سلف صالحین کے منہج پر چالیس احادیث — ابو خدیجہ،عبد الواحد عالم ـ حدیث نمبر 6۔

سلف صالحین کا منہج: وہی سلف ہیں، اور ان کی پیروی کرنے والے سلفی ہیں۔

:عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ. قَالَ عِمْرَانُ: لَا أَدْرِي، أَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يَفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ

تم میں سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ (صحابہ) ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (تابعین) پھر وہ لوگ جو اس کے بھی بعد آئیں گے۔ (تبع تابعین) عمران نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زمانوں کا (اپنے بعد) ذکر فرمایا یا تین کا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو چور ہوں گے، جن میں دیانت کا نام نہ ہو گا۔ ان سے گواہی دینے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ لیکن وہ گواہیاں دیتے پھریں گے۔ نذریں مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے۔ مٹاپا ان میں عام ہو گا۔

 (صحيح البخاری: 2651)

:تشریح

:یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تائید کرتی ہے

كُنتُمۡ خَیۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗ

تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو

(سورۃ آل عمران:110)

یہ آیت پہلے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے، پھر ان لوگوں کے بارے میں جو ان اچھی صفات میں ان کی پیروی کرتے ہیں۔ اسی لیے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو اس نے قلب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انسانوں کے قلوب میں بہتر پایا، اس لیے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور ان کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا۔ پھر اس نے اس دل کے انتخاب کے بعدباقی بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی اوراصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلوب کو تمام انسانوں کے قلوب سے بہتر پایا، اس لیے اس نے انہیں اپنے نبی کے وزراء (اورساتھی) بنا دیا،جو اس کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔ پس مسلمان جس بات کو بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بہتر ہی ہوتی ہے اور مسلمان جس بات کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہی ہوتی ہے۔

اسناده حسن، الطبراني في الكبير: 8582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3600 ترقیم بيت الأفكار الدولية:  3600)

صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) بدعتوں اور گمراہی سے سب سے زیادہ روکنے والے تھے، اور سب سے بڑھ کر لوگوں کو اس راستے کی طرف بلانے والے تھے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑا تھا۔

:امام الدارمی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ عمرو بن سلمہ رحمہ اللہ نے فرمایا

        کہ ہم ظہر کی نماز سے پہلے  عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھا کرتے تھے، جب وہ (گھر سے) نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہوتے، ایک دن ہمارے پاس ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور پوچھا: کیا ابوعبدالرحمن (ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت) باہر نکلے؟ ہم نے کہا: نہیں ابھی تک تو نہیں نکلے، تو وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے، لہٰذا جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ باہر آئے تو ہم سب ان کے لئے کھڑے ہو گئے،  ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے ابھی ابھی مسجد میں ایسی بات دیکھی ہے جو مجھے ناگوار گزری ہے حالانکہ الحمد للہ وہ بہتر اور اچھی ہی ہو گی، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ کہا: آپ وہاں پہنچ کر خود دیکھ لیں گے، پھر کہا: میں نے وہاں کچھ لوگوں کی جماعت دیکھی جو حلقوں کی صورت میں بیٹھے نماز کا انتظار کر رہے ہیں، ہر حلقے میں ایک آدمی ہے اور ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں، وہ آدمی ان سے کہتا ہے: سو بار اللہ اکبر کہو تو وہ (ان کنکریوں کو گن کر) سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں، پھر وہ شخص کہتا ہے: سو بار لا إلٰہ إلا اللہ کہو تو (اس طرح) وہ سو بار لا إلٰہ إلا اللہ کہتے ہیں، وہ کہتا ہے: سو بار سبحان الله کہو تو وہ اس طرح سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں۔ عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر تم نے ان سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ کی رائے یا حکم کے انتظار میں ان سے کچھ نہیں کہا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے انہیں یہ حکم کیوں نہ دیا کہ ان کنکریوں سے وہ اپنے گناہ شمار کریں اور تم نے انہیں اس بات کی ضمانت دیدی کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ برباد نہ ہوا۔ پھر وہ چل پڑے، ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس آ کر وہ کھڑے ہوئے اور کہا: یہ میں تمہیں کیا کرتے دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! یہ کنکریاں ہیں ہم ان کے ذریعے تکبیر تہلیل اور تسبیح کی تعداد گنتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنی برائیاں گنو، تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہ ہو گا، اے امت محمد! تمہاری خرابی ہوئی، کتنی جلدی تم ہلاکت و بربادی میں پڑ گئے، ابھی تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ موجود ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی میلے نہیں ہوئے، نہ آپ کے برتن ٹوٹے ہیں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کیا تم ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت یافتہ ملت کے راستے پر ہو یا گمراہی و ضلالت کا دروازہ کھول رہے ہو۔ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمارا ارادہ صرف نیکی و بھلائی کا ہی تھا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسی بھلائی کے متلاشی کبھی بھلائی و نیکی حاصل نہ کر سکیں گے، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایک جماعت ہو گی جو قرآن پڑھے گی تو وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قسم اللہ کی ہو سکتا ہے ایسے اکثر لوگ تم ہی میں سے ہوں گے۔ پھر آپ ان کے پاس سے ہٹ گئے، عمرو بن سلمہ نے کہا: ہم نے ان حلقات کے عام آدمیوں کو دیکھا جو واقعہ نہروان کے دن خوارج کے ساتھ ہمیں پر تیر برسا رہے تھے (یعنی وہی لوگ خوارج کا ساتھ دے رہے تھے)۔

