کیا جھاد کے لئے والدین کی اجازت ضروری ہے ؟
سوال: میں جہاد سے بے حد محبت کرتا ہوں، اس کی محبت میرے دل میں رچ بس گئی ہے اور میں اس کے بغیر صبر نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی والدہ سے اجازت طلب کی مگر انہوں نے اجازت نہ دی، اس پر میرا دل بہت متاثر ہوا ہے، اور میں جہاد سے
دور نہیں رہ سکتا۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور اسی میں شہید ہو جاؤں، لیکن والدہ راضی نہیں ہیں۔ مہربانی فرما کر مجھے صحیح راستہ بتائیے۔ ؟
جواب: تمہارا اپنی والدہ کی خدمت کرنا بھی ایک عظیم جہاد ہے۔ اپنی والدہ کے ساتھ رہو اور ان کے ساتھ نیکی کرو، سوائے اس کے کہ ولی الامر (حاکم وقت) تمہیں جہاد کا حکم دے، تو پھر جہاد کے لیے فوراً نکل جاؤ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
جب تمہیں نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکل پڑو۔
اور جب تک ولی الامر نے تمہیں جہاد کا حکم نہیں دیا، تم اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور ان پر رحم کرو۔ جان لو کہ والدہ کی خدمت کرنا بھی ایک عظیم جہاد ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جہاد پر مقدم رکھا ہے۔
جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: “یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔” پوچھا گیا: “پھر کون سا؟” فرمایا: “والدین کے ساتھ نیکی۔” پوچھا گیا: “پھر کون سا؟” فرمایا: “
اللہ کی راہ میں جہاد۔” (بخاری و مسلم)۔ پس آپ ﷺ نے والدین کے ساتھ نیکی کو جہاد پر مقدم کیا۔
اسی طرح ایک شخص جہاد کے لیے اجازت لینے آیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: “کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟” اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “ان ہی میں جہاد کرو۔” (بخاری و مسلم)۔
اور ایک اور روایت میں فرمایا: “واپس جاؤ اور ان سے اجازت لو اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو، ورنہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرو
لہٰذا اپنی والدہ پر رحم کرو اور ان کے ساتھ نیکی کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ خود راضی ہو جائیں۔ یہ سب کچھ جہادِ طلب (یعنی دشمن کے پاس جا کر لڑنے) کے بارے میں ہے جب کہ ولی الامر نے عام حکم نہ دیا ہو۔
البتہ اگر دشمن کا حملہ ہو جائے اور تم پر بلاوا آئے تو پھر اپنی جان اور اپنے مسلمانوں بھائیوں کی حفاظت کے لیے لڑنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر ولی الامر جہاد کا اعلان کرے اور سب کو نکلنے کا حکم دے تو پھر والدہ کی رضا مندی کے بغیر بھی نکلنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین کی طرف جھک جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ دنیا کا یہ فائدہ تو آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے۔ اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا، اور تم اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔” (التوبہ: 38-39)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تمہیں نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکل جاؤ۔” (بخاری و مسلم)
ماخوذ من فتاوی الشرعیہ فی القضایا العصریہ
مترجم محمد قاسم