان کے علاوہ کسی اور گروہ کی ہر وہ طرزِ عمل جو ان تعلیمات کے مخالف ہو جنہیں رسول لے کر آئے وہ سنتِ جاہلیت (یعنی جاہلیت کے طریقوں) میں شمار ہوتا ہے۔

(اقتضاء الصراط المستقیم، 1/79)

  حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا

 يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ اسْتَقِيمُوا فَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِيدًا فَإِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا

 اے قرآن و حدیث پڑھنے والو! تم اگر قرآن و حدیث پر نہ جمو گے، ادھر ادھر دائیں بائیں راستہ لو گے تو بھی گمراہ ہو گے بہت ہی بڑے گمراہ۔

[صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7282]


شرح: امام ابن باز رحمہ اللہ

اس کا مطلب یہ ہے کہ راہِ حق پر ثابت قدم رہو  اور یہاں “قاری” سے مراد علماء اور طلبۂ علم ہیں۔اللہ کے دین پر جمے رہو، کیونکہ جو اس پر ثابت قدم رہا وہ سبقت پائے گا، لیکن اگر کوئی دائیں یا بائیں ہٹ گیا، تو وہ سخت گمراہی میں جا پڑے گا۔لہٰذا لازم ہے کہ آدمی اسی دین کو مضبوطی سے تھامے رکھے جسے اللہ نے مشروع فرمایا ہے، اور اس چیز سے بچے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس آیت میں نکیر فرمائی

أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَـٰۤؤُا۟ شَرَعُوا۟ لَهُم مِّنَ ٱلدِّینِ مَا لَمۡ یَأۡذَنۢ بِهِٱللَّه

کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔

(سورۃ الشوریٰ: 21)

پس تم سیدھے راستے پر قائم رہو، چاہے تمہارے نیک اعمال کم ہی کیوں نہ ہوں، بشرطیکہ تم ان لوگوں کے ساتھ ہو جو ہدایت یافتہ ہیں اور جن کے اعمال بھی کم ہیں یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم ان راہوں پر چلو جو گمراہی اور بدعت کی طرف لے جاتی ہیں،کیونکہ وہ راہیں انسان کو ہدایت سے بھٹکا کر اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتی ہیں۔ اور یہی اصول اس شخص پر بھی لاگو ہوتا ہے جو اگرچہ ہدایت یافتہ ہو، لیکن بعض اوقات اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے کچھ گناہوں میں مبتلا ہو جائے،تاہم وہ نجات کے راستے پر قائم رہتا ہے۔ البتہ جو شخص اسلام کے راستے کو چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلتا ہے،اور اسلام میں جاہلیت کے طور طریقے داخل کرنا چاہتا ہے، تو وہ درحقیقت ہلاکت کے راستے پر گامزن ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی اور عافیت کے طلبگار ہیں۔


:کتاب کا متن

:شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب نے فرمایا

محمد بن وضاح رحمہ اللہ مسجد میں داخل ہوتے، علم و ذکر کی مجلس میں کھڑے ہو کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے یہ کلمات نقل کرتے۔

پھر وہ کہتے ہمیں سفیان بن عیینہ (م 198ھ) نے خبر دی، انہوں نے مجالد سے روایت کی انہوں نے شعبی سے، اور انہوں نے مسروق سے روایت کی،کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا

ليس عام إلا والذي بعده شر منه، لا أقول: عام أمطر من عام، ولا عام أخصب من عام، ولا أمير خير من أمير، لكن ذهاب علمائكم وخياركم، ثم يحدث أقوام يقيسون الأمور بآرائهم، فيهدم الإسلام ويثلم

کوئی سال ایسا نہیں گزرتا مگر اس کے بعد آنے والا سال اس سے زیادہ بُرا ہوتا ہے۔ میرا مقصد یہ نہیں کہ بارش کم ہوگی، یا زمین کم زرخیز ہوگی، یا حکمران پہلے سے زیادہ ظالم ہوگا۔ بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ تمہارے علماء اور نیک لوگ ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہوتے جاتے ہیں، پھر ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے معاملات کو اپنی خواہش اور رائے سے طے کریں گے، چنانچہ وہ اسلام کو بگاڑ دیں گے اور اس کی بنیادوں کو منہدم کر ڈالیں گے۔

اس روایت کو ابن وضّاح رحمہ اللہ نے اپنی کتاب البدع والنهي عنها (1/17) میں بیان کیا ہے اور ابو عمرو الدانی رحمہ اللہ نے السنن الواردة في الفتن (3/517، حدیث: 210، 211) میں روایت کیا ہے جبکہ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے اسے مجمع الزوائد (حدیث: 849) میں ذکر کیا ہے۔


شرح: امام ابن باز رحمہ اللہ

:زبیر بن عدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں

أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنْ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِوَسَلَّمَ

ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی ‘ انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

