بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر  درود و سلام نازل فرمائے،ملإ اعلٰى میں اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت، آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اُن تمام لوگوں پر جو قیامت کے دن تک اخلاص کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے رہیں۔

یہ مضمون اس مقصد کے تحت لکھا گیا ہے کہ دہشت گردی کے باطل نظریات کا علمی اور شرعی انداز میں ازالہ کیا جائے۔ اہلِ سنت والجماعت، اہلِ حدیث یعنی سلفی علما دہشت گردوں، فتنہ انگیزوں، انقلابیوں اور بغاوت کرنے والوں کو خوارج کے گروہ سے شمار کرتے ہیں۔ یہ فرقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں ظاہر ہوا؛ انہوں نے سازشیں کیں اور خلیفہ عثمان و علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا۔ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں کے شوہر تھے۔ خوارج نے مسلمانوں کے حکمرانوں اور معاشروں کے خلاف بغاوت کی، انہیں گناہگار، فاسق اور شریعت سے خارج قرار دیا۔ انہوں نے ان تمام مسلمانوں کی تکفیر کی جو ان کے انتہا پسند نظریات سے اتفاق نہیں کرتے تھے، اور انہیں کافر و مرتد کہا۔

شریعت میں بغیر واضح اور قطعی دلیل کے کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا بڑا گناہ اور عقیدے سے انحراف ہے۔ میں نصوصی طرز اس لیے اختیار کرتا ہوں کہ انتہاپسند اور دہشت گرد اپنے باطل اعمال کے لیے قرآن و سنت سے دلائل کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ میں ان نام نہاد محققین اور صحافیوں کے اس جھوٹ کو بھی بے نقاب کرنا چاہتا ہوں جو اسلام کو تشدد پر اُکسانے والا مذہب قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی تفسیر، سنتِ نبوی، سیرتِ رسول اور ابتدائی علما کے عقائد و منهج سے ناواقف ہیں۔

پھر کوئی شخص اس بنیادی علم کے بغیر اسلام کو انتہا پسند مذہب کیسے کہہ سکتا ہے؟

جہاد کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ نصوص کو سلف صالحین کی تعلیمات کی روشنی میں پڑھا جائے۔ مثلاً اکثر لوگ نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں ہی “عظیم جہاد” کا حکم دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں تیرہ برس گزارے، لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور قرآن و سنت کے ذریعے شرک کا رد کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا

فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ وَجَـٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادࣰا كَبِیرࣰا 

پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں

 (الفرقان: 52)

 یہ جہاد تلوار کے ساتھ نہیں تھا کیونکہ اس وقت قتال کی اجازت نہیں ملی تھی۔ مدینہ ہجرت کے بعد جب اسلامی ریاست قائم ہو گئی، تب قتال کی اجازت دی گئی۔ لہٰذا مکہ کے دور میں جہاد کا مطلب باطل کے خلاف قرآن کے ذریعے حجت قائم کرنا تھا۔ مسلمان سیرت اور سنت کو اس لیے سیکھتے ہیں کہ جب حالات ویسے ہوں تو وہ ان پر عمل کر سکیں۔ جب انتہاپسند رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں تو وہ گمراہی میں اندھے ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا 

وَمَن یُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَیَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیلِ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا  

جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔

(النساء: 115)


دہشت گرد، بغاوت کرنے والے اور حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے والے یہ سب خوارج ہیں، جنہیں دین اور اس کی تعلیمات کی کوئی پرواہ نہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا

خوارج مسلمانوں کے لیے دیگر تمام لوگوں سے زیادہ نقصان دہ ہیں، اور مسلمانوں کے لیے ان سے بڑھ کر کوئی شریر نہیں نہ یہودی اور نہ ہی عیسائی۔ وہ ہر اُس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے جو ان کے نظریات سے اتفاق نہ کرے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خون کو بہانا، ان کے مال و دولت کو لوٹنا، اور ان کے بچوں کو قتل کرنا جائز قرار دیا، اور انہیں کافر ٹھہرایا۔ خوارج نے اپنی شدید جہالت اور گمراہ بدعت کی وجہ سے اسی راہ کو اپنا دین بنا لیا۔

(منہاج السنۃ، جلد ۵، صفحہ ۲۴۸)

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کا ہدف صرف غیر مسلم ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اصل میں خوارج کی زیادہ تر کاروائیاں مسلمانوں کے خلاف ہی ہوتی ہیں، اور کبھی کبھار وہ غیر مسلموں پر بھی حملہ کرتے ہیں۔اسی لیے دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات مسلم ممالک میں پیش آتے ہیں۔ ان خوارج کا اصل مقصد اقتدار پر قبضہ کرکے اپنی خود ساختہ، گمراہ فرقہ واریت کو “دین” کے نام پر نافذ کرنا ہوتا ہے۔

