بسم الله الرحمٰن الرحيم
:امام عبد الرحمٰن ناصر السعدی رحمہ اللہ نے فرمایا
:اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِخۡوَةࣱ فَأَصۡلِحُوا۟ بَیۡنَ أَخَوَیۡكُمۡۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
(سورۃ الحجرات:10)
موجودہ دور میں جہاد کے اہم ترین امور میں سے ایک یہ ہے کہ اسلامی حکومتوں کے درمیان معاہدات قائم کیے جائیں، اور ان کے مابین محبت و اخوت کے رشتوں کو مضبوط کیا جائے، ساتھ ہی ہر ریاست کی اپنے داخلی اور خارجی معاملات میں آزادی، خود مختاری اور حقوق کو برقرار رکھا جائے۔
اس کے ساتھ ان حکومتوں کے درمیان باہمی مدد، تعاون اور باہمی نصرت و یکجہتی بھی ہونی چاہیے، تاکہ وہ ہر اس قوت کے مقابلے میں جو ان پر زیادتی کرے یا ان کے حقوق میں سے کسی حق کو غصب کرنے کی کوشش کرے، ایک ہاتھ کی مانند متحد اور یکجا ہوں۔
ضروری ہے کہ وہ اپنے مؤقف اور آواز میں متحد ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی معاملات کو آسان بنائیں، اور سب کی بھلائی کے لیے ہر ریاست دوسری ریاست کے مزید قریب ہوتی جائے۔ انہیں اس معاملے میں پوری مستعدی اور اہتمام کے ساتھ کوشش کرنی چاہیے اور موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق حکمت و دانائی سے کام لینا چاہیے۔
انہیں اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے اور اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں اور بندشوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خواہ یہ رکاوٹیں کتنی ہی دشوار اور بھاری کیوں نہ دکھائی دیں۔
بے شک اسلام کے دشمنوں نے مسلمانوں کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی توفیق، اسی پر توکل اور پختہ عزم کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ جو معاملات بظاہر دشوار دکھائی دیتے ہیں، وہ اللہ کے اذن سے آسان ہو جائیں گے۔
لیکن ہمارے زمانے میں مسلمانوں کو شدید کمزوری نے آ لیا ہے، اور دشمن ہر سمت سے ان کی تاک میں بیٹھے ہیں۔ اس صورتِ حال نے مسلمانوں کے دلوں میں مایوسی پیدا کر دی ہے، یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگ ایمان، عزم، قوت اور شجاعت میں کمزور ہو گئے ہیں۔ مایوسی ان پر غالب آ گئی ہے۔ وہ یہ گمان کرنے لگے ہیں کہ اسلام کی عزت و سربلندی کی امید ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے، اور یہ کہ مسلمان کمزوری سے نکل کر مزید شدید کمزوری کی طرف جا پہنچے ہیں۔
!یہ ایک سنگین غلطی ہے
کیونکہ یہ کمزوری محض ایک عارضی حالت ہے، جس کے کچھ اسباب ہیں۔ جب ان اسباب کو دور کر دیا جائے گا تو اسلام کی صحت و عافیت اسی طرح لوٹ آئے گی جیسے پہلے تھی، اور اس کی قوت بھی اسی طرح اس کی طرف واپس آ جائے گی جیسی گزشتہ ادوار میں تھی۔
مسلمان صرف اسی وجہ سے کمزور ہوئے کہ انہوں نے اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت کی، اور اللہ تعالیٰ کی ان عام اور جاری سنتوں کو ترک کر دیا جنہیں اس نے اپنی حکمت کے تحت دنیاوی زندگی میں اقوام کی زندگی اور ان کی قوت کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اگر وہ اپنے دین کی طرف، اس کی نفع بخش تعلیمات، اس کی بلند پایہ ہدایات اور اس کی کامل تعلیمات کی طرف، خواہ مکمل طور پر یا جزوی طور پر، واپس لوٹ آئیں، تو وہ دوبارہ کامیابی کی طرف لوٹ آئیں گے۔
جہاں تک مایوسی کے نظریے کا تعلق ہے، اسلام اسے ہرگز پسند نہیں کرتا، بلکہ اسلام اس سے نہایت سختی کے ساتھ خبردار کرتا ہے۔ اسلام لوگوں کو کامیابی کی امید رکھنے، اس یقین پر قائم رہنے کی دعوت دیتا ہے کہ بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے، اور بے شک مشکل کے ساتھ کشادگی ہے۔ اور یہ کہ مسلمان، اگر وہ تقویٰ اختیار کریں، اللہ تعالیٰ کی مشروع کردہ اسباب کو اختیار کریں، اس معاملے میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قابلِ اتباع نمونہ بنائیں، اور صبر کریں، تو بلا شبہ وہ کامیاب ہوں گے اور نجات حاصل کریں گے۔
پس جو لوگ مایوسی کا شکار ہیں اور دوسروں میں ناامیدی پھیلاتے ہیں، انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ اور مسلمانوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ حقیقی کامیابی، حقیقی ترقی اور درست پیش رفت کے اعتبار سے تمام دوسری اقوام کی بہ نسبت اس کے زیادہ قریب ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا دین ہر اعتبار سے بلندی اور رفعت کا دین ہے عقیدے میں، عمل میں، اخلاق میں، اور مقاصد و اہداف میں۔ یہ وہ دین ہے جو دنیا اور آخرت کی بھلائیوں اور فوائد کو یکجا کرتا ہے۔
ماخذ: جہاد الأعداء ووجوب التعاون بین المسلمین، ص 25-26، امام السعدی رحمہ اللہ (متوفیٰ 1376ھ) — ویب سائٹ ابو خدیجہ ڈاٹ کام کے مقالے سے اردو ترجمہ کیا گیا۔

