مختصر سیرت نواسان ِرسول حسن و حسین رضی اللہ عنہما

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Brief Seerah of grandsons of the prophet Hasan and Husayn (RadiAllaho anhuma)

حسن بن علی رضی اللہ عنہ

نام: حسن۔

نسب: حسن بن علی بن ابوطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم۔

کنیت: ابومحمد۔

ولادت: 15 رمضان 3 ھ۔

 حسین بن علی رضی اللہ عنہ

نام: حسین۔

نسب: حسین بن علی بن ابوطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم۔

کنیت: ابو عبداللہ۔

ولادت: شعبان 4ھ۔

آپ رضی اللہ عنہما  کا نام ’’حسن‘‘ اور ’’حسین‘‘ خود نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے رکھا تھا۔ بلکہ یہ تک فرمایا کہ مجھے اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا ہے:

’’عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ، قَالَ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ:  إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا‘‘[1]

( علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا: جب حسن پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حمزہ رکھا اور جب حسین پیدا ہوئے تو ان کا نام ان کے چچا جعفر کے نام پر رکھا۔ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے بلابھیجا اور فرمایاکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان دونوں ناموں کو تبدیل کردوں ۔ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہی بہتر جانتے ہیں۔ پس آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ان دونوں کا نام حسن اور حسین رکھا)۔

آپ دونوں رضی اللہ عنہما  کا عقیقہ خود نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا۔

شکل وصورت:

 حسن رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مشابہ تھے۔  عقبہ بن الحارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

’’صَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَصْرَ، ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ  لَا شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ  وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ‘‘[2]

( ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھی پھر باہر نکل کر جانے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ کی نظر  حسن رضی اللہ عنہ پر پڑی کہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، پس آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کاندھے پر بیٹھا لیا اور فرمایا: آپ پر میرے باپ قربان ہوں آپ تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مشابہ ہيں ناکہ  علی رضی اللہ عنہ کے، تو اس پر  علی رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے)۔

اسی طرح سے  حسین رضی اللہ عنہ بھی اپنے نانا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مشابہ تھے:

’’أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَام فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ، وَقَالَ: فِي حُسْنِهِ شَيْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ:  كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ‘‘([3])

(عبید اللہ بن زیاد کے پاس ایک تشت میں  حسین رضی اللہ عنہ کا سرلایا گیا تو وہ اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن کے بارے میں کچھ کہا۔ اس پر  انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے اور آپ کا سر وسمہ سے رنگا ہوا تھا)۔

فضائل:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے  حسنین رضی اللہ عنہما سے محبت کے انداز:

آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  حسنین (یعنی حسن وحسین) رضی اللہ عنہما سے بے حد محبت فرماتے کبھی یہ دونوں نماز میں سجدے کی حالت میں آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اوپر سوار ہوجاتے تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نہایت شفقت سے سجدے سے اٹھتے وقت انہیں بٹھاتے([4])۔  کبھی منبر چھوڑ کر انہیں اٹھانے چلے جاتے اور فرماتے واقعی اللہ تعالی نے سچ فرمایا کہ مال اور اولاد فتنہ (آزمائش) ہیں([5])۔چومتے، گود میں بٹھاتے اور یہ دعاء فرماتے کہ:

’’اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا‘‘([6])

(اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما)۔

بلکہ ایک دفعہ تو شفقت ومحبت سے اپنی چادر میں ان دونوں کو چھپایا اور یہ دعاء فرمائی کہ:

’’اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا‘‘([7])

(اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما، اور اس سے بھی محبت فرما جو ان دونوں سے محبت رکھے)۔

 براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، يَقُولُ:  اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ‘‘([8])

(میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو دیکھا کہ حسن بن علی  آپ کے کندھے مبارک پر سوار تھے اور آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  فرمارہے تھے کہ: اے اللہ مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت فرما)۔

اور فرمایا:

’’حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا‘‘([9])

(حسین مجھ سےہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالی اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے)۔

اور انہیں اپنے دنیا کے دو پھول کہا کرتے تھے:

 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب کسی نے محرم(احرام کی حالت میں) مکھی مارنے کے متعلق پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا، عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں حالانکہ یہی لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی صاحبزادی(فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے فرزند (حسین رضی اللہ عنہ) کو قتل کرچکے ہیں۔ جن کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ:

