اسلام کی فضیلت — امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ (حصہ 12) باب اسلام کی اجنبیت اور غرباء کی فضیلت کا بیان

باب 12

اسلام کی اجنبیت اور غرباء کی فضیلت کا بیان

 :شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے بیان کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد

 فَلَوۡلَا كَانَ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِن قَبۡلِكُمۡ أُو۟لُوا۟ بَقِیَّةࣲ یَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡفَسَادِ فِی ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا قَلِیلࣰا مِّمَّنۡ أَنجَیۡنَا مِنۡهُمۡۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِینَ ظَلَمُوا۟ مَاۤ أُتۡرِفُوا۟ فِیهِ وَكَانُوا۟ مُجۡرِمِینَ

پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی، ﻇالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وه گنہگار تھے۔

(سورۃ ھود :116)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

بَدَأَ الإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ

 اسلام کا آغاز اجنبی کی حیثیت سے ہوا اور عنقریب پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، خوش بختی ہے ، اجنبیوں کے لیے۔

(مسلم :145۔ابن ماجہ :3986،احمد :289\2)

 ابو خدیجہ حفظہ اللہ کا بیان 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “طوبیٰ غرباء کے لیے ہے۔” طوبیٰ جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت میں ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا

بلاشبہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو سال تک چلنے کے بعد بھی اسے طے نہیں کر سکے گا۔

(صحيح البخاری: 6552)

 إِنَّ الإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، كَمَا بَدَأَ وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا

اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا اور ابتدا کی طرح آخر میں اجنبی ٹھہرے گا، اور وہ دونوں مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل میں آ جاتا ہے۔

(صحیح مسلم:146)

کتاب کا متن

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: امام احمد رحمہ اللہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔

وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ

 غرباء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دئیے گئے ہوں۔

(سنن ابن ماجه: 3988)

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

الَّذِينَ يَصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ

وہ لوگ جو اس وقت اصلاح کرتے ہیں جب لوگ فساد کا شکار ہو جائیں۔

یہ الفاظ عبدالرحمن الاشجعی رضی اللہ عنہ سے مسند (4/73) میں مروی ہیں۔ اسی طرح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت منقول ہے، جسے ابوعمرو الدانی رحمہ اللہ نے السنن میں کتاب الفتن کے تحت (3/633، حدیث نمبر: 288) روایت کیا ہے۔اسی مفہوم کے یہ الفاظ متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنهم سے بھی مروی ہیں، جن میں سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ اس روایت کو طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر (6/164، حدیث نمبر: 5867)، المعجم الأوسط (3/250، حدیث نمبر: 3056)، اور المعجم الصغیر (1/183، حدیث نمبر: 290) میں روایت کیا ہے

امام احمد رحمہ اللہ نے (1/184) میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِي مِنْ سُنَّتِي

پس خوشخبری ہے ان غرباء کے لیے جو میری ان سنتوں کی اصلاح کریں گے جن کو لوگ بگاڑ چکے ہوں گے۔

(سنن ترمذى : 2630)

ابو اُمیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : آپ اس آیت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

انہوں نے فرمایا: کون سی آیت؟

میں نے عرض کیا : وہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمُ انْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَااهْتَدَيْتُمُ (سورة المائده : ۱۰۵)

اے ایمان والو! اپنی فکر کرو اگر تم راہ راست پر چلو گے تو جو گمراہ ہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہو گا ۔

 تو ابو ثعلبہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اس آیت کے بارے میں میں نے سب سے زیادہ جاننے والے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا۔

بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، فَعَلَيْكَ يَعْنِي بِنَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ وَزَادَنِي غَيْرُهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالَ: أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ

بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہو گا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا“ اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا۔

(سنن ابي داود: 4341)

امام ابن باز رحمہ اللہ کی شرح

اس باب میں مذکور احادیث اس بات کی ترغیب دیتی ہیں کہ جب اسلام اور سنت پر مضبوطی سے قائم رہنا لوگوں کی نظر میں اجنبیت کی بات بن جائے، تو ایسے حالات میں بھی انسان ثابت قدم رہے۔ مومن کے لیے ضروری ہے کہ ایسے زمانے میں، جب لوگوں کے درمیان حق اجنبی اور غیر مانوس ہو جائے، وہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ حق پر مضبوطی سے جما رہے۔ ہلاک ہونے والوں کی کثرت اسے ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے۔ اسی لیے ایک صحیح حدیث میں آتا ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو۔

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمُ انْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَااهْتَدَيْتُمُ (سورة المائده : ۱۰۵)