(سنن دارمي ،حدیث: 210)

پہلی تین نسلوں کے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریب تھے اور انہوں نے دین کو بالکل اسی طرح سمجھا اور اپنایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا۔ ان میں سب سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، پھر تابعین، اور پھر تبع تابعین۔

ان تینوں نسلوں کو مجموعی طور پر سلف صالحین کہا جاتا ہے، یعنی وہ نیک اور ابتدائی لوگ جنہوں نے دین کو صحیح طریقے سے سمجھا اور اس پر عمل کیا۔ اسی لیے ان کے طریقے کی پیروی کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

:امام مالک بن انس (رحمہ اللہ) نے فرمایا

لَنْ يَصْلُحَ آخِرُ هُذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا بِمَا صَلَحَ بِهِ أَوَّلُهَا فَمَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ دِينًا لَا يَكُونُ الْيَوْمَ دِينًا

اس اُمّت کے آخری حصے کی اصلاح نہیں ہو سکتی مگر اسی چیز کے ذریعے جو اس کے پہلے حصے کی اصلاح کرنے والی تھی۔ لہٰذا، جو چیز اُس وقت دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی۔

 یہ روایت امام مالک سے ثابت ہے۔ قاضی عیاض نے اسے اپنی کتاب الشِفاء (2/87-88) میں نقل کیا ہے۔ ابن تیمیہ نے اسے مجمع الفتاویٰ (1/353، 27/118) میں بیان کیا اور فرمایا کہ یہ روایت مالک رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ نیز، الشاطبی نے اسے اپنی کتاب الاعتصام (1/111) میں تھوڑے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔

:امام محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

سلف میں ایک بہت بڑے امام گزرے ہیں جو مسلمانوں کے ہاں معروف اور قابلِ اتباع ہیں، اور وہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ ہیں، جو مدینہ منورہ (دارالہجرت) کے امام تھے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔

امام مالک رحمہ اللہ نے ایک ایسا عظیم اور نہایت اہم قول فرمایا ہے جو گویا سونے سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ وہ فرماتے ہیں

جس شخص نے کسی بدعت کو اس خیال سے ایجاد کیا کہ وہ اچھی ہے، تو اس نے گویا یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذ باللہ) دین کو مکمل طور پر پہنچانے میں خیانت کی ہے۔

پھر امام مالک رحمہ اللہ اس بات کی تائید میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھتے تھے۔

   ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰاۚ

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔

(سورۃ المائدہ:3)

پھر انہوں نے اس کے بعد کچھ ایسے الفاظ کہے جو اس قرآنی آیت کے مفہوم کو مزید واضح کرتے ہیں، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا

فما لم يكن يومئذ دينا، لا يكون اليوم دينا

جو چیز اُس وقت (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے میں) دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔۔۔

یعنی اب دین میں کسی نئی چیز کے اضافے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ لہٰذا جو چیز اس وقت دین نہ تھی، وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔

اور یہ قول کہ: اس امت کے آخری حصے کی اصلاح صرف اسی چیز سے ہو سکتی ہے جس سے اس کے پہلے حصے کی اصلاح ہوئی تھی۔

اس امت کا آخری حصہ کون ہے؟ بلا شبہ ہم بھی اسی امت میں شامل ہیں۔ ہم اصلاح اور درستی کے خواہاں ہیں، اور ہم امت کی اصلاح چاہتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگ جو اپنے آپ کو مصلحین کہتے ہیں اور زمین پر اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ امام مالک رحمہ اللہ کے اس مدنی قول کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اس امت کے آخری حصے کی اصلاح صرف اسی چیز سے ہو سکتی ہے جس سے اس کے پہلے حصے کی اصلاح ہوئی تھی۔

اور اس امت کے پہلے حصے کی اصلاح کس چیز سے ہوئی تھی؟ بدعات سے یا سنت کی پیروی سے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ جواب ہر ایک کو معلوم ہے،حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی جو اچھی بدعت (بدعتِ حسنہ) کا نظریہ رکھتے ہیں، وہ بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس امت کے ابتدائی دور کی اصلاح صرف اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور سنت کی پیروی کے ذریعے ہوئی تھی۔