’’هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا‘‘([10])

(یہ دونوں (حسن وحسین رضی اللہ عنہما) تو  دنیا میں میرے دو پھول ہیں)۔

آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  تو ہمیشہ ا ن کا خصوصی خیال رکھتے اور انہیں اللہ سبحانہ وتعالی کی پناہ میں دیتے:

’’كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، يَقُولُ: أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ، وَيَقُولُ: هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاق وَإِسْمَاعِيل عَلَيْهِمُ السَّلَام‘‘([11])

(رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  حسن وحسین کو اللہ تعالی کی پناہ میں دیا کرتے تھے اور فرماتے: میں تم دونوں کو ہر قسم کے شیطان، زہریلے جانور اور لگنے والی (بد)نظر  سے اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں۔ اور فرماتے کہ  ابراہیم بھی (اپنے بیٹوں)  اسحاق واسماعیل علیہما السلام کو اس طرح اللہ تعالی کی پناہ میں دیتے)۔

آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے حسنین رضی اللہ عنہما کو خصوصی طور پر اہل بیت میں شمار کیا جب یہ آیت نازل ہوئی:

﴿اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا﴾ (الاحزاب: 33)

(اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اےاہل بیت! اور تمہیں خوب خوب پاک کر دے)

تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے  حسن، حسین، فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہم کو اپنے چادر میں اکھٹا لے کر یہ آیت تلاوت فرمائی([12])۔

اسی طرح سے جب آیت مباہلہ نازل ہوئی:

﴿فَمَنْ حَاجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَنَا وَاَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ  ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ﴾ (آل عمران: 61)

(پھر جو شخص تم سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے، اس کے بعد کہ تمہارے پاس علم آ چکا تو کہہ دو آؤ! ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں، اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو بھی، اور اپنے آپ کو اور تمہیں بھی، پھر مباہلہ (گڑ گڑا کر دعاء) کریں ،  پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں)

اس موقع پر بھی آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے انہی کو جمع فرماکر کہا کہ:

’’اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي‘‘([13])

(اے اللہ یہ میرے اہل (بیت) ہیں)۔

 حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ:

’’إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ‘‘([14])

(میرا یہ بیٹا سردار ہوگا اور شاید کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروادے گا)۔

اور یہ پیشن گوئی  معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں رضاکارانہ طور پر خلافت چھوڑ دینے کی صورت میں پوری ہوئی کہ  حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی حکمت، فراست وتقویٰ کے ذریعے مسلمانوں کو عظیم خون خرابے سے محفوظ فرمالیا۔

اور انہیں نہ صرف دنیا کی سرداری بلکہ جنت کی سرداری کا اعزاز بھی پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی زبانی حاصل ہوا:

’’الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ‘‘([15])

(حسن اور حسین اہل جنت نوجوانوں کے سردار ہیں)۔

جیسا کہ  ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما ادھیڑ عمر لوگوں کے جنت میں سردار ہوں گے:

’’سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَالْآخِرِينَ، إِلَّا النَّبِيِّينَ، وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ مَا دَامَا حَيَّيْنِ‘‘([16])

(یہ دونوں ادھیڑ عمر لوگوں کے جنت میں سردار ہیں اولین وآخرین میں سوائے انبیاء ومرسلین کے،  اے علی! جب تک یہ دونوں بقید حیات ہیں انہیں اس کی خبر نہ کرنا)۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی وفات کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم بھی حسنین رضی اللہ عنہما سے محبت کرتے اور ان کی ضروریات کا خوب خیال رکھتے۔ اور یہ روافض (شیعہ) کا جھوٹ ہے کہ صحابہ کرام نے اہل بیت اور حسنین رضی اللہ عنہما پر کوئی ظلم کیا یا ان کی حق تلفی کی۔

وفات:

 حسن رضی اللہ عنہ کی وفات سن 49 یا 50 ھ میں 47 برس کی عمر میں ہوئی تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ آپ کی شہادت زہر دیے جانے کی وجہ سے ہوئی۔مگر اس کی نسبت  معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا روافض کی تہمت کے سوا کچھ نہیں۔آپ رضی اللہ عنہ مدینہ نبویہ کے مشہور قبرستان البقیع میں ہی دفن ہیں۔

 حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں امام ذہبی  رحمہ اللہ ’’السیر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’آپ امام، سردار، باغ نبوت کے پھول،  آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے نواسے، جوان جنتیوں کے سردار، مشابہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عقل مند، فہیم، سخی، نیک سیرت، متقی، جاہ وشان والےابومحمد، قرشی، ہاشمی، مدنی اور شہید فی سبیل اللہ ہیں‘‘۔

 حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت 10 محرم الحرام سن 61ھ میدان کربلاء، عراق میں ہوئی۔

آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشن گوئی خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمائی تھی اور آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو اس کا شدید صدمہ اور غم بھی تھا۔   علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ، قَالَ: فَقَالَ:  هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا‘‘([17])

(میں ایک روز رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے پاس گیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی آنکھیں اشکبار تھیں میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ! کسی نے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو غصہ دلایا ہے کہ  آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی آنکھ مبارک کا روروکر یہ حال ہوا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: کیوں نہيں ابھی ابھی جبرئیل علیہ السلام میرے پاس سے گئے ہیں اور انہوں نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ  حسین رضی اللہ عنہ کو فرات کے کنارے قتل کردیا جائے گا اور کہا کہ اگر آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کہیں تو میں وہاں کی مٹی آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو سونگھا دوں؟ میں نے کہا: ہاں، پس انہوں نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا اور ایک مٹھی بھر مٹی پکڑی اور مجھے پکڑا دی۔ پس پھر میری آنکھیں قابو میں نہ رہیں اور آنسو بہہ نکلے)۔

 حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق امام ذہبی  رحمہ اللہ ’’السیر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’آپ رضی اللہ عنہ صاحب عزوشرف وکمال امام، نواساء رسول اور دنیا میں آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے پھول تھے‘‘۔

امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ ’’الاستیعاب‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ حسین بن علی رضی اللہ عنہما صاحب علم وفضل، دین دار، بکثرت روزے اور نوافل کےشائق اور حج کے دلدادہ تھے‘‘۔

شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے تعلق سے اہل سنت والجماعۃ نہ تو ناصبیوں کی طرح خوشیاں مناتے ہیں اور نہ ہی رافضیوں کی طرح ماتم کرتے ہیں۔ بلکہ انہیں جنت کے نوجوانوں کا سردار سمجھتے ہیں۔ نہ وہ رافضیوں کی طرح اس کے قائل ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خصوصاً خلفائے راشدین  و  امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مابین ایمان وکفر کی جنگیں، ظلم وستم اور حق غصب کرنا تھا۔ نہ صحابہ کی نعوذ باللہ تکفیر کرتے ہیں اور ان کے آپسی مشاجرات کے تعلق سے بھی اعتدال پر قائم ہیں اور انہیں مجتہدین تصور کرتے ہیں اور حکم باری تعالی اور فرامین نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی روشنی میں ان کے لیے ہمیشہ دعاءگو رہتے ہیں اور اس بارے میں بحث مباحثہ وجدال نہیں کرتے بلکہ سکوت اختیار کرتے ہیں۔ تفصیل کے لیے پڑھیں اہل سنت والجماعت کے عقائد پر لکھی گئی مشہور کتب جیسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کی کتاب منہاج السنۃ وغیرہ۔


[1] مسند احمد 1374، سلسلہ صحیحہ 2709۔

[2] صحیح بخاری 3542۔

[3] صحیح بخاری 3748۔

[4] مسند احمد 10281، سلسلہ صحیحہ 4002۔

[5] صحیح ترمذی 3774، صحیح ابی داود 1109، صحیح نسائی 1584۔

[6] صحیح بخاری 3474۔

[7] صحیح ترمذی 3769۔

[8] صحیح بخاری 3749، صحیح مسلم 2422۔

[9] صحیح ترمذی 3775۔

[10] صحیح بخاری 3753۔

[11] صحیح ترمذی 2060۔

[12] صحیح مسلم 2426۔

[13] صحیح مسلم 2406۔

[14] صحیح بخاری 2704۔

[15] صحیح ترمذی 3768۔

[16] صحیح ابن ماجہ 78۔

[17] مسند احمد 649، سلسلہ صحیحہ 3/159 ح  1171۔

ترجمہ و ترتیب

طارق بن علی بروہی