:امام الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے اسے (یعنی حجاج بن یوسف کو) رمضان 95 ہجری میں ہلاک کیا۔ وہ ایک جابر و ظالم، اہل بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن، فاسدالنفس اور بے گناہ خون بہانے والا تھا۔ مگر وہ دلیر، بہادر، منصوبہ ساز، چالاک اور ہوشیار تھا۔ وہ گفتگو اور تقریر میں فصیح تھا اور قرآن کی تعظیم کرتا تھا۔ میں نے اس کی برائیوں کو اپنی کتاب التاریخ الکبیر میں ذکر کیا ہے؛ جیسے ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کو کعبہ میں محصور کرنا اور منجنیق کا استعمال جس سے کعبہ کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح اس نے اہلِ حرمین کو ذلیل و خوار کیا اور بیس برس تک عراق اور مشرق پر حکومت کی، ابن الاشعث کے خلاف جنگ کی اور نمازوں میں تاخیر کی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر دیا۔ ہم اسے محبت نہیں کرتے بلکہ اللہ کے لیے نفرت کرتے ہیں، اور اللہ کے لیے نفرت رکھنا اسلام کے مضبوط ترین اصولوں میں سے ہے۔ اس کے کچھ نیک اعمال بھی تھے، لیکن وہ اس کے گناہوں کے سمندر میں ڈوب گئے، اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ عمومی طور پر وہ توحید پر تھا اور اپنے جیسے ظالم و جابر حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌوَمُبِيرٌ

بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہوگا۔

امام ترمذی کہتے ہیں: کہاجاتا ہے کذاب اورجھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اورہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے  ۔اس سند سے ہشام بن حسان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حجاج نے جن لوگوں کو باندھ کر قتل کیا تھا انہیں شمار کیا گیا تو ان کی تعدادایک لاکھ بیس ہزارتک پہنچی تھی۔

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے الحجاج بن یوسف الثقفی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ ثقيف میں ایک بڑا جھوٹا اور بڑا قاتل پیدا ہوگا۔ جھوٹا ہم دیکھ چکے ہیں، اور جہاں تک قاتل کا تعلق ہے، میں تمہارے سوا کسی اور کو نہیں پاتی اس پر الحجاج اٹھ کھڑاہوا اور کوئی جواب نہ دیا۔

لہذا جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا اور قیامت قریب آئے گی، فتنے بڑھیں گے، اسلام کی عملی حیثیت آہستہ آہستہ زائل ہوگی، علم غائب ہوگا، جہالت بڑھے گی، اور جہالت کے پھیلانے والے عوام کو گمراہ کریں گے۔

:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی، جب بھی کوئی کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کو مضبوطی سے پکڑ لیں گے، چنانچہ سب سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی ’’حکم‘‘ ہو گی (یعنی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلے کرنا) اور سب سے آخری کڑی نماز ہو گی۔

اس روایت کو امام احمد رحمہ اللہ نے المسند (حدیث: 22160) میں روایت کیا ہے،اور حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد (جلد 7، صفحہ 551) میں ذکر کیا ہے،اور امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر (حدیث: 7486) میں روایت کیا ہے،اور دیگر محدثین نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع (حدیث: 5075) میں صحیح قرار دیا ہے۔

اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی راہنمائی کی کہ وہ اسلام کے ہر پہلو سے مضبوطی سے جُڑے رہیں، تاکہ دین ان کی زندگیوں سے غائب نہ ہو اور مکمل طور پر ضائع نہ ہو اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ اس بات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ دین کو سلف صالحین کے فہم کے مطابق سیکھا جائے، اس پر عمل کیا جائے، اور پھر اسے اگلی نسل تک پہنچایا جائے کیونکہ یہی طریقہ ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کو اپنے دین سے محروم ہونے سے بچا سکتا ہے

 : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

راستے کی طرح اسلام کی بھی کچھ نشانیاں اور علامتیں ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، گھر والوں پر داخل ہوتے وقت ان پر سلام کرنا اور لوگوں کے پاس سے گزرتے وقت انہیں سلام کہنا۔ جس نے ان امور میں سے کسی میں کمی کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اسلام کی ایک شق ترک کر دی اور جس نے ان تمام چیزوں کو ترک کر دیا، اس نے تو اسلام کی طرف اپنی پیٹھ پھیر دی (یا اسلام کو پس پشت ڈال دیا)۔

يہ روایت ابو عبید القاسم ابن سلاّم نے اپنی کتاب الایمان میں بیان کی ہے، حدیث نمبر 3۔ امام الحافظ شیخ محمد ناصر الدّین الألبانی رحمہ اللہ نے اس روایت کی تحقیق کی اور اسے صحیح قرار دیا، جیسا کہ ان کی کتاب الصحیحہ، حدیث نمبر 333 میں درج ہے۔

ہم اللہ سے سلامتی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں ۔

مصدر: abukhadeejah.com