اے ایمان والو! اپنی فکر کرو اگر تم راہ راست پر چلو گے تو جو گمراہ ہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہو گا ۔

اور بلاشبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔

إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ لَا يُغَيِّرُونَهُ , أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ

جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عام عذاب نازل کر د ے۔

 (سنن ترمذی : 2168، سنن ابن ماجه: 4005)

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا

لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَااهْتَدَيْتُمُ

جو گمراہ ہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہو گا۔

پس ہدایت پر قائم رہنے کے تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے۔ جب تک اہلِ ایمان خود ہدایت پر قائم رہیں، ثابت قدم رہیں، نیکی کا حکم دیتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں، اس وقت تک گمراہ لوگوں کی گمراہی انہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں تو انہیں گمراہ لوگوں کی گمراہی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ سمجھ درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی ہدایت پر قائم رہنے کا حصہ ہے، بلکہ ہدایت کے اسباب میں سے ایک عظیم سبب ہے۔ اسی لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، جب آپ مسلمانوں کے خلیفہ بنے، لوگوں سے خطاب فرمایا اور وہ بات ارشاد فرمائی جسے ہم پہلے روایت کر چکے ہیں۔

اور اسی طرح، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 بلکہ تمہیں چاہیے کہ نیکی کا حکم دیے جاؤ اور برائی سے روکتے رہو حتیٰ کہ جب دیکھو کہ حرص اور بخیلی کی اتباع ہونے لگی ہے، لوگ خواہشات نفسانی کے درپے ہو گئے ہیں اور دنیا ہی کو ترجیح دینے لگے ہیں (آخرت کو بھول گئے ہیں) اور ہر رائے والا اپنی رائے اور بات ہی کو ترجیح دیتا ہے (اس پر خوش اور اصرار کرتا ہے) تو پھر اپنے آپ کو لازم پکڑ لو اور عوام کی فکر چھوڑ دو (دوسروں کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں دے گی)۔ بلاشبہ تمہارے بعد صبر کے دن آنے والے ہیں، ان میں (دین و شریعت پر) صبر کرنا (اس پر ثابت قدم رہنا) ایسے ہوگا جیسے آگ کا انگارہ پکڑنا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا،  اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا۔

اسے امام ابوداؤد (حدیث نمبر: 4341)، امام ترمذی (حدیث نمبر: 3058)، اور امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 4014) نے روایت کیا ہے۔علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ روایت ضعیف ہے، البتہ اس کا وہ حصہ جس میں آنے والے زمانے میں صبر کی ضرورت کا ذکر ہے، صحیح ہے۔

:کتاب کا متن

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا

ابن وضاح رحمہ اللہ نے بھی (حدیث نمبر: 205) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث اسی مفہوم کے ساتھ روایت کی ہے، البتہ اس کے الفاظ یہ ہیں

إِنَّ مِنْ بَعْدِكُمْ أَيَّامًا الصَّابِرُ فِيهَا المُتَمَسِكُ بِمِثْلِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ اليَوْمَ لَهُ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْهُمْ قَالَ بَلْ مِنْكُمْ

بے شک تمہارے بعد ایسے زمانے آئیں گے کہ ان میں جو شخص صبر سے کام لے گا اور اس دین کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا جس پر آج تم قائم ہو، اسے تم میں سے پچاس افراد کے برابر اجر عطا کیا جائے گا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ان میں سے پچاس افراد کے برابر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میں سے پچاس افراد کے برابر۔

(سلسله احاديث صحيحه: 3706)

پھر انہوں نے کہا: محمد بن سعید نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: اسد نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: سفیان بن عیینہ نے ہمیں اسلم البصری سے، انہوں نے سعید، جو حسن کے بھائی تھے، سے روایت بیان کی، اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا۔ میں نے سفیان سے پوچھا: “کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے؟” انہوں نے فرمایا: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّكُمْ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ مَا لَمْ ‌تَظْهَرْ ‌فِيكُمْ ‌سَكْرَتَانِ، سَكْرَةُ الْجَهْلِ، وَسَكْرَةُ حُبِّ الْعَيْشِ، وَأَنْتُمْ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ حُبُّ الدُّنْيَا فَلَا تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَا تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الْقَائِلُونَ يَوْمَئِذٍ بِالْكِتَابِ، وَالسُّنَّةِ كَالسَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ

