بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام کی فضیلت
(حصہ اوّل)
:شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتمَمتُ عَلَیۡكُمۡ نِعمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسلَـٰمَ دِینࣰاۚ
آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
[سورۃ المائدہ: 3]
:اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُلۡ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِی شَكࣲّ مِّن دِینِی فَلَاۤ أَعۡبُدُ ٱلَّذِینَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِنۡ أَعۡبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِی یَتَوَفَّىٰكُمۡۖ
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے۔
[سورۃ یونس: 104]
:پھر فرمایا
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ یُؤۡتِكُمۡ كِفۡلَیۡنِ مِن رَّحۡمَتِهِۦ وَیَجۡعَل لَّكُمۡ نُورࣰا تَمۡشُونَ بِهِۦ وَیَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرمادے گا، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
[سورۃ الحدید: 28]
:ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةَ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتْ النَّصَارَى ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ عَلَى قِيرَاطَيْنِ فَأَنْتُمْ هُمْ فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالُوا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ قَالُوا لَا قَالَ فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ۔
تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ میرا کام ایک قیراط پر صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ اس پر یہودیوں نے (صبح سے دوپہر تک) اس کا کام کیا۔ پھر اس نے کہا کہ آدھے دن سے عصر تک ایک قیراط پر میرا کام کون کرے گا؟ چنانچہ یہ کام پھر نصاریٰ نے کیا۔ پھر اس شخص نے کہا کہ عصر کے وقت سے سورج ڈوبنے تک میرا کام دو قیراط پر کون کرے گا؟ اور تم (امت محمدیہ) ہی وہ لوگ ہو (جن کو یہ درجہ حاصل ہوا)۔ اس پر یہود و نصاریٰ نے برا مانا، وہ کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کم ملے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کیا تمہارا حق تمہیں پورا نہیں ملا؟ سب نے کہا کہ ہمیں تو ہمارا پورا حق مل گیا۔ اس شخص نے کہا کہ پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں زیادہ دوں۔
(صحیح البخاری,2268)
:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
أضلَّ اللهُ عن الجمعة مَن كان قبلنا، فكان لليهود يوم السبت، وللنَّصارى يوم الأحد، فجاء اللهُ بنا فهدانا ليوم الجمعة، وكذلك هم تبعٌ لنا يوم القيامة، نحن الآخرون من أهل الدنيا، والأولون يوم القيامة
اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ کے دن کے فضل سے محروم رکھا؛ یہودیوں کے لیے یوم ہفتہ اور نصاریٰ کے لیے یوم اتوار مقرر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا اور ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا۔ پس اب جمعہ ہے، پھر ہفتہ، پھر اتوار۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ سب ہمارے تابع ہوں گے۔ ہم دنیا میں بعد میں آئے، مگر قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے اور ہمارا فیصلہ بھی سب سے کیا جائے گا۔
(صحیح البخاری,876 ،صحیح المسلم،856)
اور اس (باب) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول بطورِ تعلیق ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
أحب الدِّين إلى الله الحنيفية السَّمحة
اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین وہ ہے جو خالص توحید پر قائم اور آسانی والا ہے۔
حدیث بخاری، نمبر 38، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصل سند کے ساتھ روایت شدہ، الادب المفرد، حدیث نمبر 287۔ شیخ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
:اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا
عليكم بالسَّبيل والسنة، فإنه ليس مِن عبدٍ على سبيلٍ وسنةٍ ذكر الرحمنَ ففاضت عيناه من خشية الله فتمسّه النار، وليس من عبدٍ على سبيلٍ وسنةٍ ذكر الرحمن فاقشعر جلده من مخافة الله إلا كان كمثل شجرةٍ يبس ورقها إلا تحاتت عنه ذنوبه كما تحات عن هذه الشجرة ورقُها، وإنَّ اقتصادًا في سنةٍ خيرٌ من اجتهادٍ في خلاف سبيلٍ وسنةٍ
تم سیدھے راستے اور سنت کو مضبوطی سے پکڑو ۔ کیونکہ جو بندہ سیدھے راستے اور سنت پر قائم رہتے ہوئے رحمان کو یاد کرتا ہے اور اس کی آنکھوں سے اللہ کے خوف کے آنسو بہہ نکلتے ہیں، آگ اسے ہرگز نہیں چھوئے گی۔
اور جو بندہ سیدھے راستے اور سنت پر قائم رہتے ہوئے رحمان کو یاد کرتا ہے اور اللہ کے خوف سے اس کے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے، تو وہ اس درخت کی مانند ہو جاتا ہے جس کے پتے خشک ہو گئے ہوں اور پھر وہ پتے جھڑنے لگتے ہیں؛ اسی طرح اس کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں۔اور یاد رکھو! سنت پر قائم رہتے ہوئے میانہ روی اختیار کرنا اس محنت و کوشش سے بہتر ہے جو سیدھے راستے اور سنت کے خلاف ہو۔