إِذًا فَلْيَكُونُوا مَعَنَا دَعْوَةً وَسُلُوكًا

پھر چاہیے کہ وہ (جو بدعتِ حسنہ کے قائل ہیں) دعوت اور سلوک دونوں میں ہمارے ساتھ ہوں۔

(سلسلہ الھدیٰ والنور: 214)

لہٰذا سلف کا مذہب ہی وہ صحیح مذہب ہے جس کی پیروی کرنی چاہیے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے

:فرمایا

لَا عَيْبَ عَلَى مَنْ أَظْهَرَ مَذْهَبَ السَّلَفِ وَانْتَسَبَ إِلَيْهِ وَاعْتَرَى إِلَيْهِ بَلْ يَجِبُ قَبُولُ ذلِكَ مِنْهُ بِالاتِّفَاقِ فَإِنَّ مَذْهَبَ السَّلَفِ لَا يَكُونُ إِلَّا حَقًّا۔

جو شخص سلف کے مذہب کو ظاہر کرے، اپنے آپ کو اسی سے منسوب کرے اور اسی سے وابستہ ہو جائے، اس پر کسی قسم کی ملامت نہیں۔ بلکہ اس کی یہ نسبت قبول کرنا لازم ہے، کیونکہ سلف کا مذہب حق کے سوا کچھ نہیں۔

(مجموع الفتاویٰ:4/149)

:ابو اسحاق الفزاری نے روایت کیا کہ امام الأوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا

اصْبِرْ نَفْسَكَ عَلَى السُّنَّةِ وَقِفْ حَيْثُ وَقَفَ القَوْمُ وَقُلْ بِمَا قَالُوا وَكُفَّ عَمَّا كَفُوا عَنْهُ وَاسْلُكْ سَبِيلَ سَلَفِكَ الصَّالِحِ فَإِنَّهُ يَسَعُكَ مَا وَسِعَهُمْ

سنت پر صبر کے ساتھ قائم رہو۔ جہاں تم سے پہلے لوگ رکے، تم بھی وہاں رک جاؤ۔ جس سے وہ بات کرتے تھے، تم بھی اسی سے بات کرو، اور جس سے وہ پرہیز کرتے تھے، تم بھی اس سے پرہیز کرو۔ اپنے سلف صالحین کے راستے کی پیروی کرو، کیونکہ جو ان کے لیے کافی تھا، وہ تمہارے لیے بھی کافی ہوگا۔

(یہ روایت اللالکائی نے اپنی کتاب شرح اصول اعتقاد اہل السنہ والجماعہ میں ذکر کیا۔)

:انہوں نے مزید فرمایا

عَلَيْكَ بِآثَارِ مَنْ سَلَفَ وَإِنْ رَفَضَكَ النَّاسُ وَإِيَّاكَ وَآرَاءِ الرِّجَالِ وَإِنْ زَخْرَفُوا لَكَ بِالْقَوْلِ

سلف کی روایات سے چمٹے رہو، چاہے لوگ تمہیں رد کریں اور لوگوں کی آراء سے بچو، چاہے وہ تمہارے لیے خوبصورت الفاظ سے مزین کی گئی ہوں۔

(الآجرّی (متوفیٰ 360هـ) نے کتاب الشريعہ، ص 58 (1/139) میں روایت کیا ہے۔)

:شیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے ان الفاظ کی شرح کرتے ہوئے فرمایا

اور لوگوں کی آراء سے بچو یعنی لوگوں کی ان آراء سے بچو جو محض عقل و رائے کی بنیاد پر پیش کی جاتی ہیں، اور جن کی تائید میں نہ اللہ کی کتاب سے کوئی دلیل ہو اور نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے۔

اگرچہ وہ اسے مزین کر دیں یعنی اگرچہ وہ اپنی بات کو خوش نما الفاظ میں ڈھال دیں اور اسے نہایت دلکش انداز میں پیش کریں، کیونکہ باطل اپنی آرائش و زیبائش اور خوش نما پیشکش کی وجہ سے حق نہیں بن جاتا۔

 (شرح لمعۃ الاعتقاد از شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ۔)

:شیخ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ نے امام اوزاعی رحمہ اللہ کے ان الفاظ کی شرح کرتے ہوئے فرمایا