بے شک آج تم اپنے رب کی طرف سے واضح ہدایت پر قائم ہو۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہو، اور ابھی تمہارے درمیان دو قسم کی مدہوشیاں ظاہر نہیں ہوئیں: جہالت کی مدہوشی اور دنیا کی محبت کی مدہوشی۔ پھر تمہارے بعد آنے والے لوگ اس راہ سے پھر جائیں گے۔ نہ وہ نیکی کا حکم دیں گے، نہ برائی سے روکیں گے، اور نہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ ان کے درمیان یہ دونوں مدہوشیاں ظاہر ہو جائیں گی۔ پس اس زمانے میں جو شخص کتاب اللہ اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا، اسے پچاس گنا اجر عطا کیا جائے گا۔ عرض کیا گیا: کیا ان کے پچاس افراد کے برابر اجر؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میں سے پچاس افراد کے برابر۔

ابن وضاح نے البدع والنهي عنها (حدیث نمبر: 305) میں، اور ابونعیم نے حلیۃ الأولیاء (8/49) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اسی مفہوم کی روایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

:اسی طرح انہوں نے اپنی سند کے ساتھ معافری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 طوبى للغرباء، الذين يمسكون بكتاب الله حين يترك، ويعملون بالسنة حين تطفأ

خوشخبری ہے ان اجنبیوں (غرباء) کے لیے ہے جو اس وقت کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں جب اسے چھوڑ دیا جائے، اور سنت پر اس وقت عمل کرتے ہیں جب اسے ترک کر دیا گیا ہو۔

 

امام ابن باز رحمہ اللہ کی شرح

یہی وہ غرباء (اجنبی لوگ) ہیں جو اس وقت اپنی اصلاح پر قائم رہتے ہیں جب لوگ فساد کا شکار ہو جائیں، اور لوگوں کی بگاڑ پیدا کی ہوئی حالت کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، اور اس وقت کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں جب لوگ اسے چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔

بَدَأَ الإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ

 اسلام کا آغاز اجنبی کی حیثیت سے ہوا اور عنقریب پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، خوش بختی ہے اجنبیوں کے لیے۔

(مسلم :145۔ابن ماجہ :3986،احمد :289\2)

غرباء وہ لوگ ہیں جو حق پر قائم رہتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہیں، اور جب ان کے زمانے میں فساد عام ہو جائے اور لوگ دین سے ہٹ کر گمراہی اور معصیت کی راہ اختیار کر لیں، تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

 مزید شرح از ابو خدیجہ حفظہ اللہ

امام احمد رحمہ اللہ نے المسند میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا

مَنْ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟

قَالَ:” أُنَاسٌ صَالِحُونَ، فِي أُنَاسِ سُوءٍ كَثِيرٍ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ

کسی نے پوچھا یا رسول اللہ!! غرباء سے کون لوگ مراد ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:برے لوگ کے تم جم غفیر میں تھوڑے سے نیک لوگ جن کی بات ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ نہ ماننے والوں کی تعداد ہو۔

ایک اور روایت میں ہے

الذین یصلحون إذا فسد الناس والذين يكثر من يبغضهم

یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی پیدا کردہ بگاڑ کی اصلاح کرتے ہیں، جبکہ ان سے نفرت کرنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

امام احمد اور امام طبرانی رحمہما اللہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ

قِيلَ: مَنْ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟

قَالَ: نَاسٌ صَالِحُونَ فِي نَاسِ سَوْءٍ كَثِيرٍ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ

خوشخبری ہے غرباء کے لئے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ!! غرباء سے کون لوگ مراد ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برے لوگوں کے جم غفیر میں تھوڑے سے نیک لوگ، جن کی بات ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ نہ ماننے والوں کی تعداد ہو۔

امام بربہاری رحمہ اللہ (متوفی 329ھ) نے اہل السنۃ والجماعۃ کے بارے میں فرمایا

وَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا يَزَالُ فِي النَّاسِ طَائِفَةٌ هُمْ أَهْلُ الْحَقِّ وَأَهْلُ السُّنَّةِ يَهْدِيهِمُ اللَّهُ وَبِهِمْ يَهْدِي غَيْرَهُمْ وَبِهِمْ يُحْيِي اللَّهُ السُّنَّةَ

اور جان لو کہ لوگوں میں ہمیشہ ایک جماعت موجود رہے گی جو اہلِ حق اور اہلِ سنت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے گا، ان کے ذریعے دوسروں کو ہدایت دے گا، اور انہی کے ذریعے سنت کو زندہ رکھے گا۔

یہی لوگ غرباء ہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت سے نوازا ہے، اور وہ حق اور سنت کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود بھی ہدایت عطا فرمائی ہے، اور وہ دوسروں کو بھی سنت اور اسلام کی تعلیم دے کر ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے دوسروں کو ہدایت عطا فرماتا ہے، اور انہی کے ذریعے سنت کو زندہ فرماتا ہے۔