(ابن ابی شیبہ، المصنف، حدیث نمبر 35526، اللالیكائی، شرح اصول اعتقاد اہل السنة، حدیث نمبر 10، اور دیگر مصادر)
:ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا
کیا ہی اچھی ہے سمجھدار لوگوں کی نیند اور ان کا (رخصت کے وقت) روزہ چھوڑ دینا! وہ اپنی عقل مندی کے باعث بے وقوف لوگوں کی رات بھر جاگنے اور ان کے روزوں سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ بے شک تقویٰ اور یقین کے ساتھ کی گئی ایک رائی کے برابر نیکی بھی ان لوگوں کی بڑی بڑی عبادتوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے جو اپنی عبادت پر گھمنڈ یا دھوکے میں مبتلا رہتے ہیں۔
(امام احمد بن حنبل، کتاب الزہد، حدیث نمبر 737؛ ابو نعیم، الحلیہ، جلد 1، صفحات 211 اور 630؛ اور دیگر مستند کتب۔)
تشریح: امام عبدالعزیز ابن باز رحمہ اللہ
اس باب کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو تمام مذاہب میں سب سے بہتر بنایا۔ یہ وہ دین ہے جس سے خوشی اور نجات حاصل ہوتی ہے۔ اگر بندہ اس پر مضبوطی سے قائم رہے اور استقامت اختیار کرے تو وہ جنت اور عزت کا حق دار بن جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کے راستے سے ہٹ کر، چاہے وہ شخص نماز، روزہ یا دیگر عبادات میں کتنا بھی
محنت کرے، اگر وہ سنت کے مطابق نہ ہو تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
:اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتمَمتُ عَلَیۡكُمۡ نِعمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسلَـٰمَ دِینࣰاۚ
آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
[سورۃ المائدہ: 3]
:اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَن یَبۡتَغِ غَیۡرَ ٱلۡإِسۡلَـٰمِ دِینࣰا فَلَن یُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَـٰسِرِینَ
جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔
[سورۃ آل عمران: 85]
لہٰذا، ہر عاقل بالغ مکلف پر لازم ہے کہ وہ اسلام پر مضبوطی سے قائم رہے اور اللہ کی اطاعت میں کوشش کرے۔ یہی نجات کا راستہ اور خوشی کا راستہ ہے۔
سنت کے مطابق اعتدال کے ساتھ عمل کرنا بدعت میں زیادہ محنت کرنے سے بہتر ہے۔
اور اللہ کی توفیق اور مدد کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت۔
وضاحت: ابو خدیجہ عبد الواحد حفظہ اللہ
:أُبَيّ بن كَعْب رضی اللہ عنہ نے فرمایا
“سیدھی راہ اور سنت کو مضبوطی سے تھام لو۔”
اس راہ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا
:راستہ ہے۔ اور اسی کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ ہے
وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِی مُسۡتَقِیمࣰا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِیلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ
اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔
[الأنعام: 153]
:أُبَيّ بن كَعْب رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے راستے کو واحد قرار دیا ہے، یعنی نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دین کے تمام تفصیلی امور اور سنت کے تمام امور کو جمع کرتا ہے۔ باقی تمام راستے گمراہی، بدعت اور خواہشات کے راستے ہیں، اور ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو لوگوں کو اس کی طرف بلاتا ہے۔
:پھر فرمایا
یقیناً جہنم اس شخص کو نہیں چھوئے گی جو سیدھی راہ اور سنت پر ہے، جو رحمان کو یاد کرتا ہے اور پھر اللہ کے خوف سے رو پڑتا ہے۔
پس أُبَيّ بن كَعْب رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ یہ فضیلت صرف اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ اور سنت پر ہو۔ رہا وہ شخص جو اللہ کے خوف سے روتا تو ہے مگر وہ بدعت، گمراہی اور فرقہ بندی (حزبیّت) پر قائم ہے باوجود اس کے کہ حق اس پر ظاہر ہو چکا ہو، تو اس کا رونا، اس کی عاجزی اور خشوع اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو دھوکا دے رہا ہے۔
نصارى، قبروں کے پوجنے والے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر بدعتی بھی بہت روتے ہیں لیکن ان کا یہ رونا اللہ کے سامنے انہیں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ اصل معاملہ رونے اور عاجزی دکھانے کا نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان کس راستے پر ہے۔ اگر وہ سیدھی راہ اور سنت پر ہے تو اسے اجر ملے گا۔ لیکن اگر وہ بدعت اور گمراہی پر ہے تو اس کا رونا اور عاجزی کچھ فائدہ نہیں دے گی۔
:أُبَيّ بن كَعْب رضی اللہ عنہ نے فرمایا
ایسا کوئی شخص نہیں جو سیدھی راہ اور سنت پر ہو، پھر وہ رحمان کو یاد کرے اور اس کا بدن اللہ کے خوف سے کانپ جائے مگر وہ اس درخت کی مانند ہو جاتا ہے جس کے پتے سوکھ کر خشک ہو چکے ہوں، پھر جب ہوا چلتی ہے تو وہ پتے گر جاتے ہیں۔ اسی طرح اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔
اگر وہ سیدھی راہ اور سنت پر ہو تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے سوکھے پتے درخت سے گرتے ہیں۔ یہی بات حدیثِ قدسی میں بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
