بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
باب:13
بدعات پر تنبیہ
:شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے بیان کیا ، عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ. قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كَأَنَّهَا مَوْعِظَةٌ مُوَدّعٍ فَأَوْصِنَا. قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ. وَإِنَّهُ مَنْ يَعِشُ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي عَضُوا عَلَيْهَا بِالتَّوَاجِدِ. وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہایت مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے ہمارے دل کانپ اٹھے اور ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ کی الوداعی نصیحت ہے، لہٰذا ہمیں وصیت فرمائیے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے تقویٰ اختیار کرنے، اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر ایک غلام ہی حکمران مقرر کیا جائے۔
تم میں سے جو لوگ میرے بعد طویل عرصے تک زندہ رہیں گے، وہ بہت سے اختلافات دیکھیں گے۔ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اسے اپنی داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لو۔ اور دین میں نئے پیدا کیے گئے امور سے بچو، کیونکہ بے شک ہر بدعت گمراہی ہے۔
ابو داؤد (4607)، ترمذی (2676)، ابن ماجہ (24)، احمد، المسند (4/126)، حاکم (328-333)؛ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
:حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا
كُلُّ عِبَادَةٍ لَا يَتَعَبَّدُهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَلَا تَتَعَبَّدُوهَا فَإِنَّ الْأَوَّلَ لَمْ يَدَعْ لِلْآخِرِ مَقَالًا فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ وَخُذُوا طَرِيقَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ
عبادت کا ہر وہ عمل جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں، تم بھی اسے نہ کرو، کیونکہ جو بات پہلے لوگوں نے چھوڑ دی، وہ بعد میں آنے والوں کے لیے بھی باقی نہیں چھوڑی گئی۔ پس اے اہلِ قرآن و علم! اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں کے طریقے کو اختیار کرو جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔
اللالکائی، (1/95، حدیث نمبر: 119)۔)
تشریح از ابو خدیجہ عبد الواحد
:امام شاطبی رحمہ اللہ (متوفیٰ 790ھ) نے اپنی کتاب الاعتصام میں ایک باب قائم کیا ہے، جس کا عنوان ہے
بدعات اور ان کے پیروکاروں کی مذمت کے بارے میں سلف صالحین، یعنی صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم، سے منقول اقوال و روایات۔
:اس کے بعد انہوں نے متعدد روایات نقل کی ہیں، جن میں سے ایک روایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے
أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ سُنَّتْ لَكُمُ السُّنَنُ. وَفُرِضَتْ لَكُمُ الْفَرَائِضُ. وَتُرِكْتُمْ عَلَى الْوَاضِحَةِ. إِلَّا أَنْ تَضِلُّوا بِالنَّاسِ يَمِينًا وَشِمَالًا» . وَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى”. ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ» . أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ. فَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: زَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى لَكَتَبْتُهَا – الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ
اے لوگو! تمہارے لیے سنت مقرر کر دی گئی ہے، اور تم پر فرائض قائم کر دیے گئے ہیں، اور تمہیں واضح راستے پر چھوڑا گیا ہے، اس کے باوجود تم لوگوں کے ساتھ دائیں اور بائیں بھٹکتے پھرتے ہو۔
:پھر انہوں نے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا
خبردار! کہیں تم رجم کی آیت سے ہٹ کر گمراہی کا شکار نہ ہو جاؤ، یہاں تک کہ کوئی شخص یہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کی کتاب میں یہ سزا نہیں ملتی۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کرنے والوں کو رجم کیا تھا، اور ہم بھی انہیں رجم کریں گے۔
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں اس میں یہ لکھ دیتا: شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت کو رجم کیا جائے۔
(الموطأ امام مالک، ص 824، 241، صحیح سند کے ساتھ؛ نیز امام بخاری، صحیح البخاری، حدیث نمبر 6829۔)
ایک روایت میں ہے کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور لوگوں کی ایک مجلس کے پاس جا کر رک گئے، تو انہوں نے فرمایا
يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ، اسْتَقِيمُوا فَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِيدًا، فَإِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا
اے قرآن و حدیث پڑھنے والو! تم اگر قرآن و حدیث پر نہ جمو گے، ادھر ادھر دائیں بائیں راستہ لو گے تو بھی گمراہ ہو گے بہت ہی بڑے گمراہ۔
[صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7282]
:ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا
سلف صالحین اہلِ بدعت سے دور رہتے اور ان کی مجالس سے بھی اجتناب کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنی بدعت سے باز آ جاتے، توبہ کرتے اور حق کی طرف رجوع کر لیتے۔