اس باب سے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ کلام بھی ہے، جس میں انہوں نے حق کو واضح کرنے اور اس کے مقصد کو بیان کیا ہے۔

وأئمة السنة والجماعة وأهل العلم والإيمان: فيهم العلم والعدل والرحمة، فيعلمون الحق الذي يكونون به موافقين للسنة، سالمين من البدعة ، ويعدلون على من خرج عنها، ولو ظلمهم كما قال تعالى:

 يا أيها الذين آمنوا كونوا قوامين لله شهداء بالقسط ولا يجرمنكم شنآن قوم على ألا تعدلوا اعدلوا هو أقرب للتقوى ۔ المائدة: 8

ويرحمون الخلق فيريدون لهم الخير والهدى والعلم، لا يقصدون الشر لهم ابتداء، بل إذا عاقبوهم وبينوا خطأهم وجهلهم وظلمهم، كان قصدهم بذلك بيان الحق ورحمة الخلق، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، وأن يكون الدين كله لله، وأن تكون كلمة الله هـي العليا ۔ الرد على البكري” (ص/256 – 258) 

اہلِ سنت والجماعت کے ائمہ، اور علم و ایمان والے لوگ، علم، عدل اور رحمت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ حق کو جانتے ہیں، جس کے ذریعے وہ سنت کے موافق ہوتے ہیں اور بدعت سے محفوظ رہتے ہیں۔ اور جو شخص سنت سے ہٹ جائے، اس کے ساتھ بھی انصاف کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان پر ظلم ہی کیوں نہ کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

اللہ کے لیے مضبوطی سے قائم رہنے والے، انصاف کی گواہی دینے والے بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ (المائدۃ: 8)

وہ مخلوق پر رحم کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے خیر، ہدایت اور علم چاہتے ہیں۔ وہ ابتدا ہی سے ان کے لیے برائی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ انہیں سزا دیتے ہیں، یا ان کی غلطی، جہالت اور ظلم کو واضح کرتے ہیں، تو اس کا مقصد صرف حق کو واضح کرنا، مخلوق پر رحم کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، اور یہ ہوتا ہے کہ دین مکمل طور پر اللہ ہی کے لیے ہو جائے اور اللہ کا کلمہ ہی سب سے بلند ہو۔

پس یہ اجنبیت دوبارہ لوٹ آئے گی، لیکن اس مرتبہ اس کا سبب مسلمانوں کا نہ ہونا نہیں ہوگا۔

جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحیح حدیث میں فرمایا

قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا، تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے۔

(سنن ابي داود: 4297)

فأهل الإسلام في الناس غرباء ، والمؤمنون في أهل الإسلام غرباء ، وأهل العلم في المؤمنين غرباء 

وأهل السنة الذين يميزونها من الأهواء والبدع فهم غرباء ، والداعون إليها الصابرون على أذى المخالفين هم أشد هؤلاء غربة ، ولكن هؤلاء هم أهل الله حقا ، فلا غربة عليهم ، وإنما غربتهم بين الأكثرين ، الذين قال الله عز وجل فيهم :

وإن تطع أكثر من في الأرض يضلوك عن سبيل الله 

فأولئك هم الغرباء من الله ورسوله ودينه ، وغربتهم هي الغربة الموحشة ، وإن كانوا هم المعروفين المشار إليهم

لوگوں کے درمیان اہلِ اسلام اجنبی ہیں، اور اہلِ اسلام کے درمیان اہلِ ایمان اجنبی ہیں، اور اہلِ ایمان کے درمیان اہلِ علم اجنبی ہیں۔

اور اہلِ سنت، جو سنت کو خواہشاتِ نفس اور بدعات سے ممتاز کرتے ہیں، وہ بھی اجنبی ہیں۔ پھر ان میں بھی وہ لوگ، جو سنت کی دعوت دیتے ہیں اور مخالفین کی ایذا رسانیوں پر صبر کرتے ہیں، سب سے بڑھ کر اجنبی ہیں۔

لیکن حقیقت میں یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں، لہٰذا ان پر کوئی حقیقی اجنبیت نہیں۔ ان کی اجنبیت تو صرف لوگوں کی اکثریت کے درمیان ہے، جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا

اور اگر آپ زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مان لیں تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔

پس حقیقت میں یہی اکثریت اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین سے اجنبی ہے، اور انہی کی اجنبیت حقیقی اور وحشت والی اجنبیت ہے، اگرچہ لوگوں کے درمیان انہی کا چرچا ہو، انہی کی شہرت ہو، اور انہی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اُن بندوں میں شامل فرمائے جو غرباء ہیں۔ آمین۔