يا ابنَ آدمَ إنَّك ما دَعَوْتَنِي ورَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لك على ما كان فيك ولا أُبَالِي، يا ابنَ آدمَ لو بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السماءِ، ثم اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لك، ولا أُبَالِي، يا ابنَ آدمَ إنَّكَ لو أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الأرضِ خطايا، ثم لَقِيتَنِي لا تُشْرِكُ بي شيئًا لأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مغفرةً
اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے اور مجھ سے مانگتا رہے، میں تجھے تیرے گناہوں کی مغفرت کرتا رہوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں اور پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر آئے اور تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں تجھے زمین کے برابر مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔
(صحیح سنن الترمذی، حدیث نمبر 2805)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج کو مضبوطی سے تھامنے کا کتنا عظیم مقام ہے۔ یہی وہ صراطِ مستقیم اور سنت ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑا۔ پس جو کوئی نجات چاہتا ہے وہ اپنی نظر، اپنے علم کے حصول اور اپنے دل کو اس زمانے کی طرف پھیرے جو فرقوں اور خواہشات کے ظاہر ہونے سے پہلے کا تھا۔ وہ زمانہ جب مسلمان عقیدہ، منہج اور سنت پر متحد تھے۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا زمانہ تھا جب امت میں اختلاف پیدا نہیں ہوا تھا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی دین میں بدعت نہیں نکالی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بدعات اور گمراہی سے محفوظ رکھا۔
:أُبَيّ بن كَعْب رضی اللہ عنہ نے فرمایا
سیدھی راہ اور سنت پر اعتدال اختیار کرنا اس سے بہتر ہے کہ آدمی مخالفت پر بہت زیادہ محنت کرے۔
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان چھوٹے اعمال میں بھی برکت ڈال دیتا ہے جو سنت کے مطابق ہوں اور نصوصِ شرعیہ کے ہم آہنگ ہوں۔
لیکن جو اعمال سیدھی راہ اور سنت کے علاوہ ہوں وہ حق کے خلاف ہوتے ہیں، وہ نئی چیزیں (بدعات) ہوتی ہیں۔ تو جو شخص حق کے خلاف عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اور مؤمنین کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے کی پیروی کرتا ہے خواہ اس کے اعمال کثیر ہی کیوں نہ ہوں۔ وہ ہدایت پر نہیں ہے اور نہ ہی ان بدعتی اعمال پر اسے کوئی اجر دیا جائے گا۔
:ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا
بے شک ایک جو کے دانے کے برابر تقویٰ، اللہ کے خوف کے ساتھ، اس کی اطاعت اور اس پر یقین کے ساتھ، ان پہاڑوں جیسے اعمالِ عبادت سے بہتر ہے جو ان لوگوں نے کیے ہیں جو دھوکے اور فریب میں مبتلا ہیں۔
یہ اثر دل کے اخلاص اور رب العالمین کے ساتھ سچائی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ لوگ اس معاملے میں مختلف درجے رکھتے ہیں۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس باب میں پوری امت سے سبقت لے گئے۔
یہ روایت امام احمد نے الزہد (حدیث: 737) اور ابو نعیم نے الحلیۃ (1/211) میں بیان کی ہے۔ اگرچہ اس کی سند میں کچھ راوی کمزور ہیں، لیکن اس روایت کے معنی اور مضمون قرآن و سنت کی تعلیمات سے ثابت اور درست ہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (م 241ھ) نے فضائل الصحابہ (حدیث 118) میں صحیح سند کے ساتھ بکر بن عبداللہ المزنی سے روایت کیا ہے
ما فَضَلَ أبو بكر أصحابَ محمدٍ ﷺ بكثرة صيامٍ ولا صلاة، ولكن بشيء وقر في قلبه
ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں پر اس وجہ سے فائق نہیں تھے کہ وہ ان سے زیادہ نماز پڑھتے تھے یا ان سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ بلکہ وہ اس معاملے کی وجہ سے فائق تھے جو ان کے دل میں تھا۔
اور یہی ابو درداء رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب ہے یعنی سیدھی راہ پر ثابت قدم رہنے کے ساتھ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعمال سنت، منہج اور صراطِ مستقیم کے مطابق ہوں۔ اصل معاملہ یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص کتنی زیادہ عبادت کرتا ہے، یا کتنی زیادہ محنت کرتا ہے، یا کتنی زیادہ دعوت دیتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ اعمال سنت اور صراطِ مستقیم کے مطابق ہیں یا نہیں، اور ساتھ ہی ساتھ اللہ کا خوف، اس کی اطاعت اور یقینِ کامل موجود ہے یا نہیں۔
:امام حسن بصری رحمہ اللہ (م 110ھ) سے پوچھا گیا
صحابہ رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے افضل کیوں تھے حالانکہ ان کے بعد آنے والے بعض لوگ ان سے زیادہ عبادت کرتے تھے؟
:انہوں نے جواب دیا
صحابہ رضی اللہ عنہم عبادت کرتے تھے جبکہ ان کے دلوں میں آخرت ہوتی تھی۔ اور جو ان کے بعد آئے وہ عبادت کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں دنیا ہوتی تھی۔
ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