امام بغوی رحمہ اللہ (متوفیٰ 535ھ) نے شرح السنۃ (1/227) میں تین صحابۂ کرام، کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم، کے واقعے کی شرح کرتے ہوئے فرمایا۔
صحابۂ کرام، تابعین، پھر ان کے بعد آنے والوں اور ائمہ سنت کے اقوال پہلے گزر چکے ہیں کہ وہ اہلِ بدعت سے عداوت رکھنے اور ان سے قطع تعلق کرنے پر متفق تھے۔
:امام اللالکائی نے اپنی سند کے ساتھ ثابت بن عجلان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، جنہوں نے فرمایا
أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَابْنَ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ وَسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ وَالشَّعْبِيَّ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ وَعَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَطَاوُسًا وَمُجَاهِدًا وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَالزُّهْرِئَ وَمَكْحُولًا وَالْقَاسِمَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَطَاءُ الْخُرَاسَانِي وَثَابِنَا الْبُنَانِي وَالْحَكَمَ بْنَ عُتْبَةَ وَأَيُّوبَ السِّخْتِيَانِي وَحَمَادًا وَمُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ وَأَبَا عَامِرٍ – وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ – وَيَزِيدَ الرَّقَاشِيَ وَسُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى كُلُّهُمْ يَأْمُرُونَنِي فِي الْجَمَاعَةِ وَيَنْهَوْنَنِي عَنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ
میں نے انس بن مالک، ابن المسیب، حسن بصری، سعید بن جبیر، شعبی، ابراہیم نخعی، عطاء بن ابی رباح، طاؤس، مجاہد، عبداللہ بن ابی ملیکہ، زہری، مکحول، قاسم ابو عبدالرحمن، عطاء خراسانی، ثابت بنانی، حکم بن عتبہ، ایوب سختیانی، حماد، محمد بن سیرین، ابو عامر،اور انہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی پایا تھا، یزید رقاشی اور سلیمان بن موسیٰ کو پایا ہے۔ یہ تمام حضرات مجھے جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کی تاکید کرتے اور اہلِ اہواء سے دور رہنے کا حکم دیتے تھے۔
:امام الأوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا
اصْبِرْ نَفْسَكَ عَلَى السُّنَّةِ وَقِفْ حَيْثُ وَقَفَ القَوْمُ وَقُلْ بِمَا قَالُوا وَكُفَّ عَمَّا كَفُوا عَنْهُ وَاسْلُكْ سَبِيلَ سَلَفِكَ الصَّالِحِ فَإِنَّهُ يَسَعُكَ مَا وَسِعَهُمْ
سنت پر صبر کے ساتھ قائم رہو۔ جہاں تم سے پہلے لوگ رکے، تم بھی وہاں رک جاؤ۔ جس سے وہ بات کرتے تھے، تم بھی اسی سے بات کرو، اور جس سے وہ پرہیز کرتے تھے، تم بھی اس سے پرہیز کرو۔ اپنے سلف صالحین کے راستے کی پیروی کرو، کیونکہ جو ان کے لیے کافی تھا، وہ تمہارے لیے بھی کافی ہوگا۔
یہ روایت اللالکائی نے اپنی کتاب شرح اصول اعتقاد اہل السنہ والجماعہ میں ذکر کیا۔
:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا
اتَّبِعوا ولا تبتدِعوا، فقد كُفِيتُم، وكلُّ بدعةٍ ضلالةٌ
اتباع کرو اور بدعت ایجاد نہ کرو، کیونکہ تمہیں کافی کر دیا گیا ہے (یعنی شریعت میں کافی راہنمائی عطا کر دی گئی ہے)، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(اسے امام دارمی نے حدیث نمبر 205، ابن وضّاح نے حدیث نمبر 17، اور ابن نصر نے السنۃ میں حدیث نمبر 28 پر روایت کیا ہے۔)
ابو العالیہ رحمہ اللہ (متوفیٰ 90 ھ) نے بیان کیا۔
عَلَيْكُمْ بِالْأَمْرِ الْأَوَّلِ الَّذِي كَانُوا عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا
تم اسی طریقے پر قائم رہو جس پر لوگ ابتدا میں قائم تھے، اس سے پہلے کہ وہ اختلاف کرکے الگ الگ ہو گئے۔
( تلبیس ابلیس، از ابن الجوزی، ص 11۔)
کتاب کا متن
:شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں حکم بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن یحییٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا
ہم ظہر کی نماز سے پہلے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھا کرتے تھے، جب وہ (گھر سے) نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہوتے۔
ایک دن ہمارے پاس ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور پوچھا: کیا ابوعبدالرحمن ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت) باہر نکلے؟ ہم نے کہا: نہیں ابھی تک تو نہیں نکلے، تو وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے، لہٰذا جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ باہر آئے تو ہم سب ان کے لئے کھڑے ہو گئے، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے ابھی ابھی مسجد میں ایسی بات دیکھی ہے جو مجھے ناگوار گزری ہے حالانکہ الحمد للہ وہ بہتر اور اچھی ہی ہو گی۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ کہا: آپ وہاں پہنچ کر خود دیکھ لیں گے، پھر کہا: میں نے وہاں کچھ لوگوں کی جماعت دیکھی جو حلقوں کی صورت میں بیٹھے نماز کا انتظار کر رہے ہیں، ہر حلقے میں ایک آدمی ہے اور ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں، وہ آدمی ان سے کہتا ہے: سو بار اللہ اکبر کہو تو وہ (ان کنکریوں کو گن کر) سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں، پھر وہ شخص کہتا ہے: سو بار لا إلٰہ إلا اللہ کہو تو (اس طرح) وہ سو بار لا إلٰہ إلا اللہ کہتے ہیں، وہ کہتا ہے: سو بار سبحان الله کہو تو وہ اس طرح سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں۔
عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر تم نے ان سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ کی رائے یا حکم کے انتظار میں ان سے کچھ نہیں کہا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے انہیں یہ حکم کیوں نہ دیا کہ ان کنکریوں سے وہ اپنے گناہ شمار کریں اور تم نے انہیں اس بات کی ضمانت دیدی کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ برباد نہ ہوا۔
پھر وہ چل پڑے، ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس آ کر وہ کھڑے ہوئے اور کہا: یہ میں تمہیں کیا کرتے دیکھ رہا ہوں؟
انہوں نے کہا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَصًا نَعُدُّ بِهِ التَّكْبِيرَ، وَالتَّهْلِيلَ، وَالتَّسْبِيحَ
:ابوعبدالرحمٰن! یہ کنکریاں ہیں ہم ان کے ذریعے تکبیر تہلیل اور تسبیح کی تعداد گنتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا
فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ، فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ، وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ! هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ، وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ، أَوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ
تم اپنی برائیاں گنو، تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہ ہو گا، اے امت محمد! تمہاری خرابی ہوئی، کتنی جلدی تم ہلاکت و بربادی میں پڑ گئے، ابھی تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ موجود ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی میلے نہیں ہوئے، نہ آپ کے برتن ٹوٹے ہیں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کیا تم ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت یافتہ ملت کے راستے پر ہو یا گمراہی و ضلالت کا دروازہ کھول رہے ہو۔
:انہوں نے کہا
وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ
:اے ابوعبدالرحمٰن! ہمارا ارادہ صرف نیکی و بھلائی کا ہی تھا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا
وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ قَوْمًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ
ایسی بھلائی کے متلاشی کبھی بھلائی و نیکی حاصل نہ کر سکیں گے، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایک جماعت ہو گی جو قرآن پڑھے گی تو وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قسم اللہ کی ہو سکتا ہے ایسے اکثر لوگ تم ہی میں سے ہوں گے۔ پھر آپ ان کے پاس سے ہٹ گئے، عمرو بن سلمہ نے کہا: ہم نے ان حلقات کے عام آدمیوں کو دیکھا جو واقعہ نہروان کے دن خوارج کے ساتھ ہمیں پر تیر برسا رہے تھے (یعنی وہی لوگ خوارج کا ساتھ دے رہے تھے)۔
دارمی، 210، ابن ابی شیبہ، المصنف، 19736، طبرانی، المعجم الکبیر، 8636، البانی نے اسے صحیح قرار دیا، السلسلۃالصحیحۃ 2005۔
(فہم و مطالعہ میں آسانی کے لیے معمولی ترمیم کے ساتھ۔) امام ابن باز رحمہ اللہ کی شرح
اس باب میں بدعات سے خبردار کیا گیا ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ اہلِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ بدعات سے بچیں۔ اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خبردار! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدعت سے خبردار کرتے ہوئے لوگوں کو نصیحت فرما رہے تھے ۔
:عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ” أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے (آخری بار) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، (حکمران کی بات) سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ (تمہارا حاکم اور امیر) ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ (امت کے اندر) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم (باقی رہنے والوں) کو میری وصیت ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ اسے ابو داؤد (4607)، ترمذی (2676)، ابن ماجہ (24)، احمد نے المسند (4/126)، اور حاکم نے (328-333) روایت کیا ہے، اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے (1/95-97)، جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اہلِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ ان امور کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مشروع فرمائے ہیں، اور ان بدعات سے بچیں جو لوگوں نے دین میں اپنی طرف سے ایجاد کر لی ہیں۔ اسی وجہ سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
كُلُّ عِبَادَةٍ لَا يَتَعَبَّدُهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَلَا تَتَعَبَّدُوهَا فَإِنَّ الْأَوَّلَ لَمْ يَدَعُ لِلْآخِرِ مَقَالًا فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ وَخُذُوا طَرِيقَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ
عبادت کا ہر وہ عمل جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل نہیں کیا، تم بھی اسے نہ کرو، کیونکہ پہلے لوگوں نے بعد میں آنے والوں کے لیے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ پس اے اہلِ قرآن و علم! اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں کے طریقے کو اختیار کرو جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔
اللالکائی، (1/95، حدیث نمبر: 119)۔)
یہ اس لیے ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تمام امور کو واضح کر دیا تھا، اور وہ ہر معاملے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کرتے تھے۔ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ سر تسلیم خم کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج پر گامزن رہو۔
اور جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مسجد میں لوگوں کو حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے دیکھا، کہ ہر حلقے میں ایک شخص انہیں کنکریوں کے ذریعے شمار کرتے ہوئے سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کا حکم دے رہا تھا، تو انہوں نے ان سے کہا
یا تو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے زیادہ ہدایت والے دین پر ہو، یا تم نے گمراہی کا ایک دروازہ کھول دیا ہے۔
:پھر انہوں نے فرمایا
’’!تم اپنے گناہوں کو شمار کرو! اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی‘‘
ان کا یہ عمل بدعات میں سے تھا، اور یہ بھی ان امور میں سے ہے جو مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، جہاں ہر گروہ اپنے پیروکاروں سے کہتا ہے: یہ کام کرو، وہ کام کرو۔
لہٰذا خیر خواہی کے ساتھ نصیحت کرنا واجب ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔
رہی بات حلقوں میں بیٹھنے، کنکریوں سے شمار کرنے اور اسی طریقے سے انہیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کا حکم دینے کی، تو یہ بدعات میں سے ہے۔
:اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبوں میں فرمایا کرتے تھے
أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
حمد و ثنا کے بعد: بے شک سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور سب سے بدترین امور وہ ہیں جو دین میں نئے ایجاد کیے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(صحیح مسلم:867،ابن ماجہ :44)
رہے وہ امور جو لوگوں نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی غرض سے ایجاد کیے ہیں، تو وہ بدعت ہی ہیں۔ پس بدعت سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جن کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کی مشروعیت نہیں دی۔ یہی بدعت کہلاتی ہے۔اس سے خبردار کرنا واجب ہے، اور اسے بے بنیاد تقسیمات کے ذریعے درست ثابت کرنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ تمام بدعات گمراہی ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ دعویٰ کہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں، تو یہ باطل دعویٰ ہے۔
درست بات یہ ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور بدعت سے مراد وہ تمام امور ہیں جنہیں لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اختیار کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مشروع نہیں کیا۔
جیسا کہ وہ عمل جسے لوگ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کیا کرتے تھے۔ اسی طرح دیگر ایسے امور بھی ہیں جنہیں لوگوں نے اپنی طرف سے دین میں ایجاد کر لیا، مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں جشن منانا، یا قبروں پر عمارتیں اور مزارات تعمیر کرنا، یا قبروں پر مسجدیں بنانا، یا قبروں کو عبادت کی جگہیں بنانا، یا قبروں پر پختہ تعمیر کرنا اور ان پر تحریریں نقش کرنا وغیرہ۔
یہ سب وہ بدعات ہیں جنہیں لوگوں نے قرآن و سنت کی کسی دلیل کے بغیر دین میں داخل کیا ہے۔ لہٰذا ان امور سے خبردار کرنا واجب ہے۔ مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ دین اور عبادت کے معاملات میں خود کو ان امور تک محدود رکھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مشروع قرار دیا ہے، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے سیکھا اور آگے پہنچایا ہے۔ اور اس بات سے بچے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مشروع کیا ہے، اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل فرما دیا ہے، لہٰذا کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس میں کوئی اضافہ کرے۔
:اللہ تعالیٰ، جو بزرگ و برتر ہے، نے فرمایا
ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰاۚ
آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
(سورۃ المائدہ:3)
ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے راہنما محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر فرشتوں کی بلند ترین جماعت میں بلند فرمائے، نیز آپ کی آل اور صحابۂ کرام پر بھی اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔
کتاب مکمل ہوئی۔