قیامت تک نصرت یافتہ اور غالب رہنے والی جماعت، اہل السنہ، اہل الحدیث، اہل الاثر ہیں۔
:معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا
لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ
میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی موجود رہے گی جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گی ، انہیں ضرر پہنچانےکی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر رہیں گے۔
(صحیح البخاری:3641)
عمرو بن شعیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ، معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا
أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا وَطَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلَا مَنْ نَصَرَهُمْ
:تمہارے علماء کہاں ہیں؟ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے
قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہو گی۔
(سنن ابن ماجه: 9)
:تشریح
اس امت کے سلف صالحین نے فرقۂ ناجیہ (الطائفۃ المنصورۃ) کی صفات و علامات بیان کی ہیں اور اپنی متعدد اقوال میں اس کا بار بار ذکر کیا ہے۔ امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا
میرے نزدیک اس سے مراد اہلِ حدیث ہیں۔
اس حدیث کو اپنی کتاب جامع میں روایت کرنے کے بعد امام ترمذی نے فرمایا:۔
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ البُخَارِيُّ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ المُدِينِي: هُمْ أَهْلُ الحَدِيثِ
محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ علی المدینی رحمہ اللہ (جو امام بخاری رحمہ اللہ کے معروف و مشہور استاد ہیں) نے فرمایا: وہ (جماعت) اہلِ حدیث ہے۔
: امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا
إِنْ لَمْ تَكُنْ هَذِهِ الطَّائِفَةُ الْمَنْصُورَةُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ فَلَا أَدْرِي مَنْ هُمْ
اگر یہ نصرت یافتہ جماعت اہلِ حدیث نہیں ہے، تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں۔
( 3 معرفة علوم الحدیث امام حاکم رحمہ اللہ، صفحہ )
:امام ابو عبداللہ الحاکم النیسابوری رحمہ اللہ (متوفیٰ 405ھ) نے اس قول کی شرح میں فرمایا
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کی بہترین وضاحت فرمائی ہے کہ وہ طائفہ منصورہ جسے قیامت تک کوئی دھوکہ دینے والا نقصان نہیں پہنچا سکے گا، وہ اہلِ حدیث ہیں۔
اور اس وصف کے زیادہ حق دار کون ہو سکتے ہیں؟ سوائے ان لوگوں کے جو نیک لوگوں کے راستے پر چلتے ہیں، پہلے گزرنے والے سلف کے آثار اور روایات کی پیروی کرتے ہیں، اور بدعتیوں اور مخالفین کا رد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ذریعے کرتے ہیں۔
(معرفة علوم الحدیث امام حاکم رحمہ اللہ، صفحہ30 )
:امام قاضی عیاض (متوفیٰ 544ھ) نے فرمایا
امام احمد رحمہ اللہ کی مراد اہلِ سنت والجماعت اور وہ تمام لوگ ہیں جو اہلِ حدیث کے منہج کی پیروی کرتے ہیں۔
(شرح صحیح مسلم امام نووی رحمہ اللہ، کتاب الامارہ، جلد 13، صفحہ 67۔)
:اسی وجہ سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے العقیدۃ الواسطیہ کے آغاز میں فرمایا
فَهَذَا اعْتِقَادُ الْفِرْقَةِ النَّاجِيَةِ الْمَنْصُورَةِ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ
پس یہ عقیدہ ہے اس نجات پانے والی اور نصرت یافتہ جماعت کا جو قیامت کے قائم ہونے تک باقی رہے گی، یعنی اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ۔
وَهُمْ – أَيْ: أَهْلُ السُّنَّةِ – الطَّائِفَةُ الْمَنْصُورَةُ الَّذِينَ قَالَ فِيهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورَةٌ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ وَلَا مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ
اور وہی ، یعنی اہلِ سنت ، وہ فرقۂ ناجیہ ہیں، جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، انہیں مدد حاصل رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے اور انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دینے والے انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔
:امام ابو حاتم الرازی (متوفیٰ 277ھ) نے فرمایا
مَذْهَبُنَا وَاخْتِيَارُنَا اتَّبَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَالتَّابِعِينَ وَالتَّمَسُّكُ بِمَذْهَبِ أَهْلِ الْأَثَرِ مِثْلِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
ہمارا مذہب اور ہمارا اختیار یہ ہے کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ اور تابعین کی پیروی کریں، اور اہلِ اثر کے منہج کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں، جیسے امام ابو عبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا طریقہ۔
وَعَلَامَةُ أَهْلِ الْبِدَعِ الْوَقِيعَةُ فِي أَهْلِ الْأَثَرِ وَعَلَامَةُ الزَّنَادِقَةِ تَسْمِيَتُهُمْ أَهْلَ السُّنَّةِ حَشَوِيَّةً يُرِيدُونَ إِبْطَالَ الْآثَارِ
اہلِ بدعت کی علامت یہ ہے کہ وہ اہلِ اثر پر طعن و تشنیع کرتے ہیں، اور زندیقوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہلِ سنت کو حشویہ کے نام سے پکارتے ہیں، تاکہ اس طرح وہ آثار (حدیث و سنت) کو باطل قرار دے سکیں۔
امام اللالکائی رحمہ اللہ نے اسے شرح اصول اعتقاد اہل السنہ والجماعہ، جلد 1، صفحہ 179–180 میں روایت کیا ہے۔