اگرچہ وہ اپنی آراء کو خوش نما الفاظ کے ذریعے مزین کریں، اپنی گفتگو کو آراستہ کریں، اسے سجائیں سنواریں اور دلکش بنا کر پیش کریں، تب بھی ان سے اور ان کی باتوں سے ہوشیار رہو۔ کسی شخص کے اپنی رائے کو فصیح و بلیغ عبارتوں کے ذریعے مزین کر دینے کی وجہ سے سنت سے منہ نہ موڑو۔ سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور ان لوگوں کے طریقے کو بھی جو سنت کے حامل اور اس کے پیروکار ہیں، اگرچہ اہلِ سنت اپنی گفتگو کو نہ سنوارتے ہوں اور نہ اپنے کلام کو خوش نما بنانے کا اہتمام کرتے ہوں۔ کیونکہ اصل معیار سنت کی پیروی اور اس سے مضبوط وابستگی ہے۔ جو اس کی پیروی کرے گا وہی نجات پانے والا ہے، اور جو بدعت اختیار کرے گا وہی ہلاک ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ہلاکت کے راستوں سے محفوظ رکھے۔

 (شرح لمعۃ الاعتقاد، شیخ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ۔)

:امام دارقطنی رحمہ اللہ (متوفیٰ 385ھ) نے فرمایا

میرے نزدیک علمِ کلام سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں ہے۔

:امام ذہبی رحمہ اللہ (متوفیٰ 748ھ ) نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا

یہ شخص (دارقطنی) علمِ کلام اور دینی مناظروں میں کبھی مشغول نہیں ہوا، اور نہ ہی وہ ان امور میں پڑتا تھا۔ یقیناً وہ سلفی تھا۔

(سیر أعلام النبلاء للذہبی، 16/456۔)

امام ابن باز رحمہ اللہ (متوفیٰ 1420ھ ) سے الفرقة الناجية (نجات پانے والے گروہ) کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا

یہ سلفی ہیں، اور وہ تمام لوگ ہیں جو سلف صالحین کے منہج پر چلتے ہیں۔

(مجموع رسائل لإصلاح الفرد والمجتمع از محمد جمیل زینو، صفحہ 162۔)

:اور ان سے یہ بھی سوال کیا گیا

مَا تَقُولُ فِيمَنْ تَسَمَّى بِالسَّلَفِي وَالْأَثَرِي هَلْ هِيَ تَزْكِيَةٌ

آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو اپنے آپ کو سلفی اور أثری کہتا ہے؟ کیا یہ تزکیہ شمار ہوتا ہے؟

إِذَا كَانَ صَادِقًا أَنَّهُ أَثَرِيٌّ أَوْ أَنَّهُ سَلَفِيٌّ لَا بَأْسَ مِثْلَ مَا كَانَ السَّلَفُ يَقُولُونَ: «فُلَانٌ سَلَفِيٌّ فُلَانٌ أَثَرِيٌّ» – تَزْكِيَةٌ لَا بُدَّ مِنْهَا تَزْكِيَةً وَاجِبَةٌ

اگر وہ اس بات میں سچا ہے کہ وہ أثری یا سلفی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ سلف صالحین کہا کرتے تھے، فلاں سلفی ہے اور فلاں أثری ہے۔ اس طرح کی نسبت اور توصیف ضروری اور لازم ہے۔

(ماخوذ از آڈیو ‘حق المسلم’ سے ماخوذ، طائف، 16/1/1413ھ)

:علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا

هَلْ مَنْ تَسَمَّى بِالسَّلَفِيَّةِ يُعْتَبَرُ حِزْبِيًّا

کیا جو شخص اپنے آپ کو سلفی کہتا ہے، وہ حزبی شمار ہوتا ہے؟

:انہوں نے جواب دیا

التَّسَمِّى بِالسَّلَفِيَّةِ إِذَا كَانَ حَقِيقَةً لَا بَأْسَ بِهِ أَمَّا إِذَا كَانَ مُجَرَّدَ دَعْوًى فَإِنَّهُ لَا يُجَوِّزُ لَهُ أَنْ يَتَسَمَّى بِالسَّلَفِيَّةِ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ مَنْهَجِ السَّلَفِ.الأَشَاعِرَةُ مَثَلًا يَقُولُونَ : نَحْنُ أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ وَهَذَا غَيْرُ صَحِيحٍ لِأَنَّ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ لَيْسَ هُوَ مَنْهَجُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ

سلفیت کی نسبت اختیار کرنا اگر حقیقت پر مبنی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر یہ محض ایک دعویٰ ہو تو کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو سلفی کہے جبکہ وہ سلف کے منہج کے خلاف ہو۔

مثال کے طور پر اشاعرہ کہتے ہیں: ہم اہلِ سنت والجماعت ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں، کیونکہ جس منہج پر وہ ہیں وہ اہلِ سنت والجماعت کا منہج نہیں ہے۔

(الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة، صفحہ 16۔)

اللہ ہم سب کو ہلاکت کے راستوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں سیدھے راستے پر ثابت قدم رکھے۔