مشہور محدث، مفسر، مؤرخ اور سیرت نگار امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ (م ۷۷۴ھ) فرماتے ہیں

اگر خوارج کو کبھی اقتدار مل جائے، تو وہ ساری زمین کو فساد سے بھر دیں گے  عراق اور شام تک کو تباہ کر ڈالیں گے۔ وہ کسی بچے، مرد یا عورت کو زندہ نہ چھوڑیں گے، کیونکہ ان کے نزدیک زمین کی اصلاح صرف قتلِ عام سے ہی ممکن ہے۔ آج یہی سوچ اور یہی فتنہ داعش، القاعدہ، النصرہ فرنٹ اور دیگر انتہا پسند گروہوں میں زندہ نظر آتا ہے، جو اسلام کے نام پر مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ اصلاح صرف لوگوں کے مرنے سے ممکن ہے۔ خوارج کے قتل عام کا گناہ عام گناہگاروں جیسے چوروں یا منشیات فروشوں سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ عام گناہگار تو قتل کو حرام سمجھتے ہیں، لیکن خوارج یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے حکم سے یہ سب کر رہے ہیں، اور اپنے ان اعمال پر آخرت میں اجر کے امیدوار ہوتے ہیں۔

(البدایہ والنہایہ 10/584)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث خوارج کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔

ابو غالب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں فرمایا
یہ آسمان کے نیچے سب سے بدترین قاتل ہیں، اور جنہیں یہ قتل کریں، وہ سب سے بہترین لوگ ہیں۔یہ دوزخ کے کتے ہیں۔ یہ پہلے مسلمان تھے، مگر پھر کافر بن گئے۔ابو غالب نے پوچھا: “اے ابو امامہ! کیا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے۔

(سنن ابن ماجہ، حدیث 181 ، حدیث حسن)

ابو غالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں

 ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر (حروراء کے مقتول خوارج کے) سر لٹکتے ہوئے دیکھے، تو کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے سایہ تلے بدترین مقتول ہیں جب کہ بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت

 یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ 

(سورۃ آل عمران :106)جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہو جائیں گے

پڑھی میں نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟انہوں نے کہا: میں نے اسے اگر ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار یہاں تک انہوں نے سات بار گنا،نہ سنا ہوتا تو تم لوگوں سے میں اسے نہ بیان کرتا۔ 

(یہ حدیث امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کی ہے، حدیث نمبر 3270، اور اسے حسن قرار دیا ہے۔) 

دہشت گرد، باغی اور انتہا پسند اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑتے ہیں، پھر ان باتوں کو اسلام کے نام پر پیش کرتے ہیں۔

سادہ لوح اور ناسمجھ مسلمان، یا وہ مخلص لوگ جو حقیقت سے ناواقف ہیں، یا نئے مسلمان، یا وہ نوجوان جو اپنی جوانی کا زیادہ حصہ گناہوں، نشہ اور گلی محلوں کی زندگی میں گزار چکے ہیں  انہی کو انتہا پسند اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا

خوارج ایک بدترین گروہ ہیں، میں زمین پر ان سے زیادہ برے لوگوں کو نہیں جانتا۔

(السُّنَّہ لِلْخَلّال)

امام الآجُرّی رحمہ اللہ (م ۳۶۰ھ) فرماتے ہیں

“نہ قدیم علما میں، نہ ہمارے زمانے کے علما میں کسی نے خوارج کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ سب نے انہیں بدکار اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان قرار دیا ہے اگرچہ وہ نماز پڑھتے، روزے رکھتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے، مگر ان کی یہ عبادت ان کے کسی کام نہ آئی۔وہ بظاہر نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے، مگر ان کا یہ عمل ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہ ہوا، کیونکہ وہ قرآنِ کریم کی آیات کی تفسیر اپنی خواہشات کے مطابق کرتے تھے۔

  کتاب الشریعہ از امام الآجُرّی رحمہ اللہ باب: خوارج کی برائی، ان کے قتل کی اجازت اور انہیں قتل  کرنے والے کے اجر کا بیان۔

(جلد 1، صفحہ 325)

درحقیقت وہ نیکی کا حکم نہیں دیتے، بلکہ برائی کو نیکی سمجھ کر پھیلاتے ہیں۔ وہ بے گناہوں کو قتل کرتے ہیں، املاک کو تباہ کرتے ہیں، اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔  شیخ عبدالمحسن العباد (مدینہ منورہ کے كبار علما میں سے) نے پندرہ سال قبل، جب انہی شدت پسندوں نے سعودی عرب میں مسلمانوں اور غیر ملکیوں کو قتل کیا تھا، فرمایا: جو کچھ ریاض میں خودکش دھماکوں، شہروں میں تباہی اور اسی سال (2003) کے اوائل میں مکہ و مدینہ میں ملے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کے حوالے سے پیش آیا، وہ سب انہی شدت پسندوں کا نتیجہ ہے جو شیطان کے فریب میں آ کر حد سے بڑھ جانا انہیں حسین دکھایا گیا۔ یہ واقعات زمین میں فساد پھیلانے اور سب سے ذلت آمیز جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ تو کس عقل اور کس دین کے نام پر خودکش حملے، مسلمانوں کا قتل، معاہدوں کے تحت حفاظت میں رہنے والے غیر مسلموں کا قتل، امن و امان کو برباد کرنا، عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنانا، اور عمارتوں کی تباہی کو کبھی جہاد کہا جا سکتا ہے؟

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں

یہ دہشت گرد اپنے اِن افعال کو جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں حالانکہ حقیقت میں یہ صرف شیطان کے راستے میں جہاد ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا 

 إِنَّمَا جَزَ آؤُا۟ ٱلَّذِینَ یُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَیَسۡعَوۡنَ فِی ٱلۡأَرۡضِ فَسَادًا أَن یُقَتَّلُوۤا۟ أَوۡ یُصَلَّبُوۤا۟ أَوۡ تُقَطَّعَ أَیۡدِیهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم مِّنۡ خِلَـٰفٍ أَوۡ یُنفَوۡا۟ مِنَ ٱلۡأَرۡضِۚ ذَ الِكَ لَهُمۡ خِزۡیࣱ فِی ٱلدُّنۡیَاۖ وَلَهُمۡ فِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ

جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔ 

(سورۃ المائدہ: ۳۳)

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ (م ۵۹۷ھ) فرماتے ہیں

خوارج کے بارے میں لمبی تفصیلات اور عجیب و غریب واقعات منقول ہیں۔ میں یہاں تفصیل سے ذکرنہیں کرنا چاہتا، بلکہ مقصد یہ دکھانا ہے کہ شیطان نے انہیں کس طرح دھوکے میں ڈالا۔ یہ لوگ جلد باز اور ناسمجھ تھے۔ انہوں نے گمان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ غلطی پر ہیں، اور ان کے ساتھ موجود مہاجرین و انصار (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ) بھی غلطی پر ہیں، جبکہ وہ خود حق پر ہیں۔ انہوں نے درختوں کے پھل بغیر قیمت کے کھانا تو حرام سمجھا لیکن بچوں کا خون بہانا حلال سمجھا ! یہ راتوں کو عبادت میں گزار دیتے، مگر دن کو مسلمانوں پر تلوار اٹھاتے۔ ان کی گمراہی اتنی شدید تھی کہ خود شیطان بھی شاید اتنا فتنہ نہ سوچ پاتا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ایسی گمراہی میں نہ ڈالے۔

(تلبيس إبليس، باب: “شیطان کا خوارج کو دھوکہ دینا”، ص ۹۱)


شریعت میں خوارج اور انتہا پسندوں کی مذمت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ حق پر نہیں ہیں

امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے

 باب : التحريض على قتل الخوارج

 خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔ 

اس کے تحت انہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ذکر کی ہے جس میں انہوں نے فرمایا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا

سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

عنقریب آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لو گ کم عمر اور کم عقل ہو ں گے (بظاہر ) مخلوق کی سب سے بہترین با ت کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیرتیزی سے شکار کے اندر سے نکل جا تا ہے جب تمھا را ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے ۔

(صحیح مسلم: 1066، صحیح بخاری: 5057) 

یہ خوارج ہر دور میں یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ شریعت کے نفاذ کے لیے لڑتے اور قتل کرتے ہیں، اور خوف و دہشت پھیلاتے ہیں۔لیکن حقیقت میں یہ سب ان کا فریب اور دھوکہ ہے تاکہ وہ اقتدار حاصل کریں اور اپنے بگڑے ہوئے عقائد کی بنیاد پر زمین میں فساد پھیلائیں۔انہوں نے یہی دعویٰ چوتھے خلیفہ علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی کیا تھا، جیسا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں آتا ہے

قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ: كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا، إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا، مِنْهُمْ، – وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ

خوارج نے کہا: “حکم صرف اللہ ہی کا ہے! ،  علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی صفات بیان کیں میں ان لوگوں میں ان صفات کو خوب پہچانتا ہوں (آپ نے فرمایا): وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ (حق) ان کی اس جگہ۔۔۔  آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ سے آگے نہیں بڑھے گا۔۔۔۔۔

(صحیح مسلم:1066) 

کبار علماء نے خوارج کو دین سے خارج اور ایسے منافق فتنہ پرور قرار دیا ہے جو اسلام میں گھس کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں دین سے خارج کر دیتے ہیں۔ 

جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے۔

(صحیح مسلم: 1066)


اہلِ بدعت اور خوارج شیطان کے فریب میں آکر ایسے ہو جاتے ہیں جیسے پاگل کتّے کی بیماری میں  مبتلا کوئی شخص

 معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ, كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ لِصَاحِبِهِ. وَقَالَ عَمْرٌو: الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ، وَلَا مَفْصِلٌ, إِلَّا دَخَلَهُ

 میری امت میں سے کچھ قومیں نکلیں گی ان میں یہ اہواء ( من پسند نظریات اور اعمال کو دین میں داخل کرنا ) ایسے سرایت کر جائیں گی جیسے کہ باؤلے پن کی بیماری اپنے بیمار میں سرایت کر جاتی ہے ۔  عمرو نے کہا باؤلے پن کے بیمار کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ باقی نہیں رہتا جس میں اس بیماری کا اثر نہ ہو ۔

(ابو دَاؤد، حدیث نمبر 4597 ،حدیث حسن)

یہ لوگ قرآن پڑھیں گے مگر اسے اسی طرح اپنے مقصد اور خواہش کے لیے استعمال کریں گے؛ قرآن ان کی سوچ کے خلاف ہوگا مگر وہ اسے اپنے حق میں دلیل سمجھیں گے۔ وہ اپنے خطبات کو قرآن کی تلاوت سے بھر دیں گے،مگر وہ لوگ اس کے مقصد اور معنی کو اس طرح نہیں سمجھیں گے جیسا اللہ چاہتا ہے۔

 علی رضی اللہ عنہ فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ

 يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ 

میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ (اس طرح) قرآن پڑھیں گے کہ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمہاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمہارے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے۔

 علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

وَٱللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ ٱلْقَوْمَ فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا ٱلدَّمَ ٱلْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ ٱلنَّاسِ فَسِيرُوا عَلَى ٱسْمِ ٱللَّهِ

اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ (خوارج) ہیں، کیونکہ انہوں نے حرام خون بہایا اور لوگوں کے جانور لوٹ لیے۔ لہٰذا اللہ کے نام سے ان کے خلاف نکل کھڑے ہو جاؤ ۔

(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1066)


  خوارج اور دہشت گردوں کے بارے میں مسلمانوں کا موقف

اسلام کے جلیل القدر عالم اور سنت کے سچے داعی، شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا دہشت گرد تنظیم ‘جماعۃ الجہاد’ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا مسلمانوں کو ان کی مدد، حمایت یا ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے؟

انہوں نے فرمایا

ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون جائز نہیں، نہ انہیں سلام کیا جائے، بلکہ ان سے دوری اختیار کی جائے اور لوگوں کو ان کے شر سے آگاہ کیا جائے۔ وہ فتنہ ہیں اور مسلمانوں کے لیے ضرر اور تباہی کا سبب ہیں بلکہ وہ شیطان کے بھائی ہیں۔

(مصدر: کیسٹ نمبر 11، ذوالحجہ 1408ھ / 1987ء، مؤسسۃ التوعیۃ الإسلامیۃ)

یہی خالص اہلِ سنت و جماعت کا (سلفی) موقف ہے خوارج اور دہشت گرد گروہوں کے بارے میں۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا

جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ظاہر ہوتا ہے، اس کے مطابق یہ لوگ کافر ہیں۔ نصوص کی صحیح اور واضح رو سے یہ بات ثابت ہے کہ ان کی شدت پسندی، مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرنا اور مسلمانوں کو دوزخ کے دائمی باشندے قرار دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ لوگ حقیقت میں کافر ہیں۔

کئی علماء انہیں مسلمانوں کی سب سے زیادہ گمراہ اور انتہا پسند فرقوں میں شمار کرتے ہیں۔

وہ چیزیں جو خوارج کے ایمان اور اسلام کو خطرے میں ڈالتی ہیں، وہ ان کے خلاف متعدد احادیث میں دی گئی سخت تنبیہات ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور گروہ کے مقابلے میں خوارج کی سب سے زیادہ مذمت کی، اور احادیث کی کتابوں میں یہ تنبیہات بار بار بیان ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا۔

 الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ

‘خوارج جہنم کے کتے ہیں۔’

( ابن ماجہ، حدیث نمبر 183؛ راوی: ابن ابی اوفی )

ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

يَخْرُجُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ 

وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر اس میں واپس نہیں آئیں گے وہ انسانوں اور مخلوقات میں بدترین ہوں گے۔

 (مسلم حدیث نمبر 1067)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ خوارج کا ہدف مسلمانوں کو مارنا ہوگا

يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ

وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذاب الٰہی سے) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا۔ 

(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3344)


ہر دور میں خوارج ظاہر ہوں گے ، اور اہلِ حق و حدیث انہیں کچل دیں گے

  یہ لوگ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغاوت کرنے لگے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوئے، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جب یہ ایک طاقتور لڑاکا گروہ بن گئے۔ ان میں سے عبدالرحمن ابن ملجم نے علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ تب سے یہ ہر دور میں مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ ایک دن دجال بھی ان کی صفوں میں ظاہر ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

يَنْشَأُ نَشْءٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ، أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً، حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ

    ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا۔

(ابن ماجہ، حدیث نمبر 174 , حدیث حسن)


خوارج دہشت گرد ان بدعات اور گمراہیوں کے پھیلانے کے لیے بھاری گناہوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

من احيا سنة من سنتي فعمل بها الناس، كان له مثل اجر من عمل بها، لا ينقص من اجورهم شيئا، ومن ابتدع بدعة فعمل بها، كان عليه اوزار من عمل بها، لا ينقص من اوزار من عمل بها شيئا

جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس کسی نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا، اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔

(ابن ماجہ، حدیث نمبر 209)


ایک انتہا پسند خارجی کی پانچ نمایاں نشانیاں

١: وہ ہمیشہ مسلمانوں کے ممالک کی سیاسی صورتحال پر بات کرتا رہتا ہے، اور وہاں بغاوت، انقلاب اور حکمرانوں کے خلاف خروج کی دعوت دیتا ہے۔

٢:  وہ مسلم حکمرانوں پر سخت تنقید کرتا ہے، اور جہالت یا گمراہی کے باعث انہیں شریعت کے نفاذ نہ کرنے پر کافر اور مرتد قرار دیتا ہے۔

٣:  وہ موجودہ دور کے انتہا پسند سیاسی نظریات کے بانیوں جیسے سید قطب، حسن البنّا اور ابوالاعلیٰ مودودی کی تعریف و تمجید کرتا ہے۔

٤:  وہ ان مسلمانوں کو جو اس کی انتہا پسندانہ سیاسی سوچ سے اختلاف کریں، کافر قرار دیتا ہے ، یہی تکفیر کہلاتی ہے۔

٥:  وہ دہشت گردوں اور بغاوت کرنے والوں کے پرتشدد اعمال جیسے خودکش حملے اور سر کاٹنے کو “جہاد” یا “قربانی” کے طور پر پیش کر کے ان کی تعریف و تقدیس کرتا ہے۔

 


 

کوئی بھی مسلمان اس وقت خاموش نہیں رہ سکتا جب ظلم یا قتل و غارت اس کے سامنے ہو رہا ہو۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ظلم، فساد اور بےگناہوں کے قتل کو روکنے کی کوشش کریں۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے

مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، هُمْ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ، لَا يُغَيِّرُونَ، إِلَّا عَمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ

جس قوم میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اور ان میں ایسے زور آور لوگ ہوں جو انہیں روک سکتے ہوں لیکن وہ نہ روکیں، تو اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب میں گرفتار کر لیتا ہے۔

(سنن ابن ماجہ: 4009) 

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہر مسلمان اور غیرمسلم کو ان باتوں کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق دے، اور ان گمراہ فرقوں کے بارے میں اسلام کا درست مؤقف سمجھنے کی بصیرت عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اسلام کا اصل پیغام ، جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ، صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق دے۔

اے اللہ! ہمیں اپنی عبادت اور اطاعت ایسی کرنے کی توفیق دے جو تیرے شایانِ شان ہو۔ ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما۔ 

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

اور درود و سلام ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اہلِ بیت، آپ کے صحابہ اور آپ کے سچے

پیروکاروں پر۔

مصدر: یہ اردو ترجمہ ابو خدیجہ عبدالواحد عالم کی ویب سائٹ پر موجود مقالے سے کیا گیا ہے۔

https://abukhadeejah.com/terrorism-is-never-islamic-a-refutation-of-terrorism-based-on-the-texts-of-the-quran-and-sunnah-and-the-sayings-of-the-scholars